Mamta!

مامتا!

عطاالحق قاسمی ہفتہ ستمبر

Mamta!
آج میں کیمپ جیل کے سامنے سے گزر ا تو مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آگیا!
ہمارے وزیر آباد کے گھر میں ایک چڑیا نے روشن دان میں گھونسلہ بنایا تھا۔میں نے اسے یہ گھونسلہ بناتے خود دیکھا تھا‘وہ اپنی چونچ میں پتہ نہیں کہاں سے ایک تنکا لے کر آتی اور وہاں رکھ دیتی‘پھر یہ تنکے جمع ہوتے گئے اور بالا خر ان تنکوں نے ایک گھونسلے کی شکل اختیار کرلی۔


ایک دن میں کمرے میں داخل ہوا تو مجھے ایک نامانوس سی آواز سنائی دی۔میں نے آواز کا پیچھا کیا تو یہ اس گھونسلے میں سے آرہی تھی۔ہمارے گھر میں ایک سیڑھی ہوتی تھی دوپہر کا وقت تھا‘سب سورہے تھے میں نے اپنے دوست سمیع کو بلایا۔ہم دونوں نے مل کر سیڑھی دیوار کے ساتھ لگائی‘سمیع نے سیڑھی کو سہارا دیا اور میں زینہ زینہ طے کرکے گھونسلے تک پہنچ گیا۔

(جاری ہے)

اور یہ دیکھ کر خوشی سے میری چیخ نکل گئی کہ گھونسلے میں ایک ننھا مناسا”بوٹ“(چڑیا کا بچہ)سکڑا ہوا بیٹھا چوں چوں کی آوازیں نکال رہا تھا۔میں نے اسے نرمی سے ایک ہاتھ میں پکڑا اور احتیاط سے سیڑھی کے زینوں پر پاؤں دھرتا نیچے اتر آیا جہاں سمیع بے تابی سے میرا منتظر تھا۔
سمیع نے میرے ہاتھ میں پیارا سا”بوٹ“دیکھا تو خوشی سے اس کا چہرہ تمتما اٹھا۔

ہم نے اسے بہت پیار سے فرش پر رکھا اور اس تقریباً نوز ائدہ بچے کی حرکات وسکنات سے محظوظ ہوتے رہے۔ہم سرگوشیوں میں ایک دوسرے سے اپنی اس کامیابی اور اس انوکھے تجربے پر اظہار مسرت کررہے تھے۔اتنے میں چڑیا باہر سے روشن دان میں داخل ہوئی اور گھونسلے میں اپنے بچے کونہ پاکر دیوانہ وار کمرے میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک چکر لگانے لگی۔اس دوران اس کی نظر اپنے بچے پر پڑ گئی جو ہمارے پاؤں کے قریب فرش پر آنکھیں بند کئے پڑا تھا۔

بچے کو دیکھتے ہی چڑیا کی بے چینی اور بے قراری میں اضافہ ہو گیا۔وہ سخت اضطراب کے عالم میں میرے اورسمیع کے گرد چکر لگانے لگ گئی۔
اب وہ صرف چکر ہی نہیں کاٹ رہی تھی بلکہ اس نے چوں چوں کرکے سارا گھر سر پر اٹھا لیا تھا‘اس کی آواز جو کبھی چہکارہوتی تھی ‘اب چیخ میں بدل گئی تھی اس چیک میں مامتاکی فریاد بھی تھی۔احتجاج بھی تھا اور بے بسی کا اظہار بھی تھا۔

میرادل ماں کی اس پکار سے پگھلنا شروع ہو گیا تھا۔اور میں خود کو مجرم سا محسوس کر رہا تھا۔شاید یہی کیفیت سمیع کی بھی تھی۔اس نے میری طرف اور میں نے اس کی طرف دیکھا اور ابھی ہم کوئی فیصلہ نہیں کر پائے تھے کہ چڑیا کی چیک وپکار سے امی کی آنکھ کھل گئی‘انہوں نے کمرے میں قدم رکھا تو چڑیا نے فریاد کرتے ہوئے امی کے چکر کاٹنا شروع کر دئیے جیسے ایک ماں ایک دوسری ماں سے اپنے بچے کی رہائی کی درخواست کر رہی ہو۔

پپشتر اس کے کہ امی ہمیں کچھ کہتیں میں چپکے سے سیڑھیوں کے زینے طے کرتا ہوا گھونسلے تک پہنچا اور بوٹ واپس اس جگہ رکھ دیا جہاں سے اٹھایا تھا۔اس کے ساتھ ہی ہمیں یوں لگا جیسے چڑیا کی بے قرار روح کو قرار آگیا ہو جیسے مامتاکی بے چینی چین اور سکون میں بدل گئی ہو۔مجھے اور سمیع کو یوں لگا جیسے اس ماں نے ہمیں جتنی بد دعائیں دی تھیں وہ سب واپس لے لی ہیں اور اس نے نہ صرف یہ کہ ہمارا قصور معاف کر دیا ہے بلکہ اس کے لبوں پر ہمارے لئے دعا ہے کہ خدا تمہیں اور کسی کو بھی اپنی ماں کی مامتاسے محروم نہ رکھے۔


آج اس واقعہ کو چالیس برس سے زیادہ ہو گئے ہیں ۔میرا گزر جب کبھی کسی جیل کے سامنے سے ہوتا ہے مجھے وہ چڑیا اور اس کا بوٹ یاد آجاتاہے‘میں سوچتا ہوں اس بلند وبالا چار دیواری کے پیچھے خدا جانے کتنے بے گناہ قید ہیں۔ جن کا یاتو سرے سے کوئی قصور نہیں ہے یا ابھی تک انہیں ان کا قصور ہی نہیں بتایا گیا اور یا کئی برسوں سے وہ ”ملزم“کی حیثیت سے جیل کاٹ رہے ہیں اور عدالتوں کے پاس انہیں بے گناہ یا گناہ گار قرار دینے کے لئے وقت ہی نہیں ہے ۔

مجھے ان جیلوں میں بے گناہوں کی کھولیوں کے گرد ان کی ماؤں کی بے چین روحیں چکر کا ٹتی نظر آتی ہیں ۔جو اپنی چہکار بھول چکی ہیں اور ان کے ہونٹوں پر ایک چیخ ہے ۔اس چیخ میں غصہ بھی ہے ۔فریاد بھی ہے اور بے بسی کا اظہار بھی ہے۔
ہم سب کو مامتا کی دعاؤں کی تمنا کرنا چاہیے اور ان کی بددعا سے ڈرنا چاہیے۔جو”بوٹ“کی طرح معصوم ہوں!

Your Thoughts and Comments