Meherban Qadardaan

مہر بان قدر دان

عطاالحق قاسمی منگل ستمبر

Meherban Qadardaan
مہر بان قدر دان! اس وقت آپ کے سامنے یہ ڈب کھڑبا لال رنگ کا جو سانپ پڑا ہے‘اسے جونسرا کہتے ہیں۔یہ گھروں میں اور مکانوں کی چھتوں میں پایا جاتا ہے۔اسے دیکھ کر لوگوں میں دہشت پھیل جاتی ہے۔جس گھر سے یہ سانپ برآمد ہو‘اس گھر کے مکین خو فزدہ ہو جاتے ہیں‘لیکن مہربان قدر دان یہ سانپ دیکھنے میں جس قدر موٹا تازہ ہے‘اتنا خطر ناک نہیں ہے۔اسے”چوہے کھانا“سانپ کہتے ہیں۔

اسے صرف چوہے کھانے سے غرض ہوتی ہے یہ انسان کو کاٹتا ضرور ہے کہ فطرت سے مجبور ہے‘مگر قدرت نے اس میں زہر نہیں رکھا‘چنانچہ جس جگہ یہ کاٹے‘وہاں سے خون کی ایک بوند نکلتی ہے۔معمولی سادرداٹھتا ہے اور پھر مار گزیدہ اگلے ہی لمحے ٹھیک ہو جاتاہے۔
لیکن مہربان!سانپ آخر سانپ ہے۔یہ لال رنگ کا ڈب کھڑ با جو نسرا سانپ بھی اگر چہ صرف چوہے کھانے سے غرض رکھتا ہے‘مگر جس گھر سے برآمد ہو ایک دفعہ وہاں ہراس پھیل جاتا ہے‘کیونکہ سانپ اور چور کی دہشت ایک جتنی ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

کسی گھر میں کوئی کمزور سا چور بھی گھس جائے تو گھر والوں پر خوف طاری ہو جاتا ہے۔بڑا کڑیل سے کڑیل نو جوان بھی چور کے پاؤں کی چاپ سن کر ایک دم اس کے سامنے نہیں آتا نہیں بھا گتا چور کیا کر گزر ے‘چنانچہ وہ اندر ہی اندر رعب دار آوازیں نکا لتا ہے تاکہ چور وقت پا کر خود ہی فرار ہو جائے۔سانپ کا معاملہ بھی یہ ہے ۔یہ لال رنگ کا ڈب کھڑبا جو نسرا سانپ جب دن یا رات کو غسل خانے کی موری میں نظر آتا ہے‘تو دیکھنے والے کی گھگی بندھ جاتی ہے ‘لیکن اگر وہ اپنے ہوش وحواس بر قرار رکھے ‘تو اس پر قابو پانا مشکل نہیں ہوتا کہ یہ صرف ”چوہے کھانا“سانپ ہے‘اسے دو تین پلٹیاں دیں تو الٹا ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے۔


مگر مہر بان قدر دان‘میرے پٹارے میں صرف لال رنگ کا ڈب کھڑبا جونسرا سانپ ہی نہیں ہے‘دوسرے سانپ بھی ہیں ۔ابھی میں اپنی پٹاری میں سے جو سانپ نکالوں گا وہ جونسر ے کی طرح موٹا تازہ نہیں ‘معمولی جسامت کا سانپ ہے‘لیکن اس کا ڈ سا پانی نہیں مانگتا ۔صاحبان! دو دو گزپرے ہو جائیں‘ایک نعرہ علی کا ماریں‘جیب پاکٹ سے ہو شیار رہیں۔یہ سانپ میں نے زمین پر چھوڑ دیا ہے‘اوئے منڈیا‘ذرا پرے ہٹ کر کھلو۔

یہ سانپ آندھی کی رفتار سے چلتا ہے‘بغیر اشتعال کے حملہ کرتا ہے اور پھر فوراً اپنے بل میں گھس جاتا ہے ۔یہ زیادہ وقت اپنے بل میں گزار تا ہے۔
کسی کو ڈسنا ہو ‘تو بل سے نکلتا ہے اور ڈسنے کے بعد دوبارہ بل میں گھس جاتا ہے ‘اگر لوگ اس کے بل کا سراغ لگا لیں’تو پھر وہ بھی اس کا قلع قمع کرنے پر تل جاتے ہیں‘چنانچہ وہ کدال وغیرہ سے اس کا بل کھودنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر ایک ہی وار میں اس کا خاتمہ کر دیتے ہیں کیونکہ سانپ کی طاقت اس کے زہر میں نہیں ‘اس کے بل میں ہے ۔

بعد میں یہ لڑکے بالے اس مرے ہوئے سانپ کو لکڑی پر لٹکائے ہوئے گلی گلی پھرتے ہیں‘مگر اس کی دہشت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اس کے قریب جانے کی ہمت بہت کم لوگ کرتے ہیں۔اوئے مناڈیا پرے ہٹ کے کھلو۔یہ سانپ جو اس وقت آپ کے سامنے گرمی کی وجہ سے ادھ موا پڑا ہے‘زندگی کی پوری حرارت سے محروم ہے ۔
اوئے لڑکے‘تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے‘قریب نہ آؤ۔میں نے اس کے دانت نہیں نکالے‘کیونکہ میں سانپ کے دانت نہیں نکالتا انسانوں کے دانت نکا لتا ہوں۔

اگر آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں ‘تو وہ زنبورکے ساتھ دانت نکالے گا اور لہولہان کر دے گا۔میں انگشت شہادت سے دانت نکا لتا ہوں‘جن صاحب کا کوئی دانت کمزور ہو گیا ہو‘وہ آگے تشریف لائیں۔مہر بان قدر دان میں نے سانپ کو پٹاری میں بند کر دیا ہے‘اب ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔انگشت شہادت سے دانت نکلوائیں‘میں تیس سال سے یہی کام کرتا ہوں‘پٹاری میں سے سانپ نکا لتا ہوں اور انگشت شہادت سے دانت نکا لتا ہوں۔بسم اللہ!

Your Thoughts and Comments