Akhabarat Parhain Ya Blood Pressure Lain

اخبارات پڑھیں یا بلڈ پریشر لیں

ہفتہ نومبر

Akhabarat Parhain Ya Blood Pressure Lain
سید عارف نوناری
لوگ اخبارات کیوں‘کس لئے پڑھتے ہیں۔اخبارات اصل میں سائنسی‘دینی‘مذہبی‘سیاسی وسماجی حالات و معلومات اور دوسری دیگر معلومات فراہم کرتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ملک میں تقریباً 80فیصد لوگ اخبارات ضرور پڑھتے ہیں۔سوچنے کی بات ہے کہ جب اخبارات رسائل و جرائد نہیں ہوتے تھے تب لوگ یا عوام اخبارات کے مقاصد کیسے حاصل کرتے تھے۔

  دیکھنے میں آیا ہے کہ 60 فیصد لوگ محض سیاسی خبروں کی طرف توجہ دیتے ہیں سیاست کے علم کو نا جاننے کی وجہ سے وہ سیاسی خبروں کو نہیں سمجھ پاتے۔اخبارات و جرائد اور رسائل میں عوام کی خواہشات اور تقاضوں کو مد نظر رکھ کر مواد دینا ہوتا ہے۔کرائمز کی خبریں بھی لوگ توجہ سے پڑھتے ہیں جس سے ملک میں تشدد کے رجحانات سے لوگ آگاہ ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)


نوجوان طبقہ خاص کر فلمی صفحات کو دلچسپی سے پڑھتا ہے معاشرہ کا 50 فیصد حصہ نوجوان طبقہ پر مشتمل ہے لہٰذا فلمی صفحات خاص کر نوجوان طبقہ کی ضروریات کے مطابق شائع کئے جاتے ہیں۔

کرائمز کی خبریں اصل میں لوگ زیادہ دلچسپی سے اس لئے پڑھتے ہیں کیونکہ وہ معاشرہ میں تشدد کے واقعات سے جرائم کے تناسب کا اندازہ لگاتے ہیں تاکہ معاشرہ میں اس کے رجحانات کا بھی پتہ چل سکے۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ زیادہ تر لوگ اخبار کی موٹی موٹی سرخیاں پڑھتے ہیں ایک تو ان کے پاس وقت کم ہوتا ہے دوسرا یہ کہ لوگ تفصیلات سے خبریں پڑھنا پسند نہیں کرتے۔

اگر کرتے ہیں تو وہ لوگ جن کے پاس فالتو وقت ہوتا ہے۔ہر اخبار خبروں کے ساتھ ساتھ سیاسی خواتین‘ طلبہ‘ فلمی‘ادبی اور بچوں کے رنگین صفحات شائع کرتا ہے لیکن ان میں موجود مواد بہت کم پڑھا جاتا ہے جبکہ رنگین تصاویر خاص کر خواتین کی تصاویر کو خصوصی طور پر دیکھا جاتا ہے۔بعض لوگ تو فقط وقت پورا کرنے کے لئے اخبارات ورسٹائل اور جرائد کی سٹڈی کرتے ہیں پڑھا لکھا یعنی اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ رنگین صفحات میں آرٹیکل‘فیچر رپورٹوں کو دلچسپی سے پڑھتا ہے رنگین صفحات میں مواد ایک تو کرنٹ ایشو موضوعات پر ہوتا ہے دوسرا ہر فیلڈ کا مواد ہوتا ہے۔

اخبارات کو کس طرح پڑھا جائے اور کیوں پڑھا جائے یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ اخبارات صرف عالمی حالات سے واقفیت اور اپنے ملک کے حالات سے آگاہ رہنے کے لئے سٹڈی کیے جاتے ہیں۔پاکستان میں سیاسی نیوز‘تبصروں‘مضامین کو زیادہ شوق سے پڑھا جاتا ہے کیونکہ پاکستان کی سیاست اور سیاسی بیانات ہی لچھے دار ہوتے ہیں۔خبر لوگوں کی توجہ اخبارات کی طرف دلاتی ہے یا پھر بعض اخبارات بھی فلمی ڈراموں کی خبروں کو دلچسپی سے لیتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ اگر اخبارات میں خواتین اور فلموں کے متعلق تصاویر شائع نہ کی جائیں تو اخبارات کی سرکولیشن یقینا کم ہو جائے۔

ایڈیٹوریل‘مستقل کالم‘اداریہ کو بہت کم لوگ ایسے ہیں جو مسلسل پڑھتے ہیں۔صرف ایم اے کے طلبہ یا مقابلہ کے امتحان کی تیاری کرنے والے طلبہ توجہ اور لگن سے ان صفحات کو باقاعدگی سے پڑھتے ہیں اگر دیکھا جائے تو یہ صفحہ اخبار کی جان ہوتا ہے یہ سیر حاصل مواد اور تبصرہ فراہم کرتا ہے۔جمعہ میگزین میں موجودہ حالات بلکہ ہر ملک کے حالات کی تفصیلات دیکھنے کو ملتی ہیں دیکھنے میں آیا ہے کہ جمعہ میگزین کی صرف سرسری طور پر ورق گردانی کی جاتی ہے حالانکہ اس میں سنجیدہ واقعات اور کرنٹ ایشو موضوعات کو ٹچ کیا ہوتا ہے عوام یہاں بھی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ صرف رنگین تصاویر ہی کو دیکھتے ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ عوام اخبارات ورسائل اور جرائد کا مطالعہ سنجیدگی سے نہیں کرتے۔اصل میں اخبار کے سنجیدہ مطالعہ کی انہیں ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔بعض بہت کم پڑھے لکھے لوگ اور بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی اپنے سٹینڈرڈ کو شو کرنے کے لئے اخبارات کا مطالعہ بڑے سٹائل سے کرتے ہیں اور دوسروں کو ظاہر کرتے ہیں کہ ہم تمام عالمی حالات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔


بعض اخبارات نے انٹرنیشنل نیوز کا علیحدہ حصہ مختص کر دیا ہے تاکہ ریڈر آسانی سے غیر ملکی نیوز دیکھ سکے مشاہدہ میں بات آئی ہے کہ بہت ہی کم لوگ اس صفحہ پر توجہ دیتے ہیں بلکہ صرف ضرورت مند ہی انٹر نیشنل نیوز کو پڑھتے ہیں ۔لوگ یا عوام صرف اخبارات سے تفریح حاصل کرتے ہیں اور سیاست کی نیوز کو مزے لے کر پڑھتے ہیں۔اگر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کے اخبارات کے ریڈرز کے سلسلہ میں موازنہ یا مقابلہ کیا جائے تو بہت سے اختلافات نظر آئیں گے۔

ترقی یافتہ ممالک میں اخبارات کو دلچسپی و سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے وہاں کی صحافت اور یہاں کی صحافت میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے۔یہاں حقائق کو چھپایا جاتا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک یا یورپ میں بہت کم ایسا ہوتا ہے ۔نواز شریف کا اخبارات کے متعلق تازہ ترین بیان اس بات کی تصدیق کرنے کے لئے کافی ہے۔عوام اخبارات کیوں پڑھتی ہیں تاکہ وہ اپنا تحفظ کر سکیں اور ملک و عالمی حالات و واقعات سے اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کے قابل ہو سکیں لیکن پاکستان میں یہ سوچ بہت کم پائی جاتی ہے۔


نیوز اصل میں وقتی تسکین کا سبب بنتی ہیں۔سیاسی و مذہبی مسائل نیوز کے تراشے متعلقہ محکموں کو بھجوائی جاتی ہیں ان پر انکوائری کی شکل میں بعض اہم مسائل حل بھی ہو جاتے ہیں۔سماجی مطالبات اجاگر کرنے میں اخبارات بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اخبارات کے مطالعہ سے علاقائی مسائل و مطالبات بھی منظر عام پر آتے ہیں جس سے حکومت بھی بروقت آگاہ ہوتی ہے اس طرح حکومت کی توجہ مسائل کی طرف مبذول کروانے میں اخبارات کا اور عوام کا بہت حصہ ہوتا ہے۔

اخبارات کا مطالعہ کیوں کیا جاتا ہے۔
پولیٹکل خبریں ہی لوگ اصل میں پڑھ کر تسکین محسوس کرتے ہیں۔بچوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کے متعلق بھی چھوٹا میگزین اخبار شائع کرتا ہے۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اخبارات و جرائد اور رسائل اطلاعات تازہ بہم پہنچاتے ہیں جن کو پڑھنا قاری کی عادت ہوتی ہے۔سپورٹس سے دلچسپی رکھنے والے سپورٹس کی خصوصی خبریں اور سپورٹس کے رنگین صفحات کو پڑھتے ہیں۔

اخبارات میں انسان کے رجحانات کا مواد شامل کیا جاتا ہے۔
ایک اندازہ کے مطابق 10 فیصد لوگ اخبارات خریدتے ہیں۔70فیصد خریدنے کے بغیر دکانوں‘ہوٹلوں‘دفتروں میں پڑھتے ہیں ۔بغیر خریدنے کے اخبارات پڑھنے میں قاری کی دلچسپی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ عوام اخبار میں کیا پڑھتے ہیں اس کی اہمیت و افادیت بھی واضح ہو جاتی ہے۔اخبارات کا لے آؤٹ بھی قاری کے چوائس پر اثر انداز ہوتا ہے جیسا کہ جنگ کے قارئین زیادہ ہیں جبکہ نوائے وقت‘پاکستان‘مشرق کے قارئین روزنامہ جنگ کی نسبت کم ہیں۔

بعض اخبارات کامرس کا صفحہ بھی شائع کرتے ہیں جو تجارتی کاروباری آدمیوں کو بین الاقوامی تجارتی حالات سے آگاہ کرتے ہیں۔دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ فرنٹ پیج اور بیک پیج کی اہم نیوز کی سرخیاں زیادہ توجہ سے قاری پڑھتے ہیں جبکہ اندر کے صفحات کو کم ہی توجہ سے پڑھا جاتا ہے حالانکہ اندر کے صفحات علاقائی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اخبار کے پڑھنے سے مقاصد ہر قاری کی نظر میں علیحدہ علیحدہ ہیں ضروریات اور رجحانات اخبار کے قاری کی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔


عوام اخبارات ورسائل اور جرائد کیوں‘کیسے‘کس کے لئے پڑھتے ہیں۔ان سب سوالوں کا جواب صرف ایک ہی ہے کہ مختلف مقاصد کا حصول قاری کو مجبور کرتا ہے۔باقی مسئلہ رہا اخبارات کو کیسے پڑھا جائے یہ انفرادی سوچ پر منحصر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد عوام کی ضروریات‘مطالبات‘رجحانات کو مد نظر رکھیں تاکہ معاشرہ کی اصلاح کے ساتھ ساتھ صحافتی تقاضے بھی پورے ہو سکیں۔

Your Thoughts and Comments