ریاست بلوچستان کے عوام کے ساتھ سوتیلے ماں کا سلوک کرتی ہے ہمیں دوسرے درجے کاشہری تسلیم کرنے کا حق بھی نہیں ہے،مولانا ولی محمد ترابی

پیر جنوری 22:11

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جنوری2018ء) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا ولی محمد ترابی جنرل سیکٹری مولوی عبدالحنان نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بلوچستان کے عوام کے ساتھ سوتیلے ماں کا سلوک کرتی ہے ہمیں دوسرے درجے کے شہری تسلیم کرنے کا حق میں بھی نہیں دیتی ہے وفاق کے جانب سے بلوچستان کے لیے مختص کوٹہ سے بھی ہمارے عوام کو مایوس کیا جاتا ہے دیگر صوبوں کے افراد بلوچستان کا جعلی ڈومیسائل بناکر ہمارے صوبے کے عوام کا حق مار لیتا ہے اگروفاق ہمارے ساتھ مخلص ہے تو جعلی ڈومیسائل کے تمام افراد کو فارغ کرکے ہمارے بندوں کو اپنا حق دیا جائے انہوں نے کہا کہ نادرا کے غلط پالیسوں کیوجہ سے ہمارے عوام ذلیل ہوتا جارہے ہے تمام کوائف پورے ہونے کے باوجود نادرا کے لائنوں میں خوار ہوتے ہیں 10 یا 11 سال سے خاندان کے ایک فرد کی شناختی کارڈ بلاک ہونے کیوجہ پورے خاندان کو سزا بھگتنا پڑ رہا ہے غریب عوام کے آدھی زندگی نادرا کے نام ہوگیا ہے بلوچستان کے نادرا افسسز کے سامنے عوام کے ھجوم شکوک و شبہات پیدا کرتے ہے انہوں نے کہا کہ لگتا ہے یہ تمام ادارے ایک دوسرے کے مرضی کیمطابق اپس میں معاون بن کر بلوچستان کے عوام کے تذلیل کا ٹھیکہ اٹھایا گیا ہے ملک میں پوچھنے والے نہیں ہر ایک اپنے حیثیت کے مطابق بلوچستان کے عوام کو ذلیل کررہا ہے اور شناختی کارڈ نہ ہونے کیوجہ سے ہمارے لوکل عوام کو ذلیل کراتا ہے انہوں نے کہا کہ نہ تو انتظامیہ کو یہ شعور ہے کہ نادرا سے پوچھے کہ عوام کو کیوںاذیت دیا جارہا ہے اور نہ ہی نادرا کو اللہ تعالی نے یہ توفیق دی ہے عوام کو اس مصیبت سے نجات دلائے ہر ایک اپنے حیثیت کے مطابق عوام پر ظلم کا حق ادا کررہے ہیں ریاست عوام کو سہولیات دیتے ہیں نہ کہ اذیتیں انہوں نے کہا کہ ریاست کو چاہئے کہ ہمارے عوام کو بنیادی سہولیات دیں ہمارے صوبے میں تعلیم، صحت روزگار کا فقدان ہے صوبے کے وسائل سے وفاق مستفید ہورہا ہے لیکن ہمارا جو حق بنتا ہے اس پر وفاق نے چشم پوشی سے کام لیا ہے ہمارے صوبے میں سیاسی عدم استحام پیدا کر ہماری تمام تر توجہ سیکیورٹی مسائل کے طرف مبزول کیا ہے ہمارے صوبے کو مسائلستان بنا کر مرکز ہمیں محرومیوں کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہا ہے تمہارے اس رویہ سے مسائل پیدا ہوتے ہے ۔

متعلقہ عنوان :

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments