Come In Mt Dear

کم ان مائی ڈئیر

منگل فروری

خواجہ حسن نطامی.

ویل کم، ہیلوہیلو، مائی ڈیئر16ء۔ اندرآئیے۔ کیک چکھئے۔ کم مٹھاس کی چائےپیجئے۔

انگیٹھی
گرم ہے ہاتھ سینکئے۔ ناک کو تو سردی نہیں لگتی۔

(جاری ہے)

خنکی معلوم ہو تو اس کو بھی گرما لیجئے مگر ہاں آپ کےناک ہےبھی یا نہیں،15ء کےتونہ تھی۔

ایل جرمنی نےوعدہ خلافیاں۔ عہد شکنیاں کرکے بےچارے کی ناک کاٹ لی تھی۔

بھائی میرےگھرمیں بریک فاسٹ کاتوکوئی سامان نہیں ہے۔تیرہ تیزی کی گھونگنیاں کھاکھاکردن کاٹتا ہوں۔

تمہارے لیےایک خانسامان سےکیک کا ایک ٹکڑا اورٹھنڈی پھیکی چائےکی ایک پیالی مانگ لایا تھا۔

‘‘چہ
کندبےنوا ہمیں دارو’’صبرکر کےاسی کونوش کرلو۔زیادہ حرص ہوتومیدان جنگ میں جاؤوہاں سب کچھ ملےگا۔

ذراسننا خدانےکہا تھامیں خودزمانہ اوروقت ہوں۔ کیا تم بھی خداہو۔

کیونکہ تم بھی ٹائم اوروقت ہو۔ مگرخدا توبدلا نہیں کرتااورتم بارہ مہینہ میں بدل جاتےہو۔

لہٰذا
معلوم ہواکہ تم خدانہیں ہو۔پس جب تم خدا نہیں ہو۔ تو لاؤمیراکیک پھیردو۔

اورچائےکی
پیالی بھی واپس دو۔

ہاں یادآیا میں تم مشرقی ہواورمشرق والےدیکرواپس نہیں لیاکرتے۔

اچھاخیر کھالو۔نگل لو۔تھوڑلو۔ تمہیں کس نےبلایا تھا۔ مان نہ مان میں تیرامہمان آؤ بھگت کرتا واپنےمحرم کی کرتا جو میرا لاڈلا ہے۔

ہجری سنہ کاپہلا پیغام لےکرآتا ہے۔ تم سےمجھےکیاغرض تم کوپادری صاحب کےیہاں جانا چاہئےتھا۔

لاحول ولاقوۃ۔معاف کیجئےگا۔ جناب بھوک ومفلسی میں انسان کی عقل قابومیں نہیں رہتی ۔

آپ ہمارے بادشاہ کی نشانی ہیں۔ہردفترمیں آپ ہی کاسکہ چلتا ہے۔

ہماری قوم تو آپ سےاس قدرمحبت رکھتی ہےکہ ہرشخص دیوارپرآنکھوں کےسامنےآپ ہی کولٹکاتا ہے۔

جنوری کی قسم میں تمہارا تابعدارہوں۔وفا شعارخادم ہوں۔ تمہاراکیاکہنا۔

بڑے اچھےہو۔ کیسےگرم گرم کوٹ لاتےہو،تمہارےآنےکی خبرسن کرایک مہینہ پہلےخیرات بانٹنےوالےمجھ کو لحاف بنوادیتے ہیں۔

اور لحاف کےاندر مجھ کوایسا آرام ملتا ہے۔ جیسا کچھوا اپنی خول میں۔

میری عادت خوشامد کرنے کی نہیں ہے پر آج تو میں تمہاری خوشامد کروں گا۔

اورکہوتوتمہارےبوٹ بھی صاف کرنےمیں عذرنہ ہوگا۔ لیکن یہ وعدہ کرلوکہ تم 15ء اور 14ءکی خونریزی کو بند کرا دو گے۔

میاں مجھے اس لڑائی سے تو کچھ تکلیف نہیں۔ دنیا میں کچھ بھی ہوا کرے۔

مجھےاس سےکیاغرض۔ البتہ یہ بےآرامی ہےکہ سوئیاں اوررنگ بہت مہنگاہوگیاہے۔

جانتےہوکہ میں دمڑی دہیلہ کا آدمی ہوں۔ سوئیاں سستی تہیں تواپنی گدڑی میں آسانی سےپیوند لگا لیتا تھا۔

اورآدھی کارنگ لاکراس کورنگ لیتا تھا۔ اب یہ دونوں اس قدر گراں ہیں کہ میں نہ سوئیاں خرید سکتا ہوں نہ رنگ یونہی میلا کچلا چھتڑے لگائے پھرتا ہوں۔

اگرتم لڑائی بند نہ کراؤ۔ تویہ دونوں چیزیں توسستی کرادو۔

بس میں توفقط اتنا چاہتا ہوں۔مجھےنہ خطاب چاہئے۔ نہ کونسل کی ممبری۔

میں توروکھی روٹی پیٹ بھرکر۔اورکنویں کا پانی اورتن کاموٹاجھوٹاکپڑا،چاہتاہوں۔

کنویں کا پانی اس واسطےدرکارہے۔ کہ نل کاپانی لوہےکےمنہ سےآتا ہے۔

اورلوہاآج کل توپ میں،بندوق میں،گولےمیں،گولیوں میں،آدمی کاخون بہاتاہےاورمیں خون خرابےسےڈرتاہوں۔

اندیشہ
ہےکہ لوہےکا پانی پی کرکہیں مجھ میں فتنہ وفساد کا اثرنہ آجائے۔

Your Thoughts and Comments