پاکستان مشرقی وسطیٰ اور افریقہ کی تیزی سے ترقی کرتی مارکیٹوں میں شامل

پاکستانی صارفین کے اعتماد کے اسکور میں نو پوائنٹس کا اضافہ ملک کیلئے بہتر نقطہ نظر کی نشان دہی کرتا ہے ،ْ قرة العین ابراہیم

منگل جنوری 17:39

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جنوری2018ء) عالمی پرفارمنس مینجمنٹ کمپنی نیلسن ہولڈنگز پی ایل سی نے گلوبل سروے کے نتائج جاری کرتے ہوئے کیا ہے کہ پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اور اسے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے خطے میں تیزی سے ترقی کرتی مارکیٹوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔صارفین کے اعتماد اور خرچ کے ارادے پر نیلسن کے گلوبل سروے کے نتائج اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے صارفین کا اعتماد 2017 کی تیسری سہ ماہی میں 9 پوائنٹس بڑھ کراب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، گزشتہ سہ ماہی کے انڈیکس میں 102 سے بڑھ کر 111 ہو گیا ہے۔

کمپنی اعلامیے کے مطابق سروے کے اعدادو شمار نے ملازمت کے حوالے سے مثبت خیالات کو نمایاں کیا جو دوسری سہ ماہی میں 47 فیصد سے بڑھ کر تیسری سہ ماہی میں 57 فیصد تک ہو گیا ،ْ اپنی ذاتی مالیاتی حالت کے حوالے سے پر امید جواب دینے والے افراد کی تعداد دوسری سہ ماہی سے 2 فیصد پوائنٹس بڑھ کر 66 فیصد ہو چکی ہے ،ْ نتیجتاً فوری خرچ کے ارادے 2017 کی دوسری سہ ماہی کے 46 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 49 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

(جاری ہے)

نیلسن پاکستان کی مینجنگ ڈائریکٹر قرة العین ابراہیم نے کہا کہ پاکستانی صارفین کے اعتماد کے اسکور میں نو پوائنٹس کا اضافہ ملک کے لیے بہتر نقطہ نظر کی نشان دہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیلسن کے اس سروے کے اجرا سے اب تک کا سب سے بلند ترین نمبر ہے ،ْہم اس اسکور کو بہت سی مختلف وجوہات سے منسوب کر سکتے ہیں، مثلاً ہمارے زرعی شعبے کی ترقی، منضبط افراط زر، مضبوط تر پاور سپلائی اور سب سے بڑھ کر ہماری مارکیٹ میں نوکریوں میں اضافہ ہوا۔

قرة العین کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر اشیا کی تیاری خصوصاً آٹو موٹو صنعت میں بھی اضافہ ہوا، پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اور اسے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے خطے میں تیزی سے ترقی کرتی مارکیٹوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے تاہم نوکریوں کے تحفظ کے معاملے میں ایک فیصد پوائنٹ کی کمی واقع ہوئی جو آئندہ 6 ماہ کے عرصے میں سب سے بڑا لمحہ فکریہ ہو گا اور یہ 21 فیصد پاکستانی صارفین کیلئے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments