Shehzadoon Ka Imtehaan

شہزادوں کا امتحان

شہزادی امبر بادشاہ کی اکلوتی اولاد تھی، اس لیے بادشاہ اس سے بیحد محبّت کرتا تھا- اس کی خواہش تھی کہ شہزادی کو ایک ایسا شوہر ملے جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ رحمدل اور بہادر بھی ہ

ہفتہ اپریل

Shehzadoon ka Imtehaan
مختار احمد
بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے، سمندر پار ایک چھوٹے سے ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا- اس بادشاہ کی ایک پندرہ سولہ سال کی بیٹی بھی تھی، جس کا نام شہزادی امبر تھا- شہزادی امبر بے حد حسین اور خوبصورت تھی، یہ ہی وجہ تھی کہ بہت سارے شہزادے شہزادی امبر سے شادی کرنے کے خواہش مند تھے- ہر روز کسی نہ کسی ملک کے شہزادے کا رشتہ آیا کرتا تھا-
چونکہ شہزادی امبر بادشاہ کی اکلوتی اولاد تھی، اس لیے بادشاہ اس سے بیحد محبّت کرتا تھا- اس کی خواہش تھی کہ شہزادی کو ایک ایسا شوہر ملے جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ رحمدل اور بہادر بھی ہو- آخر بہت سوچ بچار کے بعد اس نے اپنے قاصد تمام ملکوں کے شہزادوں کے پاس یہ پیغام لیکر بھجوادئیے کہ شہزادی امبر سے شادی کے لیے بادشاہ ان کا ایک امتحان لینا چاہتا ہے، جو شہزادہ بھی اس امتحان میں پورا اترے گا، شہزادی امبر کو اس کی دلہن بنا دیا جائے گا-
اس پیغام کو پاتے ہی بہت سارے شہزادے شہزادی امبر کے ملک جانے کی تیاری کرنے لگے- ان میں سے ہر ایک شہزادے کو امید تھی کہ وہ بادشاہ کے امتحان میں ضرور کامیاب ہو جائے گا- تمام شہزادے اپنے اپنے ملکوں سے نکل کر بندر گاہ پر جمع ہوگئے- وہاں پر بادشاہ کا ایک خوبصورت جہاز کھڑا تھا- یہ جہاز اسی مقصد کے لیے تھا کہ جو شہزادے شہزادے امبر سے شادی کے خواہش مند ہوں اس میں بیٹھ کر بادشاہ کے پاس پہنچ جائیں-
جب شہزادے جہاز میں سوار ہوگئے تو جہاز کے بادبان کھول دئیے گئے اور جہاز تیزی سے اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگا- شہزادے جہاز پر ادھر ادھر گھومتے ہوۓ باتیں کرنے لگے- وہ سب کے سب بے حد خوبصورت اور ذہین نظر آتے تھے- وہ باتوں کے دوران زور زور سے قہقہے بھی لگا رہے تھے اور ان کے چہروں سے پتہ چلتا تھا کہ وہ بے حد مسرور ہیں-
ان ہی شہزادوں میں ملک خراسان کا شہزادہ بابر بھی تھا- وہ ان شہزادوں سے الگ تھلگ عرشے پر بیٹھا ہوا سمندر کی اونچی نیچی لہروں کو دیکھتے ہوے کچھ سوچ رہا تھا- دوسرے شہزادے اس کی طرف دیکھتے ہوئے زیر لب مسکرا رہے تھے- ان کی آنکھوں میں شہزادے بابر کے لیے حقارت تھی، وہ اسے مغرور اور بد مزاج سمجھ رہے تھے، کیونکہ وہ ان کے ساتھ گھل مل کر بیٹھنے کے بجائے احمقوں کی طرح منہ لٹکا کر ایک طرف بیٹھ گیا تھا- اس پر ایک شہزادے نے دوسرے شہزادے سے دھیمے لہجے میں کہا "اگر شہزادی امبر کی اس احمق شہزادے سے شادی ہو گئی تو میں اپنا نام بدل دوں گا- دیکھو تو کیسے بت کی طرح بیٹھا ہے، حا لا نکہ یہ بات آہستگی سے کہی گئی تھی مگر شہزادہ بابر نے اسے سن لیا اور دھیرے سے مسکرا دیا-
لگاتار تین دن کے طویل سفر کے بعد جہاز امبر شہزادی کے ملک میں پہنچ گیا- تمام شہزادے جہاز سے اترے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہوۓ شاہی محل کی طرف چل دئیے- شہزادہ بابر ان کے پیچھے سر جھکاے چلا آ رہا تھا-
ابھی وہ لوگ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ انھیں ایک امرودوں کا باغ نظر آیا- وہاں پر ایک بہت ہی بوڑھا شخص بیٹھا ہوا تھا- اس نے آواز دے کر شہزادوں کو اپنی طرف متوجہ کیا- شہزادے اس کے پاس گئے- بوڑھے نے اپنی لرزتی ہوئ کمزور سی آواز میں کہا- "اے نوجوانوں میں ایک بہت بوڑھا شخص ہوں کیا مہربانی کر کے تم میرا ایک کام کرو گے؟"-
"بڑے میاں، یہ تمھاری خوش قسمتی ہے کہ تم میرے ملک میں نہ ہوۓ"- ایک شہزادے نے آگے بڑھ کر کہا- "اگر ایسی بات تم میرے ملک میں میرے ساتھ کرتے تو میں تمہاری زبان گدّی سے کھنچوا دیتا- تم شہزادوں سے اپنا کام کروانا چاہتے ہو، کیا یہ تمہارے نوکر ہیں؟"- بوڑھے نے گڑ گڑ ا کر کہا - "میں بہت غریب آدمی ہوں، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اپنے باغ سے امرود توڑ کر میں اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہوں، مگر تم میری حالت دیکھ رہے ہو، میں امرودوں کے درختوں پر چڑھ کر امرود توڑنے سے قاصر ہوں، شہزادے بھی انسان ہوا کرتے ہیں اور انسان ہی انسان کے کام آتا ہے- کیا تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو میری مدد کرسکے؟"-
"اپنی زبان بند کرو"- ایک شہزادے نے آگے بڑھ کر کہا- "یہ بوڑھا تو سر پر ہی چڑھا جا رہا ہے"- یہ کہہ کر اسی نوجوان نے بوڑھے کو ایک ایسا دھکا دیا کہ وہ دور زمین پر جا گرا- تمام شہزادوں نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا، مگر اسی وقت شہزادہ بابر تیزی سے آگے بڑھا اور بوڑھے کو سہارا دیکر اٹھایا- تمام شہزادوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا- پھر ان میں سے ایک شہزادہ بولا- "اس بوڑھے کو سہارا دینے والا یہ نوجوان مجھے شہزادہ تو نہیں بڑ ھئ کی اولاد معلوم دیتا ہے"-
شہزادہ بابر نے کہا - "تم لوگوں کو ایک بوڑھے آدمی کو ستاتے ہوے شرم آنا چاہیے- کیا تم لوگوں کے دلوں میں اپنے سے بڑوں کے لیے کوئی عزت نہیں؟"-
ایک لمبے تڑ نگے شہزادے نے اس کے پاس آ کر کہا - "اپنی یہ نصیحتیں اپنے پاس رکھو، اس بوڑھے کو کیا حق پہنچتا ہے کہ یہ ہم سے امرود تڑوانے کا بیہودہ مطالبہ کرے"-
"اس میں اس بے چارے بوڑھے کا بھی کوئی قصور نہیں ہے، وہ تمہاری شکلیں دیکھ کر یہ سمجھا تھا کہ تم لوگ شریف نظر آتے ہو، اس کی بات مان لوگے، اس کو کیا پتا تھا کہ تم اتنے مغرور اور بدتمیز ہوگے"- شہزادہ بابر نے جواب دیا اور بوڑھے کے کپڑوں سے گرد جھاڑنے لگا، جو زمین پر گرنے کی وجہ سے اس کے کپڑوں پر لگ گئی تھی-
اس کی باتیں سن کر تمام شہزادوں کے چہرے غم و غصّے کی شدت سے سرخ ہو گئے- اسی لمبے تڑ نگے شہزادے نے اپنے ساتھیوں سے کہا "اس بیوقوف شہزادے نے ایک غریب بوڑھے کی حمایت میں ہماری سخت بے عزتی اور توہین کی ہے، اب ہم اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے"-
اس کی بات سن کر تمام شہزادوں نے اس کی تائید کی- ایک شہزادہ جو کہ اپنے اپنے آپ کو تلوار کا دھنی سمجھتا تھا، اپنی میان سے تلوار نکال کر بولا- "میں اس احمق سے تم سب کی بے عزتی کا بدلہ لونگا"-
شہزادہ بابر نے بوڑھے کو ایک طرف ہٹا دیا اور اپنی تلوار نکال کر اس نوجوان شہزادے کے مقابلے میں ڈٹ گیا، مگر وہ نوجوان شہزادہ، شہزادہ بابر کے سامنے زیادہ دیر تک نہیں جم سکا- شہزادہ بابر نے پینترے بدل بدل کر تلوار کے ایسے ایسے ہاتھ دکھاے کہ مد مقابل جلد ہی بے بس ہوگیا- شہزادہ بابر نے تلوار کا ایک ایسا باتھ مارا کہ اس شہزادے کی تلوار اس کے ہاتھ سے نکل کر فضا میں بلند ہوئی اور اس کی نوک امرود کے درخت میں لٹکے ہوۓ ایک بڑے سے امرود میں پیوست ہو گئی، اور پھر تلوار اس امرود میں لٹکی ادھر ادھر جھولنے لگی- تمام شہزادے حیرت سے یہ ماجرا دیکھ رہے تھے- شہزادہ بابر نے آگے بڑھ کر تلوار کی نوک اس شہزادے کی سینے پر رکھ دی، اگر وہ چاہتا تو اس کو ہلاک بھی کر سکتا تھا- ہارنے والا شہزادہ شرمندہ ہو کر ایک طرف کو سر جھکا کر کھڑا ہو گیا- اپنے ساتھی شہزادے کی شکست نے دوسرے شہزادوں کو مزید ناراض کر دیا، ایک شہزادہ پھر تلوار سونت کر آگے بڑھا مگر چند ہی لمحوں بعد اسے بھی شکست کہ سامنا کرنا پڑا- اسی طرح ایک کے بعد ایک شہزادہ بابر نے تمام شہزادوں کو شکست دے دی- وہ تمام کے تمام باغ کی گھاس پر بیٹھ کر ہانپنے لگے- شہزادہ بابر پھرتیلا ثابت ہوا اور اس نے تمام شہزادوں کو جلد ہی تھکا مارا تھا- سب شہزادے اس سے سخت نفرت محسوس کرنے لگے تھے مگر وہ اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے-
ان سے نمٹ کر شہزادہ بابر امرودوں کے درخت پر چڑھ کر بوڑھے کے لیے امرود توڑنے لگا- جب بوڑھے کا ٹوکرا بھر گیا تو شہزادہ نیچے اتر آیا- اور پھر وہ اچانک حیرت زدہ رہ گیا- باغ میں ایک کٹیا بنی ہوئی تھی، اس کٹیا کا دروازہ کھلا اور اس میں سے بادشاہ، ملکہ اور شہزادی باہر نکلے- تمام شہزادے گھبرا کر کھڑے ہوگئے-
بادشاہ نے بابر کا شانہ تھپتھپاتے ہوۓ کہا- "شہزادے ہم تم سے بہت خوش ہیں- تم اب یہ بات اچھی طرح سمجھ گئے ہوگے ہم نے یہ سب چکّر تم لوگوں کا امتحان لینے کے لیے چلایا تھا- ہمیں اپنی شہزادی کے لیے ایک رحم دل اور بہادر شوہر کی تلاش تھی، خدا کا شکر ہے کہ تم ہمارے معیار پر پورے اترے ہو- تم نہ ہی ان دوسرے شہزادوں کی طرح مغرور ہو اور نہ ہی ان کی طرح بدتمیز ہو- ہم اس کٹیا میں بیٹھے سارا تماشا دیکھ رہے تھے- تم نے جس دلیری اور جرات مندی سے ان تمام نکمے شہزادوں کا مقابلہ کیا تھا، اس نے ہمیں تو بہت متاثر کیا ہے"-
تمام شہزادوں نے شرمندہ ہو کر گردنیں جھکا لیں- بادشاہ شہزادہ بابر کو اپنے ساتھ محل میں لے گیا- تمام شہزادے اپنے کیے پر شرمسار تھے اس لیے وہ واپس اپنے اپنے ملکوں کو چلے گئے-
چند ہی دنوں بعد شہزادہ بابر اور شہزادی امبر کی بڑی دھوم دھام سے شادی ہوگئی اور اس طرح شہزادہ بابر اپنی رحمدلی اور جرات مندی کی بنا پر دنیا کی خوبصورت ترین شہزادی سے شادی کرنے میں کامیاب ہو گیا-

Your Thoughts and Comments