اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںگزشتہ دور میں پنجاب اسمبلی سے نئے صوبے کی قرارداد منظور کر کے کہا گیا ..

گزشتہ دور میں پنجاب اسمبلی سے نئے صوبے کی قرارداد منظور کر کے کہا گیا وفاق میں پی پی کی حکومت ہے لیکن اب کیا رکاوٹ ہے ‘ ذوالفقار کھوسہ

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتاز ترین ۔ 1جنوری 2015ء) سینئر سیاستدان سینیٹر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں پنجاب اسمبلی سے نئے صوبے کی قرارداد منظور کر کے کہا گیا کہ وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے لیکن بتایا جائے اب کیا رکاوٹ ہے ،فوج ، پارلیمنٹ ، عدلیہ اور میڈیا چار ستون ہیں تو پھر کیوں ہم بار بار ان اداروں کو مس ٹریٹ کرتے ہیں ،” کڑاکے کڈ دیو“یہ فقرے سب نے سنے ہوئے ہیں ، مجھے مسلم لیگ کی قیادت سے کوئی عہدہ یا وزارت نہیں چاہیے میرا جیسا آدمی جہاں بیٹھے اس کو صرف وہاں عزت ملنی چاہیے ، ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ پی پی کا ٹکٹ کسی کھمبے کو بھی دیا جائے تو وہ بھی اسمبلی کا ممبر بن جائے گا اب شریف برادران کے ذہن میں بھی یہ بات داخل ہو چکی ہے کہ یہ کسی عام بندے کو ٹکٹ دیں گے تو وہ بھی اسمبلی کا ممبر بن جائے گا ۔

(خبر جاری ہے)

ایک انٹر ویو میں سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ آج شریف برادران ان لوگوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں جو کل پرویز مشرف یا دوسری حکومتوں کے ساتھ تھے اور مشکل وقت میں ساتھ دینے والے دیرینہ ساتھیوں اور کارکنوں کو بھلا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن حالات میں پی ٹی آئی نے الیکشن لڑے ہیں اور جو آئندہ الیکشن ہوں وہ حالات یکساں نہیں ہوں گے ۔

مسلم لیگ کے وہ کارکن آج سخت ناراض ہیں جنہوں نے اپنے گھر والوں کو پریشانی مبتلا رکھا ، جنہوں نے اپنا کاروبار داؤ پر لگا دیا اور ہماری خاطر احتجاج پر نکلے آج ان کو تو پیچھے کردیا گیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ میں چوہدری نثار کے حوالے سے کچھ کہنا تو نہیں چاہتا مگر مجھے معلوم ہے وہ ان کے فیصلے پسند نہیں کرتے ۔

اور میں جانتا ہوں کہ جب وہ ناراض ہو جاتے ہیں تو ان کے ٹیلی فون بھی ریسیو نہیں کرتے اور پھر چھوٹا بھائی جاتا ہے ان منت سماجت کر کے منا کر لے آتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ نواب افتخار حسین ممدوٹ وہ شخصیت ہیں جن کے گھر جاکر قائداعظم صاحب ٹھہرا کرتے تھے ۔ میں ان کا لکھا خط پڑھا ہے جس میں انہوں نے قائداعظم سے درخواست کی ہے کہ اب مجھ سے مزید وزارت اعلی پنجاب نہیں سنبھلتی آپ کسی اورکو موقع دے دیں ۔

وہ تھا جذبہ مسلم لیگ کا ۔ اب یہاں تو یہ ہے وزیراعظم میں ہوں گا ، وزیراعلی میرا بھائی ہو گا ، فلاں پوسٹ کی چیئرپرسن میری بیٹی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کی رپورٹ اپنی سیاسی ٹیم سے نہیں لیتے بلکہ افسرشاہی کو استعمال کیا جاتا ہے ، میں پیٹ پیٹ کر تھک گیا ہوں کہ اپنی سیاسی ٹیم کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ غیر جمہوری رویے ان میں پہلے سے زیادہ شدت سے آ گئے ہیں ۔

انہوں نے عمران خان کے الزامات کے حوالے سے کئے گئے سوال پر کہا کہ جو ان کے اثاثے ہیں اس کے حوالے سے میں پہلے حلفاًکہا کرتا تھا کہ ایسا نہیں ہے مگرجب سے میں نے ایک دوسرے چینل پر ثبوتوں کے ساتھ وہ ساری دستاویزات دیکھی ہیں اور وزیر اعلیٰ کے نام پر اس وقت کا وزیر قانون پیسے وصول کر رہا ہے کیا اب میں ان کو ڈیفنڈ کر سکتا ہوں ؟ اور اگر وہ غلط تھا کیا اس پر ان کی طرف سے کوئی ردعمل آیا ہے ، کیا وہ ان کو کورٹ میں لے کر جا رہے ہیں ؟ اور دیکھیں جو وزیر اس ملک نام کے بندے سے پیسے وصول کر رہا تھا آج بھی وہ کابینہ میں بیٹھا ہوتا ہے ۔


اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں