Siyasat Ki Mandi

سیاست کی منڈی

جمعرات اکتوبر

Siyasat Ki Mandi
سید عارف نوناری
سیاست میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دو طاقتوں کے مقابلہ سے ملک میں سیاسی تناؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے۔نواز شریف‘بے نظیر اور بے نظیر‘ نواز شریف میں کیڑے نکال کر اپنے غبار کو اتارتے رہتے ہیں تعمیری سوچ کو دونوں نظر انداز کرکے کوڑے کے ڈھیر کو الٹ پلٹ کرکے عوام کو کسی نہ کسی سوچ میں مبتلا کرتے رہتے ہیں۔ان کے بھی چار دن اس طرح اچھے کٹ جاتے ہیں اور عوام کے بھی چار دن اچھے گزر جاتے ہیں لیکن اصل مسائل جوں کے توں اٹکے رہتے ہیں۔

بے نظیر نے سکھوں کی امداد کا بیان دیا تو نواز شریف نے ایشو بنا کر عوام کو نچایا۔مسئلہ کشمیر کے متعلق قرار داد پاس نہ ہو سکی تو نواز شریف نے پتہ نہیں کیا کچھ کہا اور اپنے نمبر مسئلہ کشمیر کے متعلق بنائے۔اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ ملک کے مسائل کو اچھالا نہ جائے بلکہ ان کا حل تلاش کیا جائے۔

(جاری ہے)

میرا خیال ہے کہ اگر آئندہ چند سالوں میں کوئی تیسری پارٹی خدا نخواستہ برسر اقتدار آگئی تو ضرور ان دونوں پارٹیوں کی طرح نکتہ چینی کی راہ اپنانے میں عار محسوس نہ کرے۔

بے روزگاری‘مہنگائی‘امریکہ کا دباؤ قبول کرنا یا نہ کرنا‘کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ‘آٹے کی قیمتوں میں اضافہ‘یہ سب ہماری غلط پالیسیوں کا خمیازہ ہے جو عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کوئی سیاسی لیڈر‘ممبران‘وزراء نہ تو قوم سے مخلص ہیں اور نہ عوام سے ۔کیونکہ اصل میں سب سیاسی مفادات کے پجاری ہیں۔نواز شریف اور بے نظیر کو کیا پتہ کہ غربت کیا ہے‘غریب کیسے زندگی بسر کرتا ہے؟انہوں نے کبھی غریبی دیکھی ہوتو محسوس کریں۔

فقط نعرے‘ تقریروں میں غریب عوام کے ساتھ جذبات کا اظہار‘بس اور کچھ نہیں۔
منظور وٹو اور مسلم لیگ کا پی پی پی کے ساتھ الحاق صرف سیاسی بنیادوں پر قائم ہے۔عوامی بنیادیں اس میں بالکل شامل نہیں ہیں۔وہ سیاست پاکستان سے ختم ہو چکی ہے جو کہ مخلص سیاست اور غریبوں کی سیات تھی۔جاگیردار آتے ہیں آکر چلے جاتے ہیں‘افسوس کہ ان پڑھ عوام سیاسی لیڈران کے بیانات کو حدیث تصور کرتے ہیں۔

جب یہ سیاستدان دوستوں میں ہوتے ہیں تو پھر عوام کو بے وقوف بنانے کے قصے ضرور بیان کرتے ہیں۔مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ایسا پاکستان کے ساتھ کب تک ہوتا رہے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں سوچ پیدا کرکے ان کو سیاسی چونچلوں سے آگاہ کیا جائے تاکہ عوام مثبت سوچ سے ملک کی تعمیر کر سکیں۔
پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے کسی حکومت نے مخلصانہ کاوشیں نہیں کیں۔

پارٹی تنظیم کے عہدیدار‘لیڈران پارٹی ٹکٹ خرچہ دے کر لیتے ہیں اور پھر خرچہ پورا کرتے ہیں۔نیچے سے لے کر سیاست کے اوپر تک یہ عمل جاری ہے۔یعنی سیاست عوام کی خدمت نہیں عوام کی خرید و فروخت ہو گئی ہے۔نواز شریف اور بے نظیر دونوں خرید و فروخت کے استاد ہیں ان کے چیلے تو ماہر ہیں۔جتنا خرچہ لگایا جاتا ہے منافع اس سے کئی گنا زیادہ کمایا جاتا ہے۔

سیاست روزگار کی صنعت ہے جہاں سرمایہ لگا کر سرمایہ حاصل کرکے سیاستدان آرام کرتے ہیں جو بھی پاکستان کی سیاست میں آیا کھایا پیا اور چلا گیا پھر کیوں نہ پاکستان کی بنیادیں کمزور ہوں۔عرصہ دراز سے مسلم لیگ اور پی پی پی دونوں قوتیں پاکستان پر قابض ہیں اگر تیسری قوت آتی ہے تو وہ بھی ایسا رویہ اپنائے گی جو ملک کے لئے نقصان دہ اور اپنے مفاد میں نہ ہو۔

پالیسیوں‘ منصوبوں پر تنقید صرف اسی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ تمام لوگ ایک جیسی پالیسیاں بنا کر اپنوں کو نوازتے ہیں۔الیکشن میں سودے بازی اور سب سودے بازی،سیاست مچھلی منڈی‘سبزی منڈی اور غلہ منڈی ہے ریٹ مختلف ہیں‘اگر پاکستان کی سیات اور سالمیت کو بچانا ہے تو مخلص سیاست دان پیدا کرنے ہوں گے۔ایسے نہیں جو عوام سے رابطے منقطع کرکے پھر اگلے پانچ سال کا انتظار کریں۔

راقم خود اسلام آباد کا ماحول دیکھ کر اپنا ماحول خراب کر بیٹھا اور اپنے ماحول پر افسوس بھی ہوا کہ کیوں نہ سیاست میں چھلانگ لگا دی جائے کہ ممبران اسلام آباد میں بادشاہت کے مشیر نظر آتے ہیں پھر دوستوں کا خیال آجاتا ہے۔سیاست سست روی کا نام ہے سست روی صرف عوامی رابطہ میں،باقی سیاست میں تیزی سے کمانا اور پھر اگلے الیکشن تک خاموش تماشائی بنے رہنا۔ملک و قوم کی اصلاح وبہبود کرنا ہے تو انقلاب کے سوائے اس کا کوئی علاج نہیں ورنہ سارا پاکستان بیمارستان ہے اور یہاں ڈاکٹروں کی بھی بہت کمی ہے۔

Your Thoughts and Comments