Bhool Chuk

بھول چوک

جمعرات مارچ

Bhool Chuk
کرنل ضیاء شہزاد
اچھی تربیت ہمیشہ سے پاک فوج کا طرہ امتیاز رہی ہے۔ زمانہ امن میں یہی فوج کی اولین ترجیح ہوتی ہے جس کے لئے ان تھک محنت کی جاتی ہے۔ اس بارے میں ایک صوبے دار میجر صاحب نے ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا: ” صاحبو، میں نے فوج میں پینتیس سال زیرِ تربیت رہ کر بسر کیے ہیں۔ درحقیقت تربیت تو پہلے سال ہی حاصل کی تھی جب کہ باقی کے چونتیس سال اسی عمر کو دہراتے ہوئے گزرے ہیں۔


عملی تربیت کے لئے فوجی یونٹیں دو سال میں ایک مرتبہ بھاری ہتھیاروں یعنی توپوں اور ٹینکوں کی فائرنگ رینج پر قیام کرتی ہیں جس کے دوران ان ہتھیاروں کے حقیقی فائر کا اہتمام کیاجاتا ہے۔ یہ ہر یونٹ کے لئے سخت امتحان کا موقع ہوتا ہے جس سے بخوبی عہدہ برا ہونے کے لیے چھاؤنی میں مہینوں قبل انتہائی زور وشور سے تیاریاں شروع کردی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

اس دوران توپوں کی صفائی اور گولوں کی ستھرائی کا بطور خاص اہتمام کیاجاتا ہے۔ یہ سب اس لیے بھی ضروری ہوتا ہے کہ یونٹ جب تربیتی علاقے میں پہنچے تو ہر طرح کے کیل کانٹے کے ساتھ لیس ہوتا کہ کم وقت میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیاجاسکے۔
ایک ایسی ہی جنگی مشق کے لئے ہمیں اوکاڑہ سے خیرپور ٹامے والی فائرنگ رینج پر پہنچ کر دو ماہ کے لئے وہاں قیام کرناتھا۔

یونٹ میں مہینوں پہلے کڑی تیاریاں شروع کردی گئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان تیاریوں میں مزید تیزی آتی چلی گئی ۔ آخر خدا خدا کر کے وہ دن آن پہنچا جب یونٹ نے رخت سفر باندھ کر اٹھارہ توپوں کہ ہمراہ چھاؤنی سے کوچ کرناتھا۔ تقریباً سات گھنٹوں کے لگاتار سفر کے بعد جب ہمارا قافلہ منزل مقصود پر پہنچا تو رات کا اندھیر اچھا چکاتھا۔ سامان اتارنے کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف خیموں کی ایک چھوٹی سی بستی آباد ہوگئی۔

ایک مناسب جگہ پر لنگر ( 1) نصب کیا گیا اور کچھ ہی دیر میں گرماگرم کھاناتیار کرکے پیش کردیاگیا۔ ایک بڑے سے خیمے میں میس کا انتظام کیا گیا جہاں بیٹھ کر سب افسروں نے لالٹین کی روشنی میں کھانا تناول کیا۔ اگلے روز سے گولہ باری کی مشق کا باقاعدہ آغاز ہونا تھا اس لیے محفل جلد ہی برخاست کردی گئی اور سی اوسمیت سب لوگوں نے شب باشی کے لئے اپنے اپنے خیموں کا رخ کیا۔


اگلی صبح کا آغاز کچھ ایسا اچھا نہ تھا۔ سی او میس میں تشریف لائے تو ان کے چہرے سے ناراضی عیاں تھی۔ چھوٹتے ہی ٹوآئی سی کی طرف رخ کرکے فرمانے لگے: ”امجد ، میری تو تمام رات آنکھوں میں ہی کٹی ہے۔ ” ٹوآئی سی سٹپٹائے :” سر ایسا کیوں کر ہوسکتا ہے؟ میں نے تو آپ کے خیمے کے لئے بہترین جگہ کا انتخاب کیاتھا تاکہ آپ سکون سے رات بسر کر سکیں۔ “ سی او گرجے : میجر صاحب ، آپ اس بات پر یقینا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز کے مستحق ہیں کہ آپ نے میرا خیمہ لنگر کے عین ہمسائے میں نصب کروایا۔

رات پھر بکریوں کی میں میں نے آسمان سر پر اٹھائے رکھا، پوٹھتے ہی مرغوں نے اذانیں دینا شروع کردیں اور دن چڑھے باورچیوں کی قوالی شروع ہوگئی۔ اب ایسے شاندار ماحول میں سونا تو درکنار کوئی پلک بھی کیسے جھپک سکتا ہے ؟ “
یہ قضیہ ابھی جاری تھا کہ صوبے دار میجرصاحب ایک کونے سے پردہ اٹھا کر نمودار ہوئے اور سی او کو سیلوٹ کیا۔ سی او اپنی پریشانی بھول کر ان کی جانب متوجہ ہوئے: ”ایس ایم صاحب ،کیا فائر کی تیاری مکمل ہے ؟“ جواب آیا:” سر ، سب خیر خیریت ہے۔

وہ بس آپ کو بتایا تھا ۔۔۔ کہ ۔۔۔ ہم توپوں کے گولے لانا بھول گئے ہیں۔ “ یہ سن کرسی او کے اوسان خطا ہوگئے۔ اس سے پہلے کہ صدمے کے باعث ان کا دل کام کرنا چھوڑ دیتا، توآئی سی سمیت دیگر افسروں نے انہیں تھام کر سہارا دیا۔ تھوڑی دیر بعد طبیعت بحال ہوئی تو انہوں نے فرد اً فرداً ہم سب کی ” عزت افزائی “ کا آغاز کیا۔ اس کے بعد اوکاڑہ چھاؤنی میں فون کرکے فوری طور پر دوٹرک چلوائے گئے جو گولے لے کر شام تک خیرپور پہنچے۔


اگلے دن کا آغاز علی الصبح ایک عدد کالے بکرے کی قربانی سے کیا گیا اور اس کے بعد خطیب صاحب نے خصوصی دعا بھی کروائی۔ رینج کے علاقے سے ڈھائی کلومیٹر پیچھے ایک اونچے ٹیلے پر آبزرویشن پوسٹ (اوپی) قائم کی گئی جب کہ توپوں کے لئے مزید چار کلو میٹر دور ایک مناسب جگہ منتخب کی گئی۔ اوپی سے وائرلیس سیٹ کے ذریعے فائر کے احکامات دیے جانے تھے جس کے بعدگن پوزیشن افسر نے توپوں کا رخ مطلوبہ ہدف کی سمت گھما کر گولے فائر کرنے تھے۔


سی او سمیت تمام افسران اوپی پر جمع ہوگئے۔ فائر کا باقاعدہ آغاز ہوا تو ایک نئی مشکل نے آن لیا۔ ہمارے لوگوں نے گویا ہدف کو نہ چھونے کی قسم کھا رکھی تھی۔ ہزار جتن کر کے دیکھ لیے لیکن گولوں کا چلن وہی رہا۔ یہ سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا تو فائرروک دیاگیا اور تمام افسران سی او کے ہمراہ گن پوزیشن پر پہنچ گئے۔ معاملے کے تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ توپوں میں کچھ فنی خرابی واقع ہوگئی تھی جس کے باعث گولے غلط مقام پر گررہے تھے۔
سی او اور ٹو آئی سی کی جانب سے گن پوزیشن آفیسر کی ” عزت افزائی “ کا آغاز ہوا تو موصوف چہرے پر معصومیت طاری کرکے بولے ” سر، اب سمجھ میں آیا کہ فائر کے لئے صرف بکرے کی قربانی ہی کافی نہیں بلکہ توپوں کی جانچ پڑتال بھی ضروری ہوتی ہے۔ “

Your Thoughts and Comments