اُردو پوائنٹ پاکستان پشاورپشاور کی خبریںخیبر پختونخواہ کی کابینہ کا انتخاب نو منتخب وزیراعلیٰ محمود خان کے ..

خیبر پختونخواہ کی کابینہ کا انتخاب نو منتخب وزیراعلیٰ محمود خان کے لیے چیلنج

پرویز خٹک اورعاطف خان گروپس آمنے سامنے آ گئے، وزیراعلٰی محمود خان بے بس ہو گئے

پشاور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 اگست 2018ء): خیبرپختونخواہ کے نو منتخب وزیراعلیٰ محمود خان کے لیے کابینہ تشکیل دینا ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور پی ٹی آئی رکن اسمبلی عاطف خان کے گروپس آمنے سامنے آ گئے ہیں جس کی وجہ سے محمود خان خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں اور کابینہ کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے میں انہیں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا کابینہ کے انتخاب میں نو منتخب وزیر اعلیٰ محمود خان ہیوی ویٹ رہنماؤں کے سامنے بے بس ہو گئے ہیں ۔ عاطف خان ، شہرام ترکئی اور سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک منظور نظر اراکین اسمبلی کو کابینہ میں کھپانے کے لئے سرگرم ہیں۔

(خبر جاری ہے)

عاطف خان کو مرضی کی وزارتیں دینے کی پیشکش بھی کی گئی ہے ، قوی امکان ہے کہ شہرام ترکئی اور عاطف خان سنیئر وزیر ہوں گے ۔

ذرائع نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں دس ارکان پر مشتمل کابینہ تشکیل دی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں چار مزید وزراء کا انتخاب ہوگا، تیسرے مرحلے میں مشیروں کا انتخاب ہوگا اور اگر ممبران کی جانب سے کابینہ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا تو معاون خصوصی کو ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان کمزور ترین وزیر اعلیٰ ہوں گے ، وہ اپنے ہی ضلع کے محب اﷲ کو کابینہ میں ایڈجسٹ کرنے کے خواہشمند ہیں لیکن ایک گروپ کی جانب سے اعتراض آنے کے بعد ان کا نام ڈراپ کردیا گیا ہے ۔

دوسری جانب شاہ فرمان وزارت یا گورنر شپ لینے کے معاملے پر تذبذب کا شکار ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پرویز خٹک اور عاطف خان کے مابین اختلافات کی خبر سامنے آ ئی تھی ۔ کچھ ذرائع کے مطابق عمران خان عاطف خان ہی کو وزیر اعلٰی خیبرپختونخواہ بنانے کے خواہشمند تھے لیکن پرویز خٹک کی بے جا مخالفت کی وجہ سے انہوں نے یہ ارادہ ترک کر دیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

پشاور شہر کی مزید خبریں