کرونا کے نئے ویرینٹ اومی کرون سے بچنے کے لیے وفاق کو مو ثر اقدامات اٹھانے ہونگے، وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو

ملک میں داخل ہونے والے افراد کا ایئرپورٹس اور دیگر داخلہ پوائینٹس پر ریپڈ اینٹی جینٹ یقینی بنایا جائے سندھ حکومت کی طرف سے بوسٹر ڈوز مفت میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے، سندھ کو بوسٹر ویکسین کے لیے 20 لاکھ خوراکوں کی ضرورت ہے

منگل 30 نومبر 2021 00:29

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 نومبر2021ء) وزیر صحت و بہبود آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ کرونا کے نئے ویرینٹ اومی کرون سے بچنے کے لیے وفاق کو مو ثر اقدامات اٹھانے ہونگے ملک میں داخل ہونے والے افراد کا ایئرپورٹس اور دیگر داخلہ پوائینٹس پر ریپڈ اینٹی جینٹ یقینی بنایا جائے، سندھ حکومت کی طرف سے بوسٹر ڈوز مفت میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے، سندھ کو بوسٹر ویکسین کے لیے 20 لاکھ خوراکوں کی ضرورت ہے۔

یہ بات انہوں نے سندھ اسمبلی میں واقع کمیٹی روم نمبر ون میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکریٹری قاسم سراج سومرو اور دیگر بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ کرونا کے نئے ویرینٹ اومی کرون کی جینو مک پرو فا ئیلنگ کے دورا ن 30 جگہوں پر تبدیلیاں دیکھی جا چکی ہیں، جس کے ویکسینیٹڈ افراد پر کیا اثرات ہونگے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا لیکن ابھی ہمیں احتیاط کے ساتھ سنجیدگی کا مظاہرہ اختیار کرنا ہوگا، صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ وفاق کو ملک کی داخلہ پوائینٹس خاص طور پر ایئر پورٹس پر ریپڈ اینٹی جینٹ کے نظام کو دوبارہ شروع کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ویکسینیٹڈ افراد کو اگر دوبارہ کرونا ہوتا ہے تو سندھ حکومت کی طرف سے ان کی جینومک پروفائلنگ کی جائیگی، انہوں نے کہا کہ احتیاط کا لازمی جز ویکسین لگوانا اور ماسک پہننا ہے، ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ سندھ حکومت نے بوسٹر ڈوزز مفت لگانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ہمارے پاس اتنے ڈوزز نہیں کہ سب کو بوسٹر ڈو زز لگا سکیں، صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ہم نے وفاق سے 10 لاکھ فائزر، 5 لاکھ موڈرنا اور 5 لاکھ ایسٹرا زینیکا کی فراہمی کا کہا ہے یہ تمام خوراکیں بوسٹر ڈوز کے طور پر استعمال کی جائیں گی، اس کے علاوہ ہم اسکولوں کے بچوں کو بھی ویکسین لگا رہے ہیں، صوبائی وزیر صحت نے کہا کے فرنٹ لائین ورکرز اور دیگر ہیلتھ پروفیشنلز کو بوسٹر ڈوز لگانے کا مرحلہ جلد مکمل کیا جائے گا، صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ہمارے پاس ویکسین کی کمی ہے، گاو ں دیہاتوں اور دور دراز علاقوں میں موبائل ٹیمیں بھیج کر ویکسین لگائی جائیگی، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بوگس کارڈز کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، NIMSمیں ویکسین کے حتمی اندرا ج کا نظام مو ثر ہے جس میں غلط اندرا ج ممکن نہیں، سندھ میں غلط اندرا ج کی شکا یا ت پر افسرا ن اور عملے کے خلا ف کا روائی کی جا چکی ہے ۔

(جاری ہے)

ایک سوال پر صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ شروع کے دونوں میں اندازہ نہیں تھا کہ کس طرح وائرس سے بچا جائے، پہلے ویکسین نہیں تھی اس لیے سخت اقدامات لینے پڑے اس وقت ویکسین موجود ہے جو کہ و ائرس سے بچاو کا اہم ذریعہ ہے۔ وفاق سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بوسٹر ڈو ززمفت لگائی جائیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ تھر میں نیوٹریشن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 50 ڈسپینسریاں کھولی جائیں گی، بچے تندرست پیدا ہونگے تو اموات کی تعداد کم ہوجائے گی۔ ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد ہم 50 فیصد مارکس پر داخلہ دیں گے، انہوں نے کہا کہ جناح ہسپتال میں خالی آسامیوں پر جلد ڈاکٹرز بھرتی کیے جائیں گے اور جناح ہسپتال کے دیگر مسائل بھی جلد حل کیے جائیں گے۔

کراچی میں شائع ہونے والی مزید خبریں