Kalay Kabootar Safaid Kabootar

کالے کبوتر سفید کبوتر

پیر دسمبر

Kalay Kabootar Safaid Kabootar
مستنصر حسین تارڑ:
جہاں میں بیٹھا ہوں۔ اس عمارت کی چھت کے شہتیروں میں کالے کبوتر رہتے ہیں اور کبوتر چاہے کالے ہوں یاسفید وہ بیٹ ضرور کرتے ہیں اور یہ بیٹ ہرآدھ پون گھنٹے کے بعد چھپک سے میرے کوٹ یاسویٹرپربرس پڑتی ہے کبھی سرکے بالوں میں نمی کا احساس ہواہے توبالوں پرہاتھ پھیرنے سے انکشاف ہوتاہے کہ وہاں بھی کبوتر کریم کاایک لیپ موجودہے ہرحملے کے بعد میں اپنی پوزیشن بدل لیتاہوں۔

لیکن معینہ وقفے کے بعدبیٹ مجھے تلاش کرکے میرے اوپرآن گرتی ان کالے کبوتروں کی وجہ سے میری گھریلوزندگی بھی متاثرہورہی ہے۔خاتون خانہ میرے کپڑوں کوبرش کرتی ہے۔پانی میں بھگو کرصاف کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر تیزابی بیٹ کے اثرات نمایاں نظر آتے رہتے ہیں اور وہ تنگ آکر کہتی ہے کہ تم خاص طور پرایسی جگہ ہی کیوں،بیٹھتے جہاں تمارے سر کے عین اوپرایک عددکبوتراس لمحے میں معلق ہوجب اس نے ہرصورت بیٹ کرنی ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

میں نے اسے بتایا ہے کہ اسے نیک بخت میں جس جگہ بھی بیٹھتا ہوں وہاں پریہی حشر ہوتاہے لیکن اس کاخیال ہے کہ یہ سب کچھ صرف میری نالائقی کی وجہ سے ہوتاہے چنانچہ ایک روز وہ کافی دیرتک اس جگی پر بیٹھی رہی۔جہاں عام حالات میں مجھ پر ہربیس منٹ کے بعدایک بیٹ داردہوجاتی ہے مگر اس روز میں نے اوپردیکھا توتمام شہتیرخالی تھے پتہ نہیں وہ کبوتر کہاں چلے گئے۔

بہرحال میری خاتون خانہ کایہ واہمہ تقویت پکڑگیا ہے کہ یہ بیٹ برنس صرف میری نالائقی وجہ سے مجھ پررہتاہے۔تب میں نے ان کبوتروں سے گلوخلاصی کروانے کے لئے چند ہنگامی نوعیت کی تدابیرسوچیں سب سے پہلے تومیں نے ردی کاغذکے گیند بناکران کی آماجگاہوں کی جانب پھینکے اور اس روز مجھے معلوم ہوا کہ پتھرپھینکناکتناآسان کام ہے اورکاغذگی گیندیں پھینکنا کتنامشکل شاید میں بوڑھاہورہاہوں اور دیگر زوروں“ کے علاوہ میرازور بازو بھی کم ہوتاجارہاہے کیونکہ بیشتر گیندیں”ہدف“ پرپہنچنے کی بجائے میرے چہرے پر آکرگریں تھوڑی دیرکی مشق کے بعد گیندیں کبوتروں کو لگیں لیکن وہ پرپھیلاکر پھڑاپھڑائے اوروہیں بیٹھے ہے ایک دوست نے مشورہ دیاکہ کسی بچے کی شاٹ گن مانگ کران بدبختوں کوہلاک کردیاجائے لیکن میں چونکہ ہرقسم کی خونیرنری کے خلاف ہوں اس لئے اس مشورے پرعمل کرنے کی ہمت نہ کر سکا اب حالت یہ ہوگئی کہ میں ہمہ وقت ان کالے کبوتروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بارے میں سوچتا رہتا۔

دوستوں کے ساتھ بھی کبوتروں کے بارے میں ہی گفتگو کرتااور گھر میں توظاہر ہے یہ موضوع زیربحث رہتاکیونکہ میرے کوٹ اور سویٹراب باقاعدہ سفید ہوتے چلے جارہے تھے ایک اور دوست نے کہاکہ وہ ان کالے کبوتروں کاقلع قمع کردے گا میں نے پوچھا کہ آپ ایسا کیسے کریں گے؟ وہ کہنے لگامیں ان کوکھاجاؤں گا۔میں نے کہاسوبسم اللہ کھا جایئے۔اس نے کہاکھاؤں۔

کیسے؟تم پکڑکردے دومیں کھالوں گا․․․ بہ بگلے کے سرپرموم رکھ کراسے پکڑنے والی بات تھی۔اس لئے اس پر بھی عمل نہ ہوسکا۔
انہی دنوں ایک شام نسبت روڈکے چوک میں معراج پتھرسے ملاقات ہوگئی وہ صبح کی نہاری کوشام کے وقت کھارہاتھااوراس کاچہرہ مرچوں کی تیزی کے باعث سرخ مرچ ہورہاتھا۔مجھے دیکھ کرکہنے لگا۔ تارڑصاحب مزآگیا؟
پچھلی شب میرلکھا ہواایک ڈرامہ ٹیلی ویژن پرچلاتھااس لئے میں نے سوچا کہ معراج پتھر اس کی تعریف کررہاہے چنانچہ میں نے پوچھا اچھا تھا؟
کہنے لگا۔

”اچھی ہے؟
میں نے کہا”کون؟
کہنے لگا ”یہی نہاری جومیں کھارہاہوں صرف مرچیں کم ہیں۔
اس کے بعد معراج پتھرنے ایک طویل لیکچر میں مجھے بتایاکہ نہاری کے اجزائے ترکیبی کیاہوتے ہیں اسے کس طرح پکایاجاتاہے اور اس کے کھانے کے بعداگلی صبح کھانے والے کوکیاکیا”مشکلات“ پیش آتی ہیں اور اگردیگ میں ایک دوکبوتر بھی کا بازو پکڑ لیا۔

یار معراج ایک دونہیں درجنوں کبوتر میرے پاس ہیں میرامطلب ہے۔شہتیروں میں بیٹھے ہیں خداکے لئے تم ان کوپکڑکران کی نہاری پکالو“۔
اس پروہ قدرے حیران ہوااور مجھ سے تفصیل اس اجمال کی پوچھی جومیں نے بیان کردی۔اس نے مجھے تسلی دی اورکہنے لگا”کبوتر کالے ہیں ناں؟میں نے کہابالکل۔تقریباََمیرے رنگ کے۔
وہ بولا۔”پھرتوباقاعدہ کالے سیاہ ہوئے۔

آپ جناب ایساکریں کہ کہیں سے سفید کبوتروں کے انڈے حاصل کریں۔انڈے صرف سفید کبوتروں کے ہونے چاہئیں پھران انڈوں کوان شہتیروں کے درمیان رکھ دیں۔جہاں یہ کالے کبوتر رہتے ہیں․․․کبوتران انڈوں پر بیٹھ جائیں گے اور جب ان میں سے بچے نکلین گے تووہ سفید ہوں گے۔
میں نے جھنجھلاکرکہامعراج پتھرمیں ان کبوتروں کوختم کرناچاہتاہوں اور تم ان کی افزائش نسل کی ترکیبیں بتارہے ہو․․․
معراج پتھربولا۔

بادشاہ ہوسنتے جاؤ۔جونہی انڈوں میں سے سفید بچے نکلیں گے کالے کبوتر ان کو دیکھ کراتنے ہراساں ہوں گے کہ فوراََاس جگہ سے ہمیشہ کے لئے چلے جائیں گے۔ہمارے چچا کبوتر باز کانسخہ ہے بے شک آزمالو۔
اب میں سوچ میں ہوں کہ سفیدکبوتروں کے انڈے کہاں سے حاصل کروں۔یہ نہ ہوکہ وہ کالے کبوتروں کے ہی ہوں انڈے کے اندرجھانک کرتودیکھاانہیں جاسکتا۔

ویسے عجیب بات ہے کہ کالے کبوتر محنت کرکے وقت ضائع کرتے ہیں اور انڈوں پربیٹھتے ہیں اور اگران میں سے سفید بچے نکل آئیں توانہیں دیکھ کربھاگ جاتے ہیں حالانکہ دنیاکہ ترقی پذیراقوام میں توایسے کالے کبوتر ہیں جو محنت کرتے ہیں۔مشقت کرتے ہیں اور جب بچے نکلتے ہیں تووہ سفید ہوتے ہیں اور انہیں ترقی یافتہ اقوام اپنے ہم نسل قراردے کرلے جاتے ہیں۔کالے کبوتروں کے لئے بہترہے کہ وہ اپنے انڈوں پرہی بیٹھا کریں۔

Your Thoughts and Comments