Cencor Ne Bakhushi Pass Kaar Di

سنسرنے بخوشی پاس کردی

بدھ 20 نومبر 2019

 اعتبار ساجد
 مبارک ہو۔ سنسرنے بخوشی پاس کردی۔ فلم ” چن دیاٹوٹیا، دل دیا کھوٹیا، اس فلم کو پاس نہ کرنے کی سنسر کے پاس کوئی معقول وجوہات نہیں تھیں کیونکہ اس فلم میں وہ تمام لوازمات موجود ہیں جو عموماً ایسی فلموں میں موجود ہوتے ہیں جو پہلے ہی دن باکس آفس پرہٹ ہوجاتی ہیں۔ اور جن کا پہلا عموماً ٹکٹ گھروں کی کھڑکیوں کو توڑنے ، ٹکٹ بیچنے والوں کا سر پھوڑنے اور آپس میں لپاڈگی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔


غالباًفلموں کے سلسلے میں اب ہمارے ہاں چھان پھٹک، کاٹ چھانٹ اور تحقیق وتفتیش ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ شائد فلمساز اور ہدایت کار سے برسبیل تذکر اتنا پوچھ لیا جاتا ہے” کیوں جی ؟ فلم کانام کیا ہے؟ “
” الوکاچرخہ، جناب“ فلمساز گھگھیار کرکہتا ہے۔
” فلم کے اندر کتنے چرخے اور کتنے الوہیں ؟ “ احتیاطً پوچھا جاتا ہے۔

(جاری ہے)


” جناب چارچرخے ہیں اور ایک الوہے ۔

“ ہدایت کا ربتاتا ہے۔
” یہ کس طرح ممکن ہے؟ “
” جناب عالی، بات یہ ہے کہ چارچرخے چار ہیروئنیں چلارہی ہیں۔ جب کہ ایک اکیلا ہیرو الوہے۔ہم نے جناب ، عوام کی طبیعت خوش کرنے کے لئے اس فلم میں بارہ قتل ڈالے ہیں۔ اٹھارہ ڈکیٹیاں کروائی ہیں۔ چار پولیس مقابلے شامل ہیں۔ پچیس منٹ کا ایک سین کار چیزنگ کا ہے۔ پندرہ منٹ کی تین ہاتھا پائیاں ہیں۔

اس طرح کل مل ملا کر جناب عالی ایک زبردست اور کھڑ کی توڑفلم آپ کی دعا سے ، تیار ہوئی ہے۔ کہیے تو دو چار سین دکھاؤں مار دھاڑ کے ؟“ فلمساز کہتا ہے ۔
” نہیں نہیں ۔ مار دھاڑرہنے دیں۔“ جواباًکہا جاتا ہے۔” کچھ دو چار گانے چلوا دیں۔ “” ابھی لیں حضور۔ “فلمساز ہاتھ جوڑ کرکہتا ہے۔” یہ گانے دیکھ کر جناب والا کی روح خوش ہوجائے گی۔ پھڑک اٹھیں گے۔


گانے دیکھنے کے دوران انکشاف ہوتا ہے کہ ان میں تھوڑی سی کمی رہ گئی ہے۔ مثلاً اخلاق ، لباس اور حرکات شائستہ وغیرہ کی۔ چنانچہ اس سب چیزوں کو ٹھیک کرنا اشد ضروری قرار پاتا ہے سب معتبرین سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور خاصی سگریٹ نوشی وغیرہ کے بعد طے پا جاتا ہے کہ فلم کے قابل اعتراض حصے کاٹ دیئے جائیں۔ لہٰذا حصے کٹنے لگتے ہیں کہیں سے چھ انچ ، کہیں سے دو فٹ ، کہیں سے چار فٹ ، کہیں سے دس فٹ۔


فلمسازفلم کے باقی ماندہ بھاری بھر کم ڈبے اٹھائے، بغلیں بجاتا اپنے دفتر پہنچتا ہے اور فوری طور پر ایک عدد اشتہار لکھواتا ہے۔ آغاز اس طرح سے ہوتا ہے۔
اللہ کے فضل اور عوام کی دعاؤں کے طفیل سنسر نے بخوشی پاس کردی۔
فلم ” توپ میرے ویر دی“
ہم آج تک نہیں سمجھ سکے کہ فلم کے پاس کرنے میں خوشی نہ خوشی کا کیا چکر ہے؟ آخر ہر فلم ساز یا فلمی ادارہ اپنی ریلیز ہونے والی فلم کے اشتہار میں بخوشی کیوں شامل کرتا ہے۔

یہ ” بخوشی پڑھ کر کبھی کبھی ایسا لگتا ہے۔ جیسے بہت سے لوگ دسترخوان پر آمنے سامنے بیٹھے کھانے کے منتظر ہوں۔ خاصے جان لیوا انتظار کے بعدکھاناآئے۔اور کھانا بھی کیسا؟ بھنا ہوا بکرا اور اس میں پکائے ہوئے چاول۔ اب حاضرین مجلس لپک جھپک کر بکرے کی تکے بوٹی کرنے لگتے ہیں اور ایک صاحب سالم ران بھنبوڑتے ہوئے زور دار قہقہہ لگا کر کہتے ہیں۔

” لیجئے جناب ، آپ کا بکرا بخوشی پاس کردیا․․․․․“
ہم نے ایک ہدایت کار سے پوچھا” کیوں جناب۔ سنسرنے آپ کی کوئی فلم ناخوشی بھی پاس کی ہے؟“
وہ خدا کا شکر بجالائے کہنے لگے۔ ” اب تک تویہ کام بخوشی ہوتارہا ہے۔ “
ہم نے کہا ” اس میں بخوشی کا کیا سوال ہے آپ نے ایک فلم بنائی۔ سنسرنے پاس کر دی اللہ اللہ خیر سلا۔ یہ آپ بخوشی بیچ میں کہاں سے لئے آئے؟“
انہوں نے ہمیں گھور کر دیکھا۔

سگریٹ کا ایک گہراکش لے کر پوچھا۔ ” آپ نے کچھ امتحان تو پاس کئے ہوں گے ؟ “
ہم نے کہا ” الحمد اللہ ․․․․․․․ اس معاملے میں ماضی بے داغ ہے ۔ “
 بولے” بس سیدھی سی بات ہے ظاہر ہے آپ کے سارے پرچے بخوشی دیکھے گئے ہوں گے جبھی آپ پاس ہوئے۔ یہی حال فلم کے معاملے میں سمجھ لیجئے ۔ یہاں ہر کام بخوشی ہوتا ہے۔ ناخوشی کا یہاں کوئی سوال نہیں۔


واقعی انہوں نے درست کہا۔ فلم میں ناخوشی کا کوئی سوال نہیں۔ یہاں تو جیب تراش کا رول ادا کرنے والا ہیرو بھی بخوشی لاکھوں روپے کے کنٹریکٹ پر سائن کرتا ہے اور وہ ہیروئن بھی جس کا ہر فلم میں گانوں کے علاوہ صرف اتنا کام ہوتا ہے کہ جو بھی ورزشیں وہ گھرپہ نہیں کر سکی۔ وہ ڈانس کے نام پہ کر لیتی ہے۔ ہدایت کار کے رٹائے ہوئے چند مکالمے بول لیتی ہے اور کبھی یہ نہیں پوچھتی کہ سنسربورڈ کا کیا حال ہے؟ اورفلم بخوشی پاس ہورہی ہے یا اس خوشی میں کچھ روڑے اٹک رہے ہیں۔

بہرحال امید ہے اگلاشریعت بل پاس اور نافذ ہونے کے بعد بہت سے گمراہ ذہنوں کی خوشیاں چمپٹ ہوجائیں گی اور فلم کے اشتہار میں یہ لکھا ہوا نظرکم ہی آئے گا کہ سنسر نے بخوشی پاس کردی۔
ہمیں یہ بھی امید ہے کہ فلم میں تھوک کے حساب سے قتل ، ماردھاڑ، ڈکیٹیاں اور پولیس مقابلے ڈالنے والے فلمساز بھی فلمانے سے پہلے محدب عدسہ سے اسکرپٹ کا ایک ایک لفظ پڑھ لیا کریں گے تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ اسکرپٹ کیا ہوتا ہے اور اس کے لکھنے والا ” بخوشی “ کے علاوہ اور کیا کام کر سکتا ہے ؟ “

Your Thoughts and Comments