Zakhmi Dushman - Article No. 1569

زخمی دشمن

ابھی میں گاڑی اسٹارٹ کرنے کے لیے چابی گھمانے ہی والا تھا کہ میری نظر سامنے سڑک پر پڑی۔میری گاڑی سے کوئی تیس بتیس گز کے فاصلے پر ایک سانپ کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔میں سانپ کو غور سے دیکھنے لگا۔وہ چتر ہاری سانپ تھا۔

ہفتہ نومبر

Zakhmi dushman

ضرغام راجا
رات کی سیاہی پھیلتی جارہی تھی۔میں نے گھڑی میں وقت دیکھا۔ساڑھے سات بج رہے تھے۔چونکہ گرمیوں کے دن تھے ،اس لیے ابھی اتنا اُجالاتھا کہ ہر چیز صاف نظر آرہی تھی۔میں نے گاڑی سڑک کے کنارے روکی۔میں تقریباً تین گھنٹے سے مسلسل گاڑی چلا رہا تھا اور ابھی نوگھنٹے کا سفر باقی تھا۔

میں نے انجن بند کیا اور دروازہ کھول کر باہرنکل آیا۔سورج غروب ہوچکا تھا،مگرآسمان ابھی تک سرخ تھا۔ہوا بہت تیز چل رہی تھی۔سڑک کے دونوں طرف لگے ہوئے گھنے درخت تیز ہوا سے جھوم رہے تھے۔میں نے سڑک پر نگاہ دوڑائی۔دور دور تک کوئی گاڑی نہیں تھی۔
میں نے گاڑی میں سے پانی کی بوتل نکالی اور منھ سے لگا لی۔پانی پی کر میں دوبارہ گاڑی میں بیٹھا۔ابھی میں گاڑی اسٹارٹ کرنے کے لیے چابی گھمانے ہی والا تھا کہ میری نظر سامنے سڑک پر پڑی۔

(جاری ہے)

میری گاڑی سے کوئی تیس بتیس گز کے فاصلے پر ایک سانپ کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔

میں سانپ کو غور سے دیکھنے لگا۔وہ چتر ہاری سانپ تھا۔اس کی کھال ڈھلتی روشنی میں چمک رہی تھی اور سنہری جلد پر پڑے سیاہ دھبے اسے خوف ناک بنا رہے تھے۔
چتر ہاری سندھ کا بہت خطر ناک سانپ تھا۔اب اس کی نسل تقریباً ختم ہو چکی تھی۔
چتر ہاری سانپ کے ساتھ ہی مجھے رضا کا خیال آیا۔رضا میرا سب سے اچھا دوست تھا۔کراچی میں ایک سر کاری لیبارٹری میں کام کرتا تھا اور سانپوں کے زہر پر تحقیق بھی کرتا تھا۔بے اختیار میرا دل چاہا کہ اس چتر ہاری سانپ کو پکڑ لوں۔یقینا یہ تحفہ رضا کے لیے بہترین ہو گا۔
میں نے کار کے ڈیش بورڈ سے بتیس بور کا ریوالور نکالا اور آہستہ سے کار کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔
چتر ہاری سانپ اسی طرح کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔وہ شاید شکار پر حملہ کرنے والا تھا۔میں نے اس کی نظروں کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا ،سامنے دو موٹے تازہ چوہے تھے،سانپ انھیں شکار کرنا چاہتا تھا۔
میں نے اپنا ریوالور سیدھا کیا اور سانپ کے سر کا نشانہ لے کر فائر کر دیا۔اسی وقت سانپ نے چوہوں پر چھلانگ لگا دی،مگر ریوالور سے نکلی ہوئی گولی کی رفتار سانپ کی رفتار سے بہت تیز تھی۔سانپ فوراً ہی زمین پر گر پڑا اور بے سدھ ہو گیا۔

میں دوڑ کر اس کے قریب پہنچا۔گولی کی آواز کی وجہ سے سڑک کے ساتھ جنگل میں شورسا مچ گیا ۔جانوروں میں ایک ہلچل شروع ہو گئی تھی۔مجھے ڈر تھاکہ کہیں گولی کی آواز سن کر کوئی پولیس کی گاڑھی ادھر نہ آجائے،کیونکہ کہ چتر ہاری سانپ کا شکار قانوناً منع تھا۔
لہٰذا میں نے ایک لکڑی سے سانپ کو اُٹھا کر اپنی کار کی پچھلی سیٹ پر ڈالا اور کار اسٹارٹ کرکے روانہ ہو گیا۔
رات کی سیاہی بڑھتی جارہی تھی۔میں نے کارکے اندر کی لائٹ جلادی۔مدھم روشنی میں چتر ہاری سانپ کا جسم بہت خطر ناک دکھائی دے رہا تھا۔
میں نے اپنا دھیان بٹانے کے لیے گنگنا نا شروع کر دیا۔اسی وقت میری گاڑی کو ایک جھٹکالگا۔نہ جانے کیسے وہ سانپ اُچھل کر مجھ پر آن پڑا تھا اور میری گردن سے لپٹ گیا تھا۔میرے منھ سے ایک چیخ نکل گئی اور میں نے جھٹکے سے اپنی گردن سے سانپ کو علیحدہ کرکے پھینک دیا۔
سانپ پچھلی سیٹ پر گرا۔میں نے گاڑی روک کر اسے دیکھا۔وہ مرا ہوا تھا شاید گاڑی کو جھٹکا لگنے کی وجہ سے وہ اُچھل کر میرے اوپر آگرا تھا۔
میں نے چند لمحے سانس درست کی اور پھر گاڑی آگے بڑھادی ،مگر اب میرے اندر اس اعتماد کا کہیں پتا نہ تھا جو سفر شروع کر تے وقت تھا۔
گاڑی تیزی سے اپنا سفر طے کررہی تھی۔میں نے ایک پیٹرول پمپ پر رک کر پیٹرول بھروایا اور پھر اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔میں گنگناتے ہوئے اپنا باقی سفر طے کر رہا تھا۔سانپ کا خوف اب میرے ذہن سے تقریباً نکل چکا تھا۔میں تصور میں رضا کو دیکھ رہا تھا جو چتر
ہاری سانپ پا کر بے خوش تھا۔

اسی وقت میری نظر اپنے سامنے لگے آئینے پر پڑی ۔آئینے میں منظرمجھے نظر آیا وہ مجھے دہشت زدہ کرنے کے لیے کافی تھا۔مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میرے جسم سے جان نکال دی ہو۔آئینے میں منظر ہی ایسا خوف ناک تھا۔میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیسے ہو گیا۔
میں نے گاڑی کی رفتار کم کی اور آہستہ آہستہ گردن گھما کر پیچھے دیکھا۔سانپ پچھلی سیٹ پر اپنی گردن اُٹھائے بیٹھا تھا۔اس کی دو شاخہ زبان بار بار باہر آرہی تھی۔اس کا منھ اپنے ہی خون میں ڈوبا ہوا تھا اور اس کی آنکھوں سے بجلیاں سی نکل رہی تھیں۔
میں نے گاڑی روکنی چاہی ،مگر اس وقت سانپ نے تیزی سے اپنی جگہ تبدیل کی اور میرے سامنے اسٹیرنگ سے ذرا اوپر آکر بیٹھ گیا گویا حکم دے رہا ہو کہ گاڑی چلاتے رہو۔خوف سے میرا بُرا حال تھا۔مجھے اپنی زندگی کا خاتمہ نظر آرہا تھا۔چتر ہاری سانپ کا کا ٹا تو پانی تک نہیں مانگتا۔

میں نے دل ہی دل میں اس وقت کو کو ساجب میں نے سانپ کو شکار کرنے کا سوچا تھا۔میں تیزی سے اپنی بچاؤ کی تدبیر سوچ رہاتھا ،مگر مجھے کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔اس وقت گاڑی کسی اُبھری ہوئی جگہ سے گزری اور ایک جھٹکا سا لگا۔
یہ جھٹکا سانپ کو سخت نا گوار گزرا۔اس نے انتہائی غصے سے میری طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں نہ جانے کیا تھا کہ مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔میں نے دل ہی دل میں کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ آہستہ آہستہ ڈیش بورڈ کی طرف بڑھنے لگا ،جہاں میرا ریوالور رکھا تھا،مگر شاید سانپ نے میرے ارادے کو بھانپ لیا تھا۔
اس نے اپنا رُخ تبدیل کیا اور ڈیش بورڈکی طرف جا کر بیٹھ گیا۔
میرے منھ سے ایک ٹھنڈی سانس نکلی اور میں نے سارا دھیان گاڑی چلانے میں لگا دیا۔مجھے حیرت ہورہی تھی کہ آخر اب تک سانپ نے مجھے ڈساکیوں نہیں جب کہ چتر ہاری سانپ کی فطرت ہے کہ وہ کسی انسان کو زیادہ مہلت نہیں دتیا۔

میری کا ر آہستہ آہستہ حیدر آباد شہر میں داخل ہورہی تھی۔حیدر آباد کے لوگ اپنے گھروں میں سکون کی نیند سورہے تھے ،مگر نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔سانپ میری برابروالی سیٹ پر آچکا تھا اور مجھے گھور رہا تھا۔اس کی زبان بار بار باہرنکلتی تھی۔
شاید وہ مجھے خوف زدہ کرکے لطف اندوز ہو رہا تھا۔اسی وقت میری گاڑی کے قریب سے ایک ٹرک گزرا جس نے تیز ہارن بجایا۔ہارن کی آواز سن کر سانپ کے جسم میں لرزہ سا پیدا ہوا اور اس کے غصے میں اضافہ ہو گیا۔وہ مجھے ایسی نظروں سے دیکھنے لگاگویا یہ قصور بھی میں نے کیا ہو۔
پھر وہ برابر سیٹ پر کھڑ اہو گیا ۔اس کا منھ میرے چہرے کے برابر آگیا۔مجھے اپنا آخری وقت قریب محسوس ہوا۔ بچاؤ کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آرہی تھی۔آج کی رات میری زندگی کی آخری رات تھی،مگر نہ جانے سانپ کے دل میں کیا آئی کہ وہ اپنی پرانی جگہ دوبارہ چلا گیا اور وہیں بیٹھ کر مجھے دوبارہ گھورنے لگا۔

حیدر آباد دور رہ گیا تھا،کراچی قریب آگیا۔اس وقت میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔مجھے معلوم تھا کہ رضا صبح جلدی اُٹھنے کا عادی ہے ۔لہٰذا کراچی میں داخل ہوتے ہی میں نے گاڑی کا رُخ ناظم آبادکی طرف کر دیا،جہاں رضا کا گھر تھا۔
سانپ میرے برابر والی سیٹ پر بیٹھا مسلسل مجھے گھوررہا تھا۔ناظم آباد میں رضا کے بنگلے کے سامنے میں نے گاڑی روکی اور دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ آہستہ آہستہ اسٹیرنگ سے ہٹا کر ہارن پر لایا اور ہارن بجا دیا۔
ہارن کی تیز آواز گونج اٹھی سانپ نے نہایت ناگواری سے میری طرف دیکھا ،مگر میں نے پروا نہ کی اور دوسری بار بھی ہارن بجا دیا۔
تھوڑی دیر میں رضا آنکھیں ملتاہوا بالکونی میں آیا۔میری کار دیکھ کرا س کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے چیخ کر کچھ کہا جو میں نہ سن سکا۔تھوڑی دیر بعد رضابنگلے سے نکلتاہوا نظر آیا۔وہ گاڑی کے پاس آتے ہوئے بولا:”کیاپیروں میں مہندی لگی ہوئی ہے جو کار سے نہیں اُتر رہے؟“جملہ مکمل کرتے ہی رضاکی نظر سانپ پر پڑی ۔
وہ فوراً صورت حال کی
سنگینی کو سمجھ گیا اور بڑی تیزی سے اُلٹے قدموں گھرکی طرف دوڑا۔
میں نے کن آنکھوں سے سانپ کی طرف دیکھا۔وہ بار بار پھنکار کر مجھے ڈرارہا تھا۔اسی وقت رضا اپنے گھر سے نکلا۔اس کے ہاتھ میں اسپرے کرنے والی مشین تھی۔
وہ کارکی دوسری طرف سے آیا اور ناک پکڑ کر مجھے اشارہ کیا ۔میں اس کا اشارہ سمجھ گیا۔وہ مجھے سانس رونے کو کہہ رہا تھا۔میں نے ایک لمبی سانس لی اور سانس روک لی۔اس کے بعد رضا نے اسپرے مشین سے سانپ پر اسپرے کر دیا۔اسپرے مشین میں شاید بے ہوشی کی دوا تھی۔
سانپ پر جیسے ہی دوا کی پھوار پڑی وہ اُچھلا۔اس نے مجھے ڈسنے کی کوشش کی،مگر میں نے چیختے ہوئے دروازہ کھولا اور باہر چھلانگ لگادی۔سانپ میرے پیروں سے لپٹا ہوا باہر گرا۔میں نے اسے جھٹکا اور دور جا کھڑا ہوا۔
”ارے ارے،اب گھبراؤ مت ۔
یہ بے ہوش ہو چکاہے۔“رضا بولا اور اس نے سانپ اپنے ہاتھوں میں ایسے اُٹھالیاجیسے وہ ربر کاہو۔میں گاڑی کو تالا لگا کر اس کے ساتھ گھرمیں داخل ہوا۔اتنی دیر میں ،میں نے اسے مختصراً ساری بات بتادی۔رضا سانپ لے کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔
ملازم نے میرے سامنے چائے رکھ دی۔میں چائے پینے لگا۔
تھوڑی دیر میں رضا بھی کمرے میں داخل ہوا۔اس کے ہاتھ میں وہی سانپ تھا۔اس نے سانپ کو میرے اوپر اُچھا لتے ہوئے کہا:”یہ تو بالکل بے ضررہے۔“
”کیا مطلب !“میں سانپ سے بچتے ہوئے بولا۔

”مطلب یہ کہ تم نے اسے گولی ماری تھی تو گولی نے اس کے زہریلے دانت ہی اُڑادیے تھے۔“رضا نے جواب دیا۔
”یہ کیسے ممکن ہے؟“میں حیرت زدہ رہ گیا۔
“’تم نے بتایا تھاکہ جب تم نے اسے گولی ماری تو یہ شکار کر رہا تھا۔
لہٰذا جیسے ہی اس نے شکار کرنے کے لیے اپنے زہریلے دانت باہرنکالے ،تم نے گولی چلا دی اور گولی نے اس کے دونوں زہریلے دانت ختم کر دیے اور تم راستے بھر ایک بے ضرر سانپ سے ڈرتے رہے،جو کسی کو ڈسنے کے قابل نہیں ہے۔“رضا ہنستے ہوئے بولا اور میرے منھ سے ایک ٹھنڈی سانس نکل گئی۔

Your Thoughts and Comments