nonhalon mein khud itmadi peda karen

Nonhalon Mein Khud Itmadi Peda Karen

نونہالوں میں خود اعتمادی پیدا کریں

دماغی صلاحیت ہر کسی فرد میں برابر پائی جاتی ہے مگر اس کے استعمال کی شرح ہر کسی میں مختلف ہے، قدرت کی عطا کردہ دیگر نعمتوں کی طرح دماغ بھی ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔

عیشتہ الرّاضیہ
دماغی صلاحیت ہر کسی فرد میں برابر پائی جاتی ہے مگر اس کے استعمال کی شرح ہر کسی میں مختلف ہے، قدرت کی عطا کردہ دیگر نعمتوں کی طرح دماغ بھی ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اگراس کا صحیح استعمال بروئے کار لایا جائے تو انسان چاند اور مریخ پر قدم جما لیتا ہے، اس پر کائنات کے اسرار و رموز عیاں ہوتے چلے جاتے ہیں اور یہ سٹیفن ہاکنگ کی طرح اپنی تخلیقی مشاہدات کے ذریعے دنیا کوحیران و ششدر کرکے رکھ دیتا ہے۔


جبکہ اس کے برعکس اگر یہ غور و فکر اور دماغی قابلیت و صلاحیت کو استعمال نہ کرے تو پھر یہ ایک ایسا ربورٹ بن جاتا ہے جسے صرف کھانے، پینے، سونے جاگنے سے سروکار رہتا ہے لہذا ضروری ہے کہ بچپن ہی سے بچوں میں ذہنی استعداد اور صلاحیت کو بروئے کار لانے کی عادت ڈالی جائے۔

(جاری ہے)


والدین اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ ذہین و فطین دیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں ان کی خواہش رہتی ہے کہ ان کے بچے بڑے ہو کر آئن سٹائن کی طر ح کوئی بڑا سائنسدان بنے یا کوئی نامور ڈاکٹر بنے۔
بچوں کو صرف یہ دو ہدف دے دیئے جاتے ہیں کہ یا تو ڈاکٹر بننا ہے یا کوئی سائنسدان۔
اس مقصد کے حصول کے لئے والدین مختلف طریقے بھی اپناتے ہیں۔ انہیں بہتر سے بہتر سکول میں پڑھایا جاتا ہے اس کے علاوہ شام کے اوقات میں بہترین ٹیوٹر لگوایا جاتا ہے تاکہ امتحانات میں ان کے بچے زیادہ سے زیادہ اچھے گریڈ سے کامیابی حاصل کرسکیں۔
دن رات ان پر پڑھائی اور دوسروں سے بہتر کارکردگی دکھانے پر زور دیا جاتا ہے۔ بے شک والدین ہی اپنے بچے کے لئے اچھا سوچ سکتے ہیں اور یہ ہمیشہ بچوں کی بھلائی اور بہتر مستقبل کے لئے بھی کوشاں رہتے ہیں لیکن مقابلے اور بہتر نتائج کی دوڑ میں وہ یہ اکثر بھول جاتے ہیں کہ ہر کسی بچے کی ذہنی استعداد بروئے کار لانے کی صلاحیت یکساں نہیں ہوتی۔
بعض بچے کم سنی میں تنہائی، لاپرواہی جیسی عادات کے ساتھ بول چال میں نہایت کمزور واقع ہوتے ہیں۔ یہ محفل میں بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ کمرئہ جماعت میں تمام بچوں کے درمیان سوال کا جواب دینے میں جھجک محسوس کرتے ہیں ایسے میں والدین ان کا دوسرے بچوں سے مقابلہ کرکے ان میں احساس کمتری پیدا کر دیتے ہیں جو آگے چل کر زندگی کے ہر شعبے میں ان کے لئے مسائل کا باعث بنتا ہے۔

بجائے یہ کہ آپ بچے پر زور زبردستی اور ڈانٹ ڈپٹ کے ہتھیار استعمال کریں آپ ان سے دوستی کا رشتہ استوار کیجئے ان کے پاس بیٹھیں، ان سے ان کے دل کی بات دوست بن کر پوچھیں، یہ اپنے مسائل کی وجوہات آپ کو خوش دلی سے بتائیں گے، اگر یہ کسی مضمون میں کمزور ہیں مثلا اکثر بچے حساب کے اعداد و شمار کو سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں یہ اعدادو شمار ان کے ذہن میں پہیلیوں کی طرح گردش کرتے ہیں، ایسی صورتحال میں اگر بچے اپنے خیالات ماں یا باپ کو بتاتے ہیں تو ضروران کی یہ پریشانی دور ہو گی۔
مصر کے ایک ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر مجد العمرودی نے اخبار ’’الیوم السابع‘‘ سے بات کرتے ہوئے ایسے آٹھ مفید مشورے بیان کئے جو تمام والدین بالخصوص مائوں کے لئے انکے بچوں کی ذہنی نشوونما کے حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
ایسے بچے جو احساس کمتری، بول چال میں جھجک محسوس کرتے ہیں ان کے لئے ان نفسیاتی مسائل کو ان طریقوں سے دور کیا جا سکتا ہے۔
٭ بچے میں خود اعتمادی پیدا کریں، چونکہ بچہ اپنے ماں باپ کی آنکھوں میں خود کو دیکھتا ہے اگر بچے کی زیادہ سے زیادہ تعریف و توصیف کی جائے گی تو اس میں خوداعتمادی کا اضافہ ہو گا اور یوں اس کی ذہنی صلاحیتوں کی بہتر انداز میںنشوونما ہو سکے گی۔

٭ بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش صرف والدین تک محدود نہیں رہنی چاہئے بلکہ اس عمل میں اساتذہ بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بچے کو محدود ذہنیت کا الزام نہیں دیناچاہئے بلکہ مائوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں میں خوداعتمادی پیدا کرنے کے لئے اس کے اساتذہ اور دوستوں کو بھی اس بات پر قائل کریں کہ وہ بچے میں خود اعتمادی کو فروغ دیں۔

٭ بچے کوڈرانے دھمکانے اور اسے دوسرے بچوں کی نظر میں گرانے سے گریز کریں چاہے وہ بار بار غلطی کیوں نہ کریں بار بار کی ڈانٹ ڈپٹ سے بچہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔
٭ بچوں کی ان خوبیوں کو تلاش کریں جو انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہیں۔
ان کی آواز، انداز گفتگو کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دیں۔ انہیں گھر میں بھی ایسا ماحول فراہم کریں تاکہ وہ سکول میں بھی اپنے اندر اعتماد پیدا کر سکیں۔
٭ بچے کی ذہانت سے زیادہ اس پر کام کا بوجھ نہ ڈالیں ایسا نہ ہو کہ کام کے بوجھ تلے دب کر بچہ ناکام اور مایوس ہو جائے۔

٭ بچے کی محدود صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں ہمہ وقت اس کی مدد جاری رکھیں۔
٭ دوسرے بچوں کے سامنے اپنے بچے کونفسیاتی طور پر گرانے کی کوشش نہ کریں بلکہ دوسروں کے سامنے بھی اپنے بچے کی تعریف کریں۔
٭ بچے کے پسندیدہ مشاغل میں اس کی مدد کریں تاکہ اس میں دوسرے بچوں کے درمیان رہتے ہوئے خوداعتمادی کا احساس پھلتا پھولتا رہے۔

اگر والدین اور اساتذہ ان عوامل پر عمل کریں گے تو یقینا وہ بچے میں مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔یہ بنا کسی ذہنی دبائو اورگھٹن کے جی سکیں گے۔

Your Thoughts and Comments