Hatim Tai In Lahore

حاتم طائی اِن لاہور

ہفتہ نومبر

Hatim Tai In Lahore
اعتبار ساجد
پہلی بار حاتم طائی کا نام سن کر ہم سمجھے کہ یہ عورت ہیں اور ان کا اصل نام حاتم تائی ہے۔جس طرح بزرگ خواتین کو احترام سے تائی یا ماسی کہہ دیا جاتاہے۔غالباً یہی معاملہ ان کے ساتھ پیش آیا ہو گا۔
بعد میں لوگوں نے سمجھا بجھا کر ہمارا یہ شک رفع کیا۔پھر حاتم طائی کے کچھ قصے ہم نے پڑھے۔کچھ لوگوں سے سنے۔جن سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ آپ حد درجہ سخی تھے ۔

سخاوت کا یہ حال تھا کہ جس شہزادی سے خود شادی کے خواہاں تھے۔اس کے سارے سوال حل کرکے اس کی شادی شہزادہ بدر منیر سے کروادی اور خود ہاتھ جھاڑ کے،دامن نچوڑتے ہوئے محل سے ٹھنڈے ٹھار باہر نکل آئے۔اس وقت فیص بھی کہیں پاس تھے،کہنے لگے۔”افسوس ،صدافسوس
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جارہا ہے کوئی شب غم گذار کے
شہزادہ بدر منیر مونچھوں پر تاؤ دے کر بولا۔

(جاری ہے)

”حیف ،صد حیف
گلیوں میں اس کی نعش کو کھینچے پھر وکہ”یہ“
جاں دادئہ ہوائے سر رہگذار تھا
شہزادی اپنے کاکل پیچاں کو مزید بل دیتے ہوئے بولی۔”بدرجی۔ایسا نہ کہو۔میں خود اس کی شادی کرواؤں گی۔“پھر جاتے ہوئے حاتم کو آواز دے کر بولی۔
کمال ضبط کو خود بھی آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے تیری دلہن سجاؤں گی
حاتم پلٹ کر بولا۔جی نہیں۔شکریہ۔

مجھے میک اپ کا خرچہ بچانے کا کوئی شوق نہیں۔یہ کام میں کسی بیوٹی پارلر سے کروالوں گا۔آپ زحمت نہ فرمائیں۔البتہ آپ کو تکلیف ضرور دوں گا کہ میرادل مجھے واپس کر دیں۔
اک ذرا آپ کو زحمت ہوگی
آپ کے پاؤں کے نیچے دل ہے
یہی حاتم طائی اگر آج کے دور میں آنکلتے تو ان کا کیا حشر ہوتا اسی امکان کا جائزہ لینے کے لئے ہم نے یہ مضمون باندھا ہے
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جا مال اچھا ہے
حاتم طائی نے سن رکھا تھا کہ دل کے اکثر مریض اور مسیحا(اسپیشلسٹ ان ہارٹ سرجری)زیادہ تر انار کلی میں پائے جاتے ہیں۔

چنانچہ شوق دیدار اسے کشاں کشاں انار کلی میں لے گیا،یہاں کھوئے سے کھواچھل دیا تھا حاتم نے بصد شوق اپنا کھوا بھی چھلوایا اور خدا کی قدرت پر عش عش کرتا ہوا اور تقریباً غش کھاتا ہوا بازار میں چلنے لگا۔ایک جگہ کیا دیکھتا ہے کہ خلق خدا کا جمگھٹ راستہ روکے کھڑا ہے حاتم ایک ناٹے قد کے آدمی کو فٹ بورڈ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بھیڑ کے اندر داخل ہو گیا اندر ایک آدمی جڑی بوٹیاں بیچ رہا تھا اور ان کے کثیر الفوائد ہونے پر ایک عد طولانی لیکچرار سال کررہا تھا حاتم نے ایک پستہ قدنو جوان سے پوچھا۔

اے نور نظر،لخت جگر،سرمہ نور بصر۔کیا ہورہا ہے ادھر؟وہ سرمہ نور بصر چیں بہ چیں ہو کر بولا۔
”اے نور نظرکے پتر ․․․․․دیکھتا نہیں․․․․․حکیم جی اصل سلاجیت بیچ رہے ہیں۔“حاتم نے حیران ہو کر پوچھا۔
”اے شہر لاہور کے جیالے سپوت۔براہ کرم عام فہم سے ذارہت کر قدرے نستعلیق انداز میں اصلی سلاجیت کی ماہیت پر روشنی ڈال ۔“
اس بد اعتماد نے بجائے اس کے کہ روشنی کا معقول انتظام کرے․․․․․ایک جگر شگاف قہقہہ لگایا اور حاضرین جلسہ میں سے چند ایک کو اپنی طرف متوجہ کرکے بولا۔


”بھائیو․․․․․!یہ بھائی صاحب،دماغی ہسپتال سے نکلے ہیں۔ذرا دھیان کرنا یہ ظالم کوئی وارنہ کر بیٹھے ،پھنیئر ناگ دکھائی دیتاہے۔“
اتنا سننا تھا کہ مجمع کے ہوش اڑ گئے۔بھگدڑ مچ گئی جس کا جدھر منہ اٹھا بھاگ پڑا،کوئی نیلا گنبد کی طرف،کوئی داتا صاحب کی طرف ،کوئی تانگہ اسٹینڈ کی طرف۔
اس غل غپاڑے سے نجات پاکر حاتم نے قصد روانگی اختیار کیا ہی تھا کہ ایک عدد تھپڑ قسم کا بھاری بھر کم ہاتھ اس کی گدی پر پڑا حاتم اس بے تکلفی پر حیران وپریشان رہ گیا۔

دیکھتا کیا ہے کہ وہی صاحب جو اصلی سلاجیت بیچ رہے تھے۔اب اس کا گریبان پکڑے کھڑے ہیں اور بکمال مہربانی فرماتے ہیں۔
”اے بد قماش ،آوارہ!تیری یہ مجال کہ تو ہماری روزی میں لات مارے؟“
حاتم نے کہا”اے بغداد شہر کے کو توال ،میری جان بخشتی کا حکم سادر کر اور گریبان اتنی شدت سے نہ کھینچ کہ اس کے ساتھ ہی میرا گلہ تیرے ظالم ہاتھوں میں آجائے۔


وہ شخص ٹٹھا مار کر اکٹھا ہنسا اور کہنے لگا۔
”لالے کی جان،تجھے غلط فہمی ہوئی ہے۔میں بغداد شہر کا کو توال نہیں۔ چوک دربار کا غلام بندہ بے دام ہوں اور خلق خدا کی قوت کو بحال رکھنے کے لئے کے۔ٹوکی چوٹی سے لنگوروں،ریچھوں ،اونٹوں اور بھیڑیوں کو مار کر سلاجیت لاتا ہوں اور کوڑی کے دام بیچتاہوں۔“
حاتم بولا!اے شہسوار اعظم!تیری داستان بہت درد ناک افسوسناک ،وحشت ناک اور حیرت ناک معلوم ہوتی ہے۔

انشاء اللہ اگلی دنیا میں اگر اللہ نے ہمیں ملایا تو ضروری سنیں گے۔فی الحال اس حقیر سراپائے تقصیر کو رخصت کی اجازت رحمت فرمائیے۔“
وہ مجبور محبت نہایت کڑک دار آواز میں بولا۔
سیدھی طرح میرے نقصان کا ہر جانہ اداکر و ورنہ یہ معاملہ پولیس کے حوالے کرتا ہوں۔“
پولیس کا نام سن کر حاتم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ خود زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا۔


”اے قبلائی خاندان کے بردار عزیز!یہ ستم نہ کرنا۔ورنہ فرط خوف سے میری جان نکل جائے گی اور میری موت کی ذمہ داری تم پر ہو گی اور میری منقولہ وغیرہ منقولہ جائیداد میں سے ایک چھدام بھی تجھے نہیں ملے گا۔“
یہ سخن دل پذیر سن کر وہ کرم فرما کچھ نرم ہوا،اور دو قدم پیچھے ہٹ کر بولا۔
”جا اوئے کالیے!تیرا ککھ نہ رہو ے۔اٹھ یہاں سے دور ہو۔“
حاتم صدشکر بجالایا اور مصافحے اور معانقے کے بعد آگے روانہ ہوا،ایک تنگ سی گلی کی تاریک دکان پر ایک اس نوعیت کی تختی لٹک رہی تھی۔


ماہر عملیات نیز کالے جادو کی کاٹ پلٹ کے ماہر
پروفیسر اللہ رکھا
ڈی۔ڈی۔ٹی۔ایل۔ایس ،ڈی۔جی۔جی۔
یہاں مختلف قسم کے جِنّ نکالنے کا تسلی بخش کام ہوتاہے۔
نیز خواتین کے ہر نوعیت کے جن بوتل میں بند کیے جاتے ہیں۔
یہ مژدہ جانفراپڑھ کر حاتم طائی کا دل باغ باغ ہو گیا۔پروفیسر اللہ رکھا کی جناتی ڈگریاں سے متاثر ہو کر اندر داخل ہوا اور کورنش بجالایا۔

وہاں ایک سیاہ رنگ کی عینگ لگائے ایک شخص ایک بوتل سے چہلیں کر رہا تھا۔حاتم کو دیکھتے ہی ایک نعرہ مستانہ لگا کر اٹھ کھڑا ہوا اور نہایت خندہ پیشانی سے بولا۔
”آؤ بیٹا!میں تمہارا ہی انتظار کررہا تھا۔“
”تشکر،تشکر!حاتم آداب بجا لا کر بولا۔“اے طوطی باغ معنویت !آپ میرا انتظار کر کے مجھے کیوں شرمندہ کررہے ہیں؟“
”و ہ دانائے معنویت یوں گویا ہوا۔


”اے قوم جنات کے مندوب!میں نہیں بلکہ خالی بوتل تیری منتظر تھی․․․․․․ہاہاہا․․․․․․․“!
یہ کہہ کر اس نے یوں قہقہہ لگایا جیسے گیلی بار ودپھٹتی ہے ۔جب اس کے قہقہوں کی آتش بازی ختم ہوئی تو وہ ہاتھی کی طرح جھوم کر حاتم کی طرف بڑھا اور حاتم کو اڑنگی دے کر اس کی چھاتی پر چڑھ کر بیٹھا اور بوتل اس کی ناک سے لگا کر بولا۔
”دھواں بن کر داخل ہو جا۔


حاتم نے گڑ گڑا کر نہایت لجاجت سے عرض کی!
”اے ناگوں کے سردار اور سیاہ رنگ کی نہایت قوی ہیکل مخلوق!․․․․․مشکل ومثال جنات!
میرا پیچھا چھوڑئیے اور مجھے جانے دیجئے،آپ کی نہایت مہربانی مجھ غیر الدیارپہ ہو گی․․․․․․“
وہ آشفتہ دل نہایت غضب ناک ہو کر بوتل کو حاتم کی ناک سے رگڑکر بولا۔
”اے آگیا بیتال!میں تجھے دس سیکنڈ کی مہلت دیتا ہوں ۔

فوراً اپنے آپ کو دھوئیں میں تحلیل کر اور بوتل میں داخل ہو جا۔وگرنہ میں خود تجھے بزور بازو بوتل میں مقید کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔“حاتم نے بہت ہاتھ پاؤں مارے۔بہت گریہ وزاری کی مگر جب اس سنگدل کا دل ناصبور نہ پسیجا تو تنگ آکر بولا۔
”بہت بہتر میرے آقا!میرے سینے پر سے ہٹ جائیے،تاکہ لمبا سانس کھینچ کرعمل تحلیل وتکفین شروع کروں۔“
حاتم کی یہ آمادگی دیکھ کر پروفیسر موصوف نے تبسم کیا اور حاتم کو چھوڑ کر بوتل کا رخ اس کی طرف کرکے دور جاکھڑا ہوا۔

حاتم کپڑے جھاڑکر اٹھا،اور یوں گویا ہوا
جگر فریاد کرتاہے نظر یاد کرتی ہے
الٰہی خلق ہم پر بے سبب بیداد کرتی ہے
یہ شعر پڑھ کر ایک زقند لگائی اور پروفیسر اللہ رکھا کے شعبدہ گھر سے کوچ کیا۔بھاگتا جاتاتھا اور لاحول پڑھتا جاتا تھا کہ ناگہاں ایک آہو چشم پری تمثال رشک حو ر دو شیزہ سے ٹکڑا گیا۔دو شیزہ با کمال نے بے کمال مہر بانی زہر خند کیا اور یوں گوہرافشاں ہوئی۔


”دُرفٹے منہ تیرا۔اندھا کہیں کا۔میرا اچھا بھلا میک اپ بگاڑ دیا۔“حاتم ہاتھ جوڑ کر بولا۔
”اے عفت مآب دو شیزہ ،اے مطلع انوار نفاست!نہایت آزردہ ودلگیر ہوں اور تجھ سے طالب عفووتقصیر ہوں۔“
وہ کان نمک متبسم ہوئی اور حاتم کی تقصیر بے نظر معاف کی اور کہنے لگی۔”میں ایک فیشن میگزین کی رپورٹ ہوں اور عجیب وغریب چیزوں پر قلم اٹھانا میرا مشغلہ اور مقصد حیات ہے اے نوواروبساط ہوئے دل کیوں نہ ہم کی اعانت کریں۔


حاتم بولا”عزیزہ من!نہایت نیک خیال ہے مگر فی الحال نا چیز تھکن سے نڈھال ہے اور تنہا گشت کا خیال ہے کوئی ایسا وقت مقرر فرمائے کہ یہ گناہگار اور نازبہ جبیں سائی کا نیاز وفخر حاصل کرے اور باقاعدہ اپنے چھ سو گیا رویں عشق کا آغاز کرے۔“یہ تشویشناک مکالمہ سن کر دوشیزہ نے اپنا دایاں ہاتھ دراز کرکے سینڈل کی طرف بڑھایا صورت حال کی نزاکت دیکھ کر حاتم ہوش میں آیا اور گلو گیر ہو کر بولا۔


”اے میری ہمشیرہ گم زاد!معافی کا خواستگار ہوں۔اور رخصت کی اجازت کا طلب گارہوں۔“
وہ نازنین غنچہ دہن ،غنچہ نا شگفتہ کو نیم دا کرکے بولی۔
”جا دفعہ ہو کالی شکل والے۔بڑا آیا وہاں سے جامع اللغات بن کر ․․․․․․جاتاہے یادوں ایک سینڈل تیرے بوتھے پر؟“
حاتم فوراً وہاں سے رفو چکر ہوا۔بازار کے اختتام پر ایک مکان نما ہوٹل دیکھ کر دیوانہ وار اندر جا گھسا۔

کیا دیکھتا ہے کہ اس نیم روشن اور نیم تاریک ہال کی فضا نکوٹین اور گفتگو کی پروٹین سے بھری پڑی ہے اور وہ ہاہا کار مچی ہوئی ہے کہ اللہ کی پناہ ،ایک گول مٹول شخص ببا نگ دہل کہہ رہا تھا۔
”تلاوت حقیقی کے صحیحی کا منطق با لجبرنتیجہ آفاق وسخاوات با استحان فربالا یا قان شمالاً جنوباً شرقاً غرباً حیات افقی پر منتج ہوتاہے۔“یہ دل خراش وعظ سن کر حاتم تھر تھر کا نپنے لگا اور جو بیرا آرڈرلینے کے لئے چیل کی طرح جھپٹ کر سر پر آپہنچا تھا۔

اس سے پوچھنے لگا۔
”اے برادر عزیز ولذیز!یہ شخص کون ہے اور کیا کہہ رہا ہے؟“بر دار عزیز دلذیز ہنس کر بولا۔
”اے باؤ!غالباً تو اس شہر میں نیا پینڈ وہے خیرکوئی بات نہیں لاہور کی گود کشادہ اور سینہ فراخ ہے۔ہر پنچھی اور ہر مخلوق کو اپنے کلیجے سے لگا لیتاہے یہ شخص ایک عدد کالم نگار ہے اور میو نسپل کار پور یشنوں درختوں، ادیبوں شہر کی سڑکوں اور کوڑے کے ڈرموں پر خامہ فرسائی کرکے روزی پیدا کرتاہے۔


حاتم بولا”یہ خود کیوں نہیں میونسپل کارپوریشن میں نوکری کر لیتا تاکہ خدا کی مخلوق اس کے کالموں کے شور سے تو محفوظ رہے۔“بیرے نے کہا۔
”بادشاہو․․․․․․․نوکری اتنی آسانی سے ملتی تو اتنے بہت سارے لوگوں کو دانش ور بننے کی کیا ضرورت تھی۔اور پھر نوکری اور دانشوری کا کیا جوڑ؟کیا تو نے سنا نہیں کہ کالمسٹ چلا ملازم کی چال،اپنی چال بھول گیا۔


حاتم نے ایک مجمع باز آدمی کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
یہ آدمی اس جم غفیر سے کیا عرض معروض کررہا ہے؟بیرے نے پلٹ کر ادھر دیکھا۔پھر کہنے لگا۔
”یہ ایک عدد شاعر ہے اور لوگوں سے شاعری کا جگا ٹیکس وصول کررہا ہے صبح سے شام تک یہیں بیٹھا رہتاہے اور آنے والوں کو چائے کا آرڈر دے دے کر اپنی روح کی تشنگی مٹاتا رہتاہے کچھ دنوں سے اس کا ارادہ ہے کہ اپنا مقبرہ بھی یہیں تعمیر کروائے اس سلسلے میں چندے کی مہم شروع کررکھی ہے۔

اگر آپ راہ مولانا نیاز حسین کچھ امداد فرمانا چاہیں تو ہمارے شاعر خوش بیاں کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔“حاتم نے لرز کر کہا۔
اے شیوہ بیاں مقرر!میرے دل کی حالت جیب کی طرح غڑغوں اور دگر گوں ہورہی ہے ازراہ کرم چائے کا اہتمام کرتا کہ اعصاب پر سکون ہوں۔“
ادھر تو وہ شیوہ بیاں چائے لینے چلا،ادھر حاتم نے دلگیر اشخاص کا جائزہ لینا شروع کیا۔

ہنوز جائزے سے فارغ نہ ہوا تھا کہ دھپ سے ایک ہاتھ کاندھے پر پڑا اور ایک مرد مجہول کر سی کھینچ کر اس کے قریب بیٹھتا ہوا بولا”کیوں بھئی جھوجھل مرید آبادی صاحب!آج کدھر راستہ بھول گئے؟“
حاتم حیران ہو کر بولا۔
”اے نو وارد مشق ستم!تو نے میری ہنسلی کی ہڈی کے جوڑ ہلا کے رکھ دئیے ہیں ہر جھوجھل گاہ کہ میں جھو جل مرید آبادی نہیں۔ حاتم طائی ہوں۔

اور تیرا بھائی ہوں۔“
وہ شخص ہنس کر مصافحہ کرتے ہوئے بولا۔
”عربی ادب پر میں ایک صحیح مقالہ مرتب کررہاہوں۔براہ کرم اپنی ایک عدد پاسپورٹ سائز تصویر دو عدد غزلیں اور مبلغ پانچ صد روپے بغرض اشاعت عنایت فرمالیں تاکہ ادب میں آپ کا نام زندہ جاوید ہو جائے۔“
حاتم کپکپا کر بولا۔
”مگر اے برادر مہربان!واضح ہو کہ نہ مجھے عربی آتی ہے،نہ میں شاعر ہوں اور نہ ایک عدد تصویر دل پذیر میرے پاس ہے۔

“اتنے میں چائے آگئی۔ماہر ادیبات عالیہ نے بکمال صفائی اپنے لئے چائے تیار کی اور غٹاغٹ پینے لگا۔چائے پی کر اس نے مونچھوں پر ہاتھ پھیرا اور اپنے بیگ سے ایک بوسیدہ ڈائری نکال کر بولا۔براہ کرم اپنی رقم ،نام وپتہ ،ڈاک خانے کا جائے وقوع رجسٹریشن نمبر ،نزدیکی تھانے کا پتہ اور ولدیت بیان فرمائیے۔“
حاتم نے چائے کے خالی برتنوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔


“اے برادر!میں عارضی قلب کا مریض ہوں ،ازرہ کرم مجھ سے ایک فرلانگ دور ہو جا،وگرنہ دورہ قلب کی صورت میں نتائج کی ذمہ داری تجھی پر عائد ہو گی۔“
وہ گوہر نایاب تین فٹ بدک کر پیچھے ہٹا اور لجاجت سے بولا”رقم تو لکھوائیے۔“
حاتم نے ایک آہ جگر خراش بلند کی اور غش کھا کر اور چور آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھ کر فرش پر گر پڑا․․․․․ہوش آیا تو ہنوز اسی ہوٹل میں تھا۔

اور بھانت بھانت کے لوگوں کا شوروغوغا کم ہوا تو آہستہ سے آنکھیں کھول کر دزدیدہ نظر سے اطراف کا جائزہ لیا۔کیا دیکھتاہے کہ وہ ایک فٹ پاتھ پر کھمبے سے ٹیک لگائے نیم دراز ہے اور ایک ہاتھ اس کی قمیض میں متحرک ہے․․․․․․حاتم نے ہاتھ کو اپنا ہاتھ سمجھ کر کوئی خاص توجہ نہ دی۔مگر جب اس ہاتھ کی شوخیاں اور چہلیں بڑھتی گئیں تو جھپٹ کر اس نے ہاتھ دبوچ لیا۔

کیا دیکھتاہے کہ ایک گرہ کٹ معافی کا طلبگار کھڑا تھرتھرکانپ رہا ہے۔
حاتم نے ا کڑ کر پوچھا۔
”اے شخص تو کون ہے؟“
اس شخص نے گھگھیاکر کہا۔
”بھائی جی!میں پردیسی آدمی ہوں۔“
”اے پردیسی بلبل․․․․․․!تو میری جیب میں ہاتھ کس خوشی میں ڈال بیٹھا!“حاتم بولا۔
”میرے چن مکھنے․․․․․․․!مجھے سگریٹ جلانے کے لئے ماچس کی ضرورت تھی۔

“پردیسی بلبل نے کہا۔
”سگریٹ دکھاؤ؟حاتم نے پوچھا۔
”محجوب وہ نادرہ کار محجوب ہو گیا۔عرق عرق ہو کر بولا۔”سگریٹ ہوتی تو تیری جیب میں ہاتھ کیوں ڈالتا․․․․․․؟ازراہ کرم فضول سوال جواب کرکے میرا ٹائم کھوتا نہ کر،اور ایک عدد سگریٹ بمعہ سالم ماچس کے عنایت فرما۔نشہ ٹوٹ رہا ہے۔“
یہ سن کر حاتم کا دل بھر آیا۔بولا۔
”اگر تو چند سو برس قبل مجھے ملتا تو مجھ سے یہ سوال کرتا تو عجب نہ تھا ۔

کہ میں تجھے بادشاہت سونپ دیتا۔لیکن فی الحال میری غربت کا امتحان نہ لیجئے۔اور خدا کے لئے کسی اور جیب پر قسمت آزمائیے۔“
یہ کہہ کر حاتم تو گھبراتا ہوا اٹھا اور اس مجمع میں شامل ہو گیا جہاں پروفیسر الف دین طوطے سے توپ چلوارہا تھا اس وقت گرامی قدر پروفیسر نے چھوٹی سی توپ میں بارودرکھ کر طوطے کی چونچ میں جلتی ہوئی تیلی پکڑ ادی تھی۔اور زندہ دلان شہر سے خطاب کرتے ہوے کہہ رہا تھا۔
عزیزو!بزرگو!پہلوانو!اپنی جیب پاکٹ سے ہوشیار۔
طوطا توپ چلا رہا ہے۔
حاتم نے جھپٹ کر اپنا ہاتھ احتیاطاًقمیض کی جیب میں داخل کیا۔مگر جلدی ہی یہ ہاتھ جیب میں سے ہوتا ہوا باہر نکل گیا۔پردیسی بلبل ہاتھ کی صفائی دکھانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
رہے نام اللہ کا!․․․․․․․․

Your Thoughts and Comments