نوازشریف کی جانب سے عدلیہ کا فیصلہ قبول نہ کرنے کے بعد ن لیگ والے بے وقوفیوں کا تسلسل برقرار رکھتے آرہے ہیں، وزیر اطلاعات

ن لیگی رہنمائوں کو عقل سے کام لینا چاہئے، جبکہ اسحاق ڈار نام نہاد بیمار ہے اور ان کے اوپر جرم ثابت بھی ہوچکا ہے

اتوار نومبر 19:40

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 نومبر2017ء) سندھ کے وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ نوازشریف کی جانب سے عدلیہ کا فیصلہ قبول نہ کرنے کے بعد ن لیگ والے بے وقوفیوں کا تسلسل برقرار رکھتے آرہے ہیں انہوں نے توپوں کا رخ اپنی طرف موڑ لیا ہے انہیں عقل سے کام لینا چاہئے، جبکہ اسحاق ڈار نام نہاد بیمار ہے اور ان کے اوپر جرم ثابت بھی ہوچکا ہے، تو اسے ملک کی اہم وزارت خزانہ سے ہٹانے میں کوئی حرج نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر پریس کلب میں سینئر صحافی جاوید میمن کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے کتاب -تنہائیوں کے مسافر کی رونمائی کی بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ختم نبوت کا بل شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاس کروایا تھا ہم دھرنے والوں کے موقف کی تو حمایت کرتے ہیں مگر ان کا طریقے کار غلط ہے، دھرنے کی وجہ سے لاکھوں شہری مشکلات اور اذیتوں سے دوچار ہیں، جو شق ختم کی گئی تھی وہ اب حکومت نے واپس لے لی ہے، اس لیئے اب دھرنے کا جواز نہیں رہتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفعق کو غلط بیانی سے گریز کرنا چاہئے، پی پی کے کچھ عہدیداران نے دھرنے کا وزٹ کیا تھا انہیں شوکاز نوٹس دیے گئے ہیں، ہم دھرنے کی نہیں بلکہ ان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاھ نے کہا کہ خان صاحب ہمیشہ خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں اور وہ جعلی خان ہے ان کی باتیں خیالی پلائو کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، سندھ میں جلسے کرنے پر ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں اور سکیورٹی بھی دینگے، باقی سب کو پتہ ہے کی پی ٹی آئی کا گرایف نیچے گرا ہے، وہ تبدیلی لاتے لاتے جو لوگ اپنے ساتھ لا رہیں ہیں ان سے کیسی تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان میں خواتین کی تذلیل کے واقے کی پی ٹی آئی کے جس ایم پی اے نے شکایت کی اسے ہی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، میں دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت بتا رہا ہوں کہ 2018کی الیکشن میں پی ٹی آئی خیبرپختون خواھ میں بھی حکومت نہیں بنا سکے گی، وہاں پر ان کی کارکردگی صرف باتیں ہیں۔ گرینڈ الائنس کے سکھر میں ہونے والے جلسے کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جی ڈی اے میں بڑی شخصیات ہیں اور ان کا سربراہ سندھ کی اہم گادی کا وارث ہے، جو ذاتی طور پر انتہائی قابل عزت و احترام ہیں، یہ جلسہ بھی 2013کی الیکشن سے قبل حیدرآباد میں ہونے والے جلسے جیسا ہی ہوگا پر سیاسی طور پر پیپلزپارٹی کو کوئی بھی فرق نہیں پڑیگا ۔

ایم کیو ایم اور پی ایس پی اتحاد کے حوالے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، انہیں پتہ ہے کہ آئندہ الیکشن میں نتیجے کیا آئینگے، کیونکہ جب سے کرا[ی میں امن ہوا ہے اور رینجرز کی کارکردگی، سندھ حکومت، پولیس اور عوام کے تعاون سے کامیاب آپریشن ہوا جس کے بعد ڈھونگ، دھاندلی اور ٹھپے کی سیاست ختم ہوگئی، جس کا واضح مثال 114کی الیکسن کا نتیجہ ہے، آئندہ بھی کراچی کی عوام کا فیصلہ ایسا ہی ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ نے ترقیاتی کاموں کا جو جال بچھایا ہے اور کوششیں لیں ہیں، اس لئے کلیئر ہے کہ 2018کی الیکشن کراچی سے پیپلزپارٹی ہی سوئیپ کریگی۔

کراچی سرکلر ریلوے پر وفاق سے ٹکرائو کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے ہو یا ملکی اور سندھ کی ترقی کا کو ئی اور منصوبہ ن لیگ حکومت جب بھی آئی ہے اس نے ان منصوبوں میں رکاوٹیں ڈالی ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کا موقف ہے کہ کی سی آر کا روٹ مکمل طور پر کراچی سرکلر ریلوے کیلئے ہی رکھا ہوا ہے، مگر وفاق چاہتا ہے کہ سٹی اسٹیشن سے ڈرگ روڈ تک جو حصہ بنتا ہے اس کے بعد ڈائیورجن ہے اس حصے کو ایلی ویٹیڈ کردیں اور اوپر سے لے جائیں، نیچے ایکسپریس وے بنایا جائے، جس پر سندھ حکومت کا موقف ہے کہ وفاق کو اگر ایکسپریس وے بنانا ہے تو دائیں طرف سے بنایا جائے باقی کراچی سرکلر ریلوے سے حرکت نہ کی جائے اور زمین سندھ حکومت کی ہے جو بھی زمین ریلویز کو اپنے ریلوے مقاصد کیلئے مطلوبہ ہے وہ استعمال کی جاسکتی ہے بصورت دیگر انہیں یہ زمین کمرشل استعمال کیلئے نہیں دی جائیگی، کیونکہ سکھر اور دیگر جگہوں پر ریلویز والے ان زمینوں پر کمرشل سرگرمیاں کر رہے ہیں جس کی انہیں اجازت ہرگز نہیں دی جائیگی۔

سکھر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments