Kangri Sahab

کانگڑی صاحب

منگل اکتوبر

Kangri Sahab
اعتبار ساجد
کانگڑی صاحب دھان پان ، سینک سلائی آدمی ہیں۔ پھونک ماروتواڑ جائیں لیکن اپنے لئے ہمیشہ ہم کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔
” ہم نے اس کی گچی مروڑ کر رکھ دی۔“
” ہم نے ایک دھرااس کے تھوبڑے پر۔ دوسر کے کی نوبت نہیں آئی۔ کلٹی ہوگیا۔ “
اٹھارہ سوستاون کے بعد جتنی جنگیں وغیرہ ہوئی ہیں ان سے کسی نہ کسی طرح کانگڑی صاحب نے تعلق جوڑ لیا ہے۔

ان کا ماٹو یہ ہے کہ فریق مخالف کو سنبھلنے کی مہلت نہ دو ایک دم ،چھٹ پڑو۔ کلٹی ہوجائے گا۔
کلٹی کردینا، کلٹی کھلادینا، کلٹی کروادینا آپ کا مشغلہ ہے۔ پیشے کے لحاظ سے مدرس ہیں۔ شوق تنقید کا ہے شاعری بھی کرتے ہیں۔ غالب واقبال کے بعد کسی کو بڑا شاعر نہیں مانتے۔ اپنے بارے میں البتہ انکسار اور تذبذب کا شکار ہیں۔ کوئی بہت کرید کرید کر پوچھتے تو زچ ہوکرکہتے ہیں۔

(جاری ہے)

“ اچھا بابا اچھا۔ ہمیں بڑا شاعر مانتے ہوتو مہربانی ۔ نہیں مانتے تو کلٹی کھاؤ۔ “
ہر ہفتے تنقیدی نشستوں میں شامل ہوتے ہیں۔ دوپہر ہی سے تیاری شروع کرتے ہیں۔ کبھی کروٹیں بدلتے ہیں۔ کبھی کپڑے بدلتے ہیں۔کبھی گھڑی دیکھتے ہیں۔ کبھی اخبار کھول کے دن بھر کی پڑھی ہوئی خبریں پھر پڑھنے لگتے ہیں۔ بڑی اذیتوں، مشکلوں سے گذر کا شام ہوتی ہے۔

گھر سے نکل کے سیدھے ٹی ہاؤس پہنچتے ہیں۔راستے بھر کسی سے بات نہیں کرتے۔ کوئی حال پوچھ لے تو جواب نہیں دیتے۔ سارا غصہ، سارا طنطنہ سنبھال کے رکھتے ہیں۔ ادھر تنقیدی اجلاس شروع ہوا اور ادھرآپ نے دانت پیسنے شروع کیے۔دانت پیس رہے ہیں اور کھا جانے والی نظروں سے ان صاحب کو گھوررہے ہیں جو مقالہ یا نظم پڑھنے کے جرم کاارتکاب کررہے ہیں۔ جونہی ارتکاب جرم مکمل ہوتا ہے اور صدر مجلس کی طرف سے دعوت تنقید ملتی ہے آپ مارے خوشی کے اپنی کرسی پر اچھل پڑتے ہی۔

” جناب صدر․․․․․ یہ جو کچھ ابھی پڑھاگیا ہے سراسراصول تخلیق کے منافی ہے مثلاًبرٹینڈ رسل کہتا ہے․․․․․“
آپ نے کبھی برٹینڈرسل کو نہیں پڑھا۔ کیونکہ اسے پڑھنے کے لئے انگریزی جاننا ضروری ہے اور انگریزی سے آپ کے تعلقات ٹھیک نہیں۔
اس کی وجہ سن اٹھارہ سوستاون کا غدرہے ۔ ہمیشہ مخاطب کی ہر بات کی نفی کرتے ہیں اور ماننے والی باتیں بھی نہیں مانتے۔

مثلاًآپ نے کہا۔” واہ․․․․․․ آج تو موسم بہت خوشگوار ہے۔ بادل چھائے ہوئے ہیں۔“
فوراًآپ کی بات کی نفی کردیں گے۔” کوئی بادل وادل نہیں چھائے ہوئے۔ نزلے زکام کا بہانہ ہے۔دیکھ لیناففٹی پر سنٹ پبلک فلومیں مبتلا ہوجائے گی۔“
جھٹ اس کی بھی نفی کردیں گے۔ ” کوئی سمارٹ ومارٹ نظر نہیں آرہا۔ یہ ففٹی پر سنٹ پبلک کو خوش کرنے کا ایک بہانہ ہے۔


کانگڑی صاحب کی گفتگو اول سے لیکر آخر تک فتوحات اور جنگ وجدل سے بھر پور ہوتی ہے۔ دو چار فقروں کے بعد کسی ایسے شخص کا ذکرآئے گا جسے آپ نے کلٹی کردیا۔ ایک مرتبہ بتا رہے تھے کہ وہ نادانستگی میں بدمعاشوں کے چنگل میں پھنس گئے۔ ان کے گھیرے میں آگئے ۔ ہر طرف سے بندوقوں کی نالیں ان کی طرف اٹھی ہوئی تھیں ٹرائیگروں پر انگلیاں تھیں۔ قدم بہ قدم بدمعاش آگے بڑھ رہے تھے گھیرا تنگ کیا جارہا تھا۔

موت اور زندگی میں بس ڈیڑھ دو فٹ کا فاصلہ تھا کہ اچانک آپ نے پھرتی سے لپک کر سب سے آگے والے بدمعاش کی بندوق کی نال پکڑلی اور ایک جھٹکے سے پوری بندوق اپنے قبضے میں کرلی۔ ٹرائیگردبانے کا موقع نہیں تھا۔ ڈنڈے کی طرح بندوق چاروں طرف گھمانے لگے جو دو بدمعاشوں کے سرپہ لگی۔ تین چکراکے گرے۔ چار بوکھلا کر بندوقیں پھینک کے سیدھے کھڑے ہوگئے۔

مارے ڈرکے انہوں نے اوپر ہاتھ بھی نہیں اٹھائے البتہ بدمعاشوں کا سردار ہاتھ جوڑکے آگے آیا۔ کہنے لگا۔
’آج سے آپ اس گروہ کے سردار ہیں۔ مجھے اپنے فرزندی میں لے لیجئے۔ “
اس پہ ہم نے انہیں یاددلایا کہ فرزندی نہیں شاگردی کہا ہوگا۔کیونکہ فرزندی تو اور معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
بولے۔” معلوم ہے بھائی ۔ معلوم ہے۔ لیکن بدمعاشوں کو فرزندی اور شاگردی میں لینے کا محاورہ معلوم نہیں تھا ۔


ہم نے پوچھا۔ ” پھر کیا ہوا․․․․․․ آپ گروہ کے سردار بن گئے؟ “
براسامنہ بنا کر بولے۔” ارے نہیں صاحب ․․․․․․ یہی تورونا ہے ۔ ترس آگیا بچاروں کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کر․․․․․بندوق انہیں لوٹا دی۔ گھر چلے آئے۔“
” بدمعاشوں نے کچھ نہیں کہاآپ کو؟“ ہم نے حیرت سے پوچھا۔
” کہتے کیسے ؟ “وہ تلملا کربولے۔ ” گولیاں تو ہمارے پاس تھیں۔

بندوق ان کے حوالے کرنے سے پہلے گولیاں ہم نے نکال لی تھیں۔ “
” مگر دوسری بندوقیں تو تھیں ان کے پاس۔ گولیوں سمیت ؟ “
اس پر وہ چکرائے۔ پھر سنبھل گئے۔ بولے۔ ” سب کچھ سہی ان کے پاس۔ مگر حوصلہ نہیں تھا۔ہماری شخصیت کا کچھ ایسا سحران پر طاری ہوا کہ دم بخودرہ گئے۔ جب بندوق ہم نے ان کے حوالے کی تو سب گھگھیا کرکہنے لگے۔ تحفہ سمجھ کے رکھ لیجئے ۔

آپ کے کام آئے گی۔ “
کانگڑی صاحب کا یہی دلیرانہ رویہ ہے جو دنیائے ادب میں بھی ان کے ساتھ چل رہاہے۔ ادیبوں ، شاعروں اور مقالہ نگاروں سے بھی عموماًوہی سلوک کرتے ہیں جوگینگ لیڈر کے ساتھ کیا تھا۔ لوگ ان کی خستہ حالت دیکھ کے چپ ہوجاتے ہیں۔ یہ خوش ہوتے ہیں کہ دھاک بیٹھ گئی۔ دھاک بٹھانے کی ایسی لت پڑی ہے کہ کسی مرحلے اور کسی مقام پر نہیں چوکتے۔

بیگم میکے گئیں۔ دوکی جگہ چار دن لگ گئے۔ یہ مونچھیں مروڑتے، ڈولتے ڈگمگاتے ، تیز ہواسے خود کوبچاتے ، سنبھالتے، کھمبوں کا سہارا لے لے کر سسرال پہنچے۔ گنجان آبادگلی کے ایک مکان کے نیچے کھڑے ہوکر دونوں ہاتھ منہ کے آگے رکھ کر بھونپو بنایا اور کڑک دار آواز میں کہا۔ اوئے حفیظاں “ اتفاق دیکھئے کہ عین اسی وقت اہلیہ محترمہ گھر کا کوڑا کرکٹ سمیٹ کر دوسری منزل سے نیچے پھینکے بالکونی میں آئیں۔

شوہر کو دیکھتے ہی خوشی سے بے حال ہوگئیں۔ باسکٹ ہاتھ سے پھسل گئی۔ سیدھی شوہر نامدار کے سرپہ پڑی۔ آپ کی دلدوز چیخ سن کر آس پاس کی تمام کھڑکیاں کھل گئیں۔امورخانہ داری کی ماہرین باہر جھانکنے لگیں۔قہقہوں کا مینہ برسنے لگا۔ ستم یہ کہ ٹھیک اسی لمحے اسکولوں کی چھٹی ہوئی تھی بے شمار بچے تختیاں بستے لہراتے ، اسکولوں سے بھنبھناتے ہوئے نکلے تھے۔

انہوں نے جو آپ کو بے حال وبے محبت دیکھا تو تالیاں بجانے لگے۔
اس روز کے بعد آپ دن کی روشنی میں کبھی سسرال نہیں گئے ہمیشہ رات کی تاریکی میں ڈھاٹا باندھ کے سلطانہ ڈاکو کی وضع قطع بناکے گھر سے نکلے۔ سنا ہے بچے جہاں آپ کو دیکھ لیتے ہیں مارے خوشی ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔ تالیاں بجانے لگتے ہیں۔ ہر طرف سے ” اوئے اوئے “ کی دل خوش کن صدائیں آنے لگتی ہیں۔
ہزاروں جنگوں کا فاتح ، بدمعاشوں کو ناکوں چنے چبوانے والا شیر دل ، جرأت مند نقاد اور شاعر ایسے موقعوں پردوبدوجنگ کی بجائے سرنیہوڑا کے فرار کا رستہ ڈھونڈنے لگتا ہے کوئی جائے پناہ نہیں ملتی تو بگٹٹ بھاگ نکلتا ہے۔ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ آگے اللہ مالک ہے۔

Your Thoughts and Comments