Helmat Lifafa Or Siasi Aloodgi

ہیلمٹ،لفافہ اور سیاسی آلودگی

حافظ مظفر محسن منگل دسمبر

Helmat Lifafa Or Siasi Aloodgi
ہم حسب معمول کلاس روم میں پچھلے بینچوں پر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ اچانک چاک کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے نے ہمیں چونکا دیا۔چاک کا یہ ٹکڑا ہمارے پروفیسر صاحب نے نشانہ لے کر ہماری بہت زیادہ پھیلی ہوئی ناک پر متوجہ کرنے کے لئے مارا تھا۔
”جی․․․․․جی سر․․․․․جی میں ہوں․․․․․”ہم نے”ہڑبڑاہٹ“میں اپنی صفائی پیش کرنا چاہی تو استاد نے قہقہہ لگایا اور ہماری تعریف میں کچھ نیک ”کلمات“کہنے کے بعد ایک نہایت مشکل سوال ہماری طرف اچھالا․․․․․!
”بتاؤ․․․․․فضائی آلودگی کا سب سے زیادہ فائدہ کیسے ہوتاہے؟“
لوگ آج کے دور میں آلودگی کے نقصانات بیان کرتے نہیں تھکتے جب کہ استاد محترم نے آلودگی کے فوائد پر بات کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔

ہمیں اپنے دوست بلو جی یاد آگئے جو ایسے ٹیڑھے میٹرے سوالات کرنے میں ماہرہیں اور الٹم پلٹم سوالات کے جواب دینے میں بھی․․․․․․!
جی․․․․․․جی استاد جی وہ”صابن“بنانے والوں کو جی۔

(جاری ہے)


”ٹھیک ہے ٹھیک ہے․․․․․بیٹھ جاؤ․․․․․․مجھے افسوس ہے کہ میں نے یہ سوال ایک نامعقول سے کیا۔استاد محترم نے دانت پیستے ہوئے فرمایا مگر ہمیں کچھ بھی سمجھ نہ آیا کہ استاد جی نے یہ نامعقول کا لفظ کس کے لئے استعمال کیا۔

؟
بعد میں دوستوں نے بتایا کہ اصل میں استاد محترم اس سوال کی آڑ میں ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی”سیاسی آلودگی“پربات کرنا چاہتے تھے۔
بات تو ٹھیک تھی کیونکہ ہمارے ہاں ماحول میں موجودہ آلودگی کے خلاف تو لوگ آئے دن”واک“(خاموش ماتمی جلوس)کرتے ہی رہتے ہیں۔حالانکہ اصل واک بلکہ”ٹاک“اس بڑھتی ہوئی خونخوار قسم کی سیاسی آلودگی کے خلاف ہونی چاہئے۔

بہر حال خوشی کی بات ہے کہ ابتدائی طور پر اس سیاسی آلودگی کے خلاف”واک“نہ سہی ”واک آؤٹ“تو ہوتاہے وہ علیحدہ بات ہے کہ ایسے”واک آؤٹ“کرنے والے خود بھی سیاسی آلودگی بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔
پولیس والوں کے لئے اکثر شریف شہریوں بالخصوص موٹر سائیکل چلانے والوں اور رکشہ ٹیکسی والوں سے دودوہاتھ کرنے کے مواقع پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں۔

کبھی ڈبل سواری پر پابندی کی آڑ میں تو کبھی ہیلمٹ نہ پہن کر موٹر سائیکل چلانے کے سلسلے میں۔ضیاء الحق مرحوم کا زمانہ تھا کہ”ہیلمٹ“کا دور دورہ ہوا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے ملک گندم کے معاملہ میں شاید خود کفیل ہونہ ہو”ہیلمٹ“کے سلسلے میں چند دنوں میں خود کفیل ہو جائے گا۔لوگ کسی بچے کی سالگرہ پر جانے لگتے تو فیصلہ ہوتاکہ ”چھوڑیں․․․․․․کیک ویک کو․․․․․․تحفے میں بچے کو ایک ”ہیلمٹ“ہی دے دیں گے․․․․․․!“
یوں لگ رہا تھا جیسے ضیاء الحق صاحب پوری قوم کو”ہیلمٹ بردار“بنانا چاہتے ہوں۔

معاملہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ اس وقت اگر جماعت اسلامی حکومت وقت کی حلیف نہ ہوتی تو شاید وہ ہیلمٹ کے خلاف تحریک شروع کر دیتی اور کسی مولانا کو ہیلمٹ پر کتاب بھی لکھنا پڑتی ۔ہمیں ڈر تھا کہ کہیں لوگ ٹیکسٹائل اور سٹیل ملیں ختم کر کے ان کی جگہ ہیلمٹ بنانے کی فیکٹریاں نہ لگالیں۔
مورخ جب ہماری سیاسی تاریخ لکھے گا تو یقینا سود وسو صفحات ہیلمٹ کے حوالے سے بھی ہوں گے۔

اس دور میں دیکھا گیا کہ بڑے بڑے سرکاری افسران اپنی محفلوں میں گھنٹوں ہیلمٹ پر بحث کرتے۔کچھ سیاسی لیڈروں نے تو مرحوم ضیاء الحق کے ہیلمٹ والے فیصلے کو پاکستان کی معاشرتی زندگی میں سنگ میل تک قرار دیا اور مجلس شوریٰ کی وساطت سے”انعام واکرام“بھی وصول پائے ۔ہمیں یاد نہیں کہ مسرور انور صاحب نے ہیلمٹ کی شان میں کوئی خوبصورت گیت لکھا تھا یا نہیں ؟
پھر”ہیلمٹ“پس پردہ چلے گئے اور عوام نے ایک بار پھر سکھ کا سانس لیا۔

آپ حیران ہوں گے کہ مدتوں پرانی”ہیلمٹ کہانی“ہمیں اس شدت سے کیوں یاد آئی جب کہ بات ہورہی تھی آلودگی کے حوالے سے․․․․․تو جناب․․․․․ہمیں ہیلمٹ اس شدت سے اس لئے یاد آیا کہ پچھلے دنوں”ہیلمٹ“کی طرح“پلاسٹک کے لفافوں“(آج کل جہاں لفافے کا ذکر ہولوٹے کا بھی تذکرہ بڑے احترام سے کیا جاتاہے)کے سلسلے میں بھی شور اٹھا تھا۔لوگوں کا خیال تھا کہ آلودگی کے ذمہ دار یہ پلاسٹک کے لفافے ہیں جو شاید حکومتی اقدامات کے بعد اب کبھی بھی دکھائی نہ دیں۔

اس انڈسٹری سے وابستہ لوگوں نے تو متبادل کاروبار کی تلاش بھی شروع کردی تھی۔”ہفتہ صفائی“بھی منایا جائے گا مگر پھر کیا تھا پلاسٹک کے لفافے بنتے گئے ۔بنتے رہیں گے۔بلکہ اب تو کسی پلاسٹک کے برتن میں سالن ڈال کر کھاتے ہوئے بھی ڈر لگتاہے کہ ہو سکتاہے جو پلاسٹک اس جنم میں سالن ڈالنے والے برتن کی صورت میں سامنے ہے پہلے جنم میں کہیں چپل کی شکل میں نہ رہ چکا ہو۔

!“
وہی آلودہ پلاسٹک مختلف کیمیکل ڈالنے کے بعد بار بار مختلف شکلوں میں استعمال ہورہا ہے اور ہم یہ بیماریوں سے لبریز پلاسٹک استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔اس سے کینسر ہو گا یا کوئی دوسری بیماری․․․․․یہ کوئی نہیں سوچ سکتا․․․․․کیونکہ”ہفتہ صفائی “تو کب کا ختم ہو چکا ہے۔
پلاسٹک کے لفافوں کے خلاف اٹھنے والا شور بھی انہیں سنائی نہیں دیتا۔

پسماندہ علاقوں میں رہنے والے وہ غریب لوگ جنہیں مفت علاج کی سہولت میسر نہیں اور جن کی کمر بجلی،گیس اور پانی کے بلوں نے پہلے ہی توڑرکھی ہے وہ اس آلودگی کا سب سے زیادہ شکارہورہے ہیں۔
ہماری نئی نسل اس فکر میں ہے کہ اس آلودگی کے باعث اگر واقعی کینسر ہونے لگا تو ایک عمران خان’‘ایک شوکت خانم میمور یل ہسپتال ہمیں کہاں تک بچاپائے گا؟

Your Thoughts and Comments