Balaye Jaan

بلائے جان

عطاالحق قاسمی بدھ ستمبر

Balaye Jaan
مہمان کو خدا کی رحمت کہاجاتا ہے اور کچھ لوگوں پر اس رحمت کا نزول بے حساب ہوتا ہے مگر جس طرح ہم پانی ہوا‘ دھوپ اور قدرت کی طرف سے عطا کردہ اس نوع کی دیگر نعمتوں کا شکریہ یوں ادا نہیں کرتے جیسا کہ حق ہے ‘ بالکل اسی طرح ان دنوں متذکرہ رحمت کو اس طرح خوش آمدید نہیں کہا جاتا جس طرح کہ کہا جانا چاہئے بلکہ ہوتا یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر اس کے ناسپاس بندے پچھلے دروازے سے فراز ہونے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس کوشش میں کامیابی ممکن نہیں ہوتی کہ مہمان بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں ۔


 ممکن ہے اس ” کفران نعمت “ کا ایک سبب روز افزوں مہنگائی ہو‘ دوسرا سبب یہ ہو کہ اب پہلے زمانے کے برعکس آنا بھی مہمان کے بس میں ہے اور جانا بھی اس کی مرضی پر منحصر ہوکررہ گیا ہے ۔

(جاری ہے)

ایک ایسا ہی مہمان مع اہل وعیال جب کسی کے ہاں جاکر ”لنگر انداز“ ہوا اور پھر وہاں سے مہینوں ٹلنے کا نام نہ لیا تو میزبان اور اس کے بیوی بچوں کا ناک میں دم آگیا۔

ایک روز میزبان کے بچے نے کسی بات پر رونا شروع کیا تو رورو کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ جب وہ بہلائے نہ بہلا تو ماں نے اسے گود میں اٹھایا اور ایک کونے میں لے جا کر اس کے آنسو پونچھتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں کہا : چپ کر میرے لال ‘ یہ مہمان جالیں ‘ توپھر اکٹھے بیٹھ کر روئیں گے ۔
مہمانوں کے ضمن میں کبھی یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ان پراٹھنے والے اخراجات سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ دانے دانے پر مہر لگی ہوتی ہے مگر اب یہ حقیقت بھی رفتہ رفتہ کچھ اور رنگ اختیار کرتی جارہی ہے ‘ کیونکہ ان دنوں یا لوگ مہر جیب میں لئے پھرتے ہیں اور جہاں کوئی دانہ نظر آتا ہے جھٹ اس پرمہر داغ دیتے ہیں اور پھر اس کے حقدار بن بیٹھتے ہیں ۔

ایک اسی طرح کا ”مہر بدست‘ حق دار گھوڑے پر سوار ہو کر کسی گاؤں میں اپنے عزیز کے ہاں مہمان ہوا۔ میزبان نے زبانی کلامی اس کی بہت آؤبھگت کی۔ شام کوکھانے کا وقت ہوا تو اس نے گھر والی سے کہا کہ آج گوشت کا ناغہ ہے لہٰذا کدو پکالیا جائے اس نیک بخت نے کہا ٹینڈے گھر میں موجود ہیں ‘ لہٰذا وہی پکا دیتی ہوں۔
میزبان نے گھر میں مرغیاں پالی ہوئی تھیں اور ان میں سے ایک اس وقت صحن میں گھو م رہی تھی ۔

مہربدست “ مہمان نے یہ ” دانہ “ دیکھا تو میزبان سے کہا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے آپ کھانے کے لئے گھوڑا ذبح کرلیں میں مرغ پر سوار ہو کر واپس گاؤں چلا جاؤں گا۔ “
غالباً یہ مہمانوں کے ا س استحصالی رویے ہی کا نتیجہ ہے کہ اب میزبان بھی بہت سیانے ہوگئے ہیں اور انہوں نے ایسی مروت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے جس کہ باعث ان کا اپنا بجٹ خسارے میں جانا شروع ہوجائے گزشتہ دنوں ہم ساہیوال میں مقیم اپنے ایک دوست سے ملاقات کے لئے طویل مسافت طے کرنے کے بعد قریباًنوبجے شب اس کے گھر پہنچے تو اس نے فوراً ہمارے لئے کھانا تیار کرایا اور جب ہم کھانے وغیرہ سے فراغت کے بعد ٹانگیں پسار کرذرا ستانے لگے تو دوست نے ازراہ محبت کہا : میری خواہش تویہ ہے کہ تم آج میرے ہاں قیام کرو ‘ مگر تمہاری سہولت اسی میں ہے کہ راتوں رات واپس بیوی بچوں کے درمیان پہنچ جاؤ۔

اب جس طرح سہولت ہو۔ “
کچھ میزبان جو مزید سیانے ہوتے ہیں وہ ہرایک کو اپنے ہاں مدعو کرتے نظر آتے ہیں اور ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اپنی آمد کی تاریخ سے ضرور مطلع کردینا تاکہ تمہیں کوئی پریشانی نہ ہو۔ سادہ لوح مہمان ایسا ہی کرتا ہے‘ چنانچہ واپسی ڈاک اسے یہ جواب موصول ہوتا ہے کہ ” اپنی آمدذرا کچھ دنوں کے لئے ملتوی کردو“ کیونکہ عین اسی تاریخ کو مجھے ایک سرکاری کام کے لئے شہر سے باہر جانا پڑرہا ہے ۔


مہمانوں کی پیش قدمی کو ” پسپائی “ میں تبدیل کرنے کے لئے ایک طریق کار وہ بھی ہے جو کسی نے اپنے متوقع مہمان پر آزمایا تھا اور سینٹ پر سینٹ کامیابی حاصل کی تھی ۔ مہمان نے آمد کی تاریخ دے کر اپنے میزبان دوست کا پتہ دریافت کیا تو اس نے پوری طرح یہ سمجھانے کے بعد کہا کہ جب تم میرے مکان کے دروازے تک پہنچ جاؤ تو اسے پاؤں سے ٹھوکر مارنا وہ کھل جائے گا۔

اس کے بعد ایک اور کمرہ آئے گا اسے بھی پاؤں سے ٹھوکر لگانا اور وہ فوراََ کھل جائے گا۔ بعدازاں دائیں جانب مڑنے کے بعد کمرہ نظر آئے ‘ اسے ٹھوکر لگانا میں اس کمرے میں بیٹھا تمہارا انتظار کر رہا ہوں گا ۔
مہمان نے یہ سب کچھ سنا تو حیرت سے پوچھا کہ آخر سب دروازوں کو ٹھوکر سے کھولنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ کام تو ہاتھ سے بھی ہوسکتا ہے ۔ اس پر میزبان نے کہا : ہاتھ سے کیسے ہوسکتا ہے ؟ تم اتنی دیر بعد میرے گھر آرہے ہو ‘ تمہارے دونوں ہاتھ توتحفے سے اٹے ہوں گے ۔

سو ظاہرہے دروازے پاؤں ہی سے کھولنے پڑیں گے ۔
اور غالباََ مہمانوں کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ الٹا میزبان کو دوسرے روز ایک خط موصول ہوا جس میں مہمان نے یہ معذرت کی تھی کہ وہ طے شدہ تاریخ کو اس کے ہاں نہیں پہنچ سکے گا ‘ کیونکہ اسے ایک سرکاری کام کے لئے شہر سے باہر جانا پڑرہا ہے ۔

Your Thoughts and Comments