Madam Soo Rahi Hai

میڈم سورہی ہیں

ہفتہ نومبر

Madam Soo Rahi Hai
 اعتبار ساجد
ایک دور تھا کہ ہم فلمی پریوں کے عاشق تھے اور جنات کی طرح ان کا طواف کرتے تھے۔ان سے انٹرویو کرتے تھے اور ان سے گفتگو کرکے جاں کو معطررکھتے تھے۔کون سی اداکارہ گوبھی گوشت پسند کرتی ہے۔کس اداکارہ کے کس شوہر نے کس بات پر اسے کب طلاق دی ،کس اداکارہ کو کون سی خوشبو پسند ہے۔کس اداکارہ نے اپنے پرستاروں کے نام کیا پیغام دیا ہے۔کس اداکارہ کے اپینڈ کس کا آپریشن کب ہوا۔

کس اداکارہ نے کتنے لاکھ میں کون سی کوٹھی کہاں بنوائی۔یہ اور اس قسم کے ہزاروں سوالات کے جوابات سیاق وسباق کے ساتھ ہمیں یادتھے۔لوگ ہماری ہیروئن شناسی پر فخر کرتے تھے اور ہیروئن کے سلسلے میں جب کوئی سوال انہیں پریشان کرتا تھا تو وہ ہم سے رجوع کرتے تھے۔
مگر اب مدت سے ہم نے یہ شغل ترک کر دیاہے۔

(جاری ہے)

لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اب ہم ہیروئنوں سے انٹرویو نہیں کرتے۔

ہم بات ٹالنے کے لئے یا تو موسم کا ذکر لے بیٹھتے ہیں یا مہنگائی کا تذکرہ چھیڑ دیتے ہیں ۔یا آئیں بائیں شائیں کرکے رہ جاتے ہیں ۔اب ہر شخص کو کون بتاتا پھرے کہ انٹرویوز سے ہمارے فرار کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔یہ اچھا بے ضرر اور دلچسپ شغل ہم نے ترک کیوں کر دیا۔
”مبارک علی دل پھینک نوجوان صحافی ہیں، حال ہی میں ایک شوبز میگزین سے وابستہ ہوئے ہیں خاصے پر عزم ہیں اور بغل میں ڈائری اور کندھے پر کیمرہ لٹکا کر صبح گھر سے نکلتے ہیں،رات کو پولیس ناکوں سے شناخت کرواکے واپس گھر لوٹتے ہیں۔


ایک روز انہوں نے ہمیں سینئر صحافی کہہ کر ہمارے تجربات سے افادے کے لئے ہماری وہ پرانی نوٹ بک برائے مطالعہ مستعارمانگ لی جس میں فلمی پریوں اور فلمی جناب وغیرہ کے فون نمبر درج تھے۔اس
 بوسیدہ ،کرم خوردہ اور خستہ حال ڈائری کا انہوں نے تین چاردن تک مطالعہ بغور فرمایا اور ان ریمار کس کے ساتھ ڈائری ہمیں واپس کر دی۔
”آپ نے توجناب مصیبت میں پھنسا دیاہے۔


ہم نے پوچھا۔”عزیزم۔وہ کس طرح؟“
کہنے لگے۔”جو نمبر ڈائل کرتاہوں آگے سے جواب ملتاہے۔سوری رانگ نمبر۔“
ہم نے کہا۔”عزیزم!ڈائری کے سال اشاعت پر بھی غور کر لیتے۔بہر حال آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے ۔کہ نمبر بدل گئے ہیں اور نئے نمبر ہمارے پاس نہیں ہم یہ شعبہ چھوڑ چکے ہیں۔“
وہ مایوس ہو کرچلے گئے۔چند دنوں بعد ایک تقریب میں ملاقات ہوئی۔

خاصا چہک رہے تھے ۔کہنے لگے۔”مبارک ہو جناب۔میں نے بہت نمبر ٹریس آؤٹ کرلئے ہیں ۔بڑی مشکل سے ہاتھ لگے ہیں۔“
ہم نے کہا۔”چلئے اچھا ہوا۔آپ کی پریشانی دور ہوئی۔“
کہنے لگے۔”دور کہاں ہوئی صاحب!پریشانی تو اب شروع ہوئی ہے۔“
ہم نے پوچھا۔”اب کیسی پریشانی؟“
بولے۔”جو بھی نمبر ڈائل کرتاہوں ۔آگے سے جواب ملتاہے۔میڈم شوٹنگ پر ہیں۔

اسٹوڈیو سے رابطہ کرتاہوں تو جواب ملتاہے ۔میڈم ابھی نہیں پہنچیں۔“
ہم نے کہا۔”اس کا بہتر حل یہ ہے کہ آپ خود اسٹوڈیو چلے جائیں اور جس کا انٹرویو کرنا ہو،اس سے مل لیں۔“
بولے۔”یہ بھی کر چکا ہوں۔لیکن بات نہیں بنتی جس ہیروئن کا انٹرویو کرنے جاتا ہوں ا ول تو وہ ملتی نہیں،مل جائے تو بات نہیں کرتی ۔بات کرے تو انٹرویو نہیں دیتی۔
انٹرویو دے دے تو تصویریں نہیں دیتی۔

گھر جا کر ملنا چاہتاہوں تو پتہ چلتاہے کہ میڈم سورہی ہیں۔“
ہم نے کہا۔”خیر․․․․․گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔اس فیلڈ میں ایسا ہی ہوتاہے۔آپ اپنی دھن میں لگے رہیں۔کامیاب ہو جائیں گے۔“
اس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ ہمارے مشورے پر عمل کریں گے اور کامیابی سے ہمکنار ہو کر رہیں گے۔
کچھ عرصے بعد وہ بڑے مایوس ،دل گرفتہ اور پریشان حال ہمارے پاس آئے کہنے لگے۔

”جناب میرے ساتھ بہت برا ہوا۔“
ہم نے انہیں تسلی دی۔چائے منگوائی اور ان کی درد بھری عبرت انگیز داستان سننے لگے۔
انہوں نے بتایا کہ پچھلے دنوں سے ان کے ذہن میں ایک ہی دھن سوار تھی۔کہ فلاں ہیرؤئن کا انٹرویو کریں۔جب بھی گھر پہ فون کیا،معلوم ہوا میڈم سورہی ہیں ۔ایک روز انہیں ضد ہو گئی کہ بہر صورت میڈم کو جگاکے رہیں گے،لہٰذا انہوں نے صبح دس بجے میڈم کو فون کیا۔


معلوم ہواکہ میڈم سورہی ہیں۔
دل پھینک نے پوچھا۔”کب جاگیں گے۔“
جواب ملا۔”بارہ بجے پتہ کریں۔“
انہوں نے ٹھیک بارہ بجے پتہ کیا معلوم ہوا۔میڈم بدستور سورہی ہیں ۔آپ چاربجے پتہ کریں۔انہوں نے چار بجے فون کیا۔وہی جواب ملا۔سات بجے فون کیا تو معلوم ہوا کہ اسٹوڈیو تشریف لے گئی ہیں ۔شوٹنگ پر اسٹوڈیو گیا تو معلوم ہوا کہ میڈم نہیں پہنچیں کیونکہ آج ان کی کوئی شوٹنگ نہیں ۔

وہ گزشتہ بیس دن سے آؤٹ ڈور کے لئے چترال گئی ہوئی ہیں۔
مبارک علی دل پھینک نے ایک تھکی تھکی جمائی لے کر کہا۔”اب یہ حالت ہیں ۔آپ خود سوچیں فلمی ،صحافت کیا خاک ترقی کرے گی۔میں تو تنگ آکر سوچ رہاہوں کہ یہ فیلڈ ہی چھوڑ دوں۔ کیا خیال ہے
 ۔آپ کا ۔؟“
ہم نے ان کے شانے تھپک کر انہیں تسلی دی ۔البتہ اپنے دل میں ضرور کہا۔
”آپ تو میاں اب اس فیصلے پر پہنچے ہیں ۔ہم نے تویہ فیصلہ برسوں پہلے کر لیا تھا ۔پہلے میڈمیں سوتی تھیں۔اب ہم سوتے اور چین کی نیند سوتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments