Jhoot Sach Adha Adha

Jhoot Sach Adha Adha

جھوٹ سچ آدھا آدھا

بہادر گڑھ نامی ایک شہر میں شیروپہلوان نے اپنی جھوٹی دھاک بٹھارکھی تھی ۔ شیرو لمباچوڑا ، بھاری بھر کم آدمی تھا اور وہ اپنی ظاہری حالت کا فائدہ اٹھا رہاتھا ۔ شہرمیں اس نے پہلوانی کے لیے بڑا عالی شان اکھاڑابنایا، جہاں بہت سے لڑکے ورزش کیا کرتے تھے۔

سید فتح علی انوری :
بہادر گڑھ نامی ایک شہر میں شیروپہلوان نے اپنی جھوٹی دھاک بٹھارکھی تھی ۔ شیرو لمباچوڑا ، بھاری بھر کم آدمی تھا اور وہ اپنی ظاہری حالت کا فائدہ اٹھا رہاتھا ۔ شہرمیں اس نے پہلوانی کے لیے بڑا عالی شان اکھاڑابنایا، جہاں بہت سے لڑکے ورزش کیا کرتے تھے ۔
شیروپہلوان تھوڑی دیر کے لیے آتا تھا ۔ اس کا چوڑاچکلا جسم ، ریشمی لنگی، زریں دوشالہ اورایک ہاتھ میں سونے کی زنجیر دیکھ کر لوگ اس کے رعب میں آجاتے اور اس کاادب لحاظ کرتے ۔ دکان دار بھی اسے بخوشی اُدھاردیتے اور اس کی آؤ بھگت کرتے۔
اس کے اکھاڑے میں ورزش کرنے والے اس کا پرچارکیا کرتے کہ ایسا پہلوان ہے جو صبح وشام ایک پورے بکرے کی یخنی پیتا ہے ،ناشتے میں پچاس انڈے اورایک سیر مکھن کھاتا ہے ، جس نے ایک شیر کا جبڑا ہاتھوں سے مروڑکراس کی مونچھیں اُکھاڑ پھینکی تھیں وغیرہ وغیرہ ۔

(جاری ہے)

بڑے بڑے نامی گرامی پہلوان اس کاادب کرتے اور اس سے ملاقات کے خواہش مند رہتے ۔ اتنا بڑا پہلوان کسی نے دیکھا تھا نہ سنا۔
ایک دوسرا پہلوان بھی اسی شہر میں آبسا ، مگراس بچارے کو کسی نے گھاس ہی نہیں ڈالی۔ اس نے سوچا کہ اگر بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔
اس نے بڑا ادب اور احترام واہتمام کے ساتھ شیروپہلوان کو مقابلے کی دعوت بھیجی ۔ شہر کے چوک میں اس مقابلے کااعلان ہوا، جہاں نئے پہلوان نے کہا : بھائیو! آپ کے شہر کا شیروپہلوان تو دوردور مشہور ہے ۔ میں تو ایک گمنام پہلوان ہوں اور شیروپہلوان کاشاگرد بننا چاہتا ہوں۔
شیرو پہلوان سے ہارنا بھی میرے لیے بڑی عزت کی بات ہے ۔
تمام شہریوں نے اتفاق کیاکہ ملاقات کے بعد مقابلے ضرور ہوناچاہتے ہیں۔ ویسے بھی یہ دُبلا پتلا پہلوان ہمارے شیرو کاکیا بگاڑ سکتا ہے ۔ شیروپہلوان کو بھی یہ دعوت قبول کرنی پڑی ۔

نئے پہلوان پرزبردست رُعب ڈالنے کے لیے شیرپہلوان کے شاگردوں نے زبردست جلوس نکالا ۔ شیروکو زرق برق لباس پہناکر ہاتھی پر بٹھایا۔ بینڈ باجے کے ساتھ جلوس گشت پر نکلا۔ دس پندرہ شاگرد آگے آگے بھنگڑا ڈال رہے تھے اور باقی پندرہ بیس شاگرد لہک لہک کرگانا گارہے تھے ۔

ہمارا شیرو جیتے گا، جیتے گابھئی جیتے گا
سامنے جو بھی آئے گا، اپنے منھ کی کھائے گا
ہمارا شیرو جیتے گا، جیتے گا بھئی جیتے گا
بازاروں اور گلیوں کو سجایا گیا۔ یہ سب باتیں نئے پہلوان کی ہمت پست کرنے کے لیے کافی تھیں ۔
نئے پہلوان نے اکھاڑے میں اُتر کر بڑے ادب سے شیرو کوسلام کیا۔ جھک کر ہاتھ ملایا۔ دونوں پہلوان ایک دوسرے کے گرد چکر کاٹنے لگے اور مناسب داؤپیچ تلاش کرتے رہے ۔ یکایک نئے پہلوان نے شیرو کو اپنے کندھے پراُٹھایا اور بوری کی طرح دھڑام سے فرش پر پھینک دیا۔
شیرو ک ساری شیخی دھری رہ گئی ۔ تماشائیوں نے نعرہ لگایا: غرور کاسر نیچا ۔
شیرو دیر تک زمین پر پڑا رہا۔ اس کے شاگردوں نے اس کازریں دوشالہ اُوپر ڈال دیا۔ اگلے دن سے شیرو شہر میں کہیں نظر نہیں آیا۔ بے چارہ کس منھ سے نظرآیا۔
یہ ہوتاہے جھوٹ ، شیخی اور بڑے بول کا انجام۔
اسی شہر میں ایک اور آدمی سکندرکاں نام کا رہتا تھا ۔ جس کی بزدلی سارے شہر میں مشہورتھی ۔ شہر میں اس کی عمارتی لکڑی کی دکان تھی اور جلانے والی لکڑی کی ٹال بھی تھی مگرتھا وہ بڑا ڈرپوک ، اس لیے لوگ اس کے ڈرپوک ہونے کا فائدہ اٹھاتے تھے ۔
اس کے اپنے بیوی بچے بھی اس کی عزت نہیں کرتے تھے ۔ وہ بے چارہ اپنی فطرت سے مجبور تھا ۔
ایک دن قریب ہی جنگل میں پرانے درختوں اور گھاس پھوس کا نیلام تھا۔ دوسرے ٹھیکے داروں کے ساتھ وہ بھی جنگل گیا۔ دوسرے ٹھیکے داروں نے بڑھ چڑھ کر بولیاں لگائیں اورجنگل کے کئی حصے اپنے نام چھڑالیے ۔
ایک چھوٹا ساحصہ سکندرخاں کو بھی مل گیا جو اس نے غنیمت جانا۔
جنگل کے اگلے سرے پر ایک گاؤں تھا، جہاں سکندرخاں کی بہن رہتی تھی۔ اس نے سوچارات بہن کے گھر گزاری جائے ۔ تھوڑا ساآرام مل جائے گا۔ چنانچہ رات گزار کروہ اگلے دن پوپھٹتے ہی بہادر گڑھ کی طرف روانہ ہوگیا۔

آدھ گھنٹے کے بعد وہ ندی کے کنارے پہنچا تو گھاس پر ایک شیر کو لیٹادیکھ کر اس کے اوسطان خطا ہوگئے ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ ایک جھاڑی کے پیچھے دبک کر بیٹھ گیا۔ دیر تک دم سادھے بیٹھا رہا ، مگر شیر کے جسم میں کوئی جنبش نہیں ہوئی، بلکہ دن نکلتے ہی دو چار گدھا اس پر آن بیٹھے۔
سکندرخاں کو جب پکایقین ہوگیا کہ شیر مرچکا ہے تو وہ اٹھا۔ قریب جاکر دیکھا تو شیر کے گلے کے پاس دوگولیوں کے نشان تھے ۔ اس نے سوچا ضرور کسی شکاری نے رات کو اسے نشانہ بنایا ہے ۔ شیر جہاں تک بھاگ سکتا تھا، بھاگا ہوگا اور ندی کے قریب آکر دم توڑدیا۔
سکندر کے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔ اس نے جیب سے چاقو نکالا اور شیر کی کھال اُتاری ، کھال کوندی کے پانی سے دھو کر صاف کیا اور اسے کندھے پرڈال کرشہر کی طرف چل دیا۔
شہر پہنچتے پہنچتے دن پوری طرح نکل چکا تھا۔ بازاروں میں چہل پہل شرور ہوگئی تھی ۔
لوگوں نے سکندر خاں کو کندھے پر شیر کی تازہ کھال ڈالے آتے دیکھا توحیران رہ گئے ۔ لوگ یہی سمجھے کہ انھوں نے سکندر خاں کو غلط سمجھا۔ بزدل لگتاتھا، مگر نکلا بہت بہادر۔ اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس نے رات بھرشیر کامقابلہ کیا اور خالی ہاتھوں شیر کو مارڈالا۔
لوگوں نے سکندر خاں کو گود میں اٹھالیا۔ پھولوں کے ہار پہنائے اور جلوس کی شکل میں اس کے گھر لے گئے ۔
اس دن سے سارے شہر میں سکندرخاں کی بہادری کے چرچے ہونے لگے ۔ سکندر خاں کو کسی پر چار کی ضرورت ہی نہیں تھی ، مگر اس بہادری کی حقیقت صرف اس ہی کو معلوم تھی ۔ اگر وہ گولیوں کے نشان دکھا کر سچ سچ بتاتا کہ بجائیو! یہ شیر تو مرا پڑا تھا۔ میں نے مردہ شیر کی کھال اُتارلی ، تواس کی بنی ہوئی عزت مٹی میں مل جاتی ۔

Your Thoughts and Comments