Siasi Or Social Qurbaniyaan

سیاسی و سوشل قربانیاں!

پیر اکتوبر

Siasi Or Social Qurbaniyaan
شوکت علی مظفر
لاہور میں قربانی کے جانور گردن اور پائے دیکھ کر پسند کیے جاتے ہیں۔ پشاور والے گوشت کا اندازہ کرنے کے بعد جانور پر ہاتھ ڈالتے ہیں۔ کوئٹہ میں بڑے جانوروں کو منہ ہی نہیں لگایا جاتاجبکہ کراچی میں جانور کی کھال سے اُسے اہمیت دی جاتی ہے۔حتیٰ کہ قربانی ٹیکس لینا اور جانوروں کی ٹارگٹ کلنگ کرناکراچی ہی کی شان ہے۔


مُلک کے ہر شہر میں جانوروں کی منڈیاں لگائی جاتی ہیں لیکن لاہور واحد شہر ہے جہاں منڈی جانے والے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔مَلک کہتا ہے وہاں سے آنے والوں کو بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ لگتا ہے جمہوری سیاست اسی طرح کی کسی منڈی میں ظہور پذیر ہوئی ہے ورنہ آغا شورش کشمیری کبھی نہ کہتے:
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
فی الحال تو قربانی کے جانور ہیں جو تماش بینوں میں گھرے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

یہ بھی سیاست کا ہی کرشمہ ہے کہ خریدنے والے کم اور تماشا دیکھنے والے زیادہ ہوگئے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے ، جانور لوگوں کی بے بسی کا تماشا دیکھتے ہیں اور لوگ ، جانوروں کی زیب و زینت اور قیمتوں سے دل بہلاتے ہیں۔ مَلک نے بھی چار لاکھ والے بیل کے ساتھ تصویر کھینچ کر فیس پر لگائی ہے اور سینکڑوں پسندیدگی کی اسناد حاصل کی ہیں۔ فیس بُک بھی کما ل کی چیز ہے، جس لڑکی کے پاس چنگ چی کا کرایہ بھی نہیں ہوتا، وہ بھی شریف النفس بچھڑے کے ساتھ کھڑے ہوکر تصویر بنا کر فیس بُک پر اَپ لوڈ کردیتی ہے”ابو نے آج ہی ڈھائی لاکھ کا خریدا ہے۔

“ فیس بُک والے لڑکے بس کے ڈنڈے سے لٹک کر منڈی پہنچتے ہیں، موبائل فون سے تصویریں بنا کر شوخیاں مارتے رہتے ہیں۔ اب تو قربانیاں بھی سیاسی و سوشل ہوگئیں ہیں۔اصل قربانی وہ ہے جس پر اللہ عزوجل کا لائک کلک ہوجائے!!

Your Thoughts and Comments