کمشنر سکھر کی زیرصدارت ضلعی جائزہ کمیٹی کا اجلاس،سکھر ڈویژن کی مختلف ایم اینڈ آر سکیموں کی منظوری دی گئی

بدھ اکتوبر 21:55

سکھر۔28اکتوبر  (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 اکتوبر2020ء) :کمشنر سکھر ڈویژن شفیق احمد مہیسر کی زیرصدارت ڈویژنل اوور سائیٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس کے دوران(79 کروڑ 33 لاکھ 81 ہزار) روپے کی مجموعی لاگت سے سکھر ڈویژن کی مختلف ایم اینڈ آر سکیموں کی منظوری دی گئی، کمشنر سکھر نے مرمتی سکیموں میں کام کا معیار بہتر بنانے اور پروکیورمنٹ کے سلسلے میں قانون و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس میں ڈپٹی کمشنر سکھر رانا عدیل تصور، ڈپٹی کمشنر خیرپور احمد علی قریشی اور ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ، چیف انجنیئر ہائی ویز ڈویڑن سکھر سید کاظم رضا شاہ، ایم ایس جی ایم ایم سی ہسپتال سکھر ڈاکٹر تسلیم خمیسانی، پراونشل، ڈسٹرکٹ ہائی ویز، بلڈنگس ، بلدیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

ڈویژنل اوورسائیٹ کمیٹی کے اجلاس میں سکھر، خیرپور اور گھوٹکی اضلاع کی مختلف روڈس اور سرکاری عمارتوں کی مرمت کے سلسلے میں ایم اینڈ آر سکیمیں علیحدہ علیحدہ منظوری کیلئے پیش کی گئیں۔

تینوں اضلاع میں رواں مالی سال 21-2020 کے دوران پراونشل ہائی ویز کی ایم اینڈ آر اسکیموں کیلئے 347154000، پراونشل بلڈنگس مرمتی اسکیموں کیلئے 276119000 روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ڈسٹرکٹ ہائی ویز ایم اینڈ آر اسکیموں کیلئے 148782000 روپے، ڈسٹرکٹ بلڈنگس کیلئے 21326000 روپے رکھے گئے ہیں، اسی طرح سکھر ڈویڑن کیلئے مجموعی طور پر روڈس اور بلڈنگس کیلئے 793381000 روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کمشنر سکھر ڈویڑن شفیق احمد مہیسر نے ڈپٹی کمشنرز اور انجنیئرز کو ہدایات دیں کہ مرمتی اسکیموں میں کام کے معیار کو یقینی بنایا جائے، معیار پر کوئی سمجہوتہ نہیں کیا جائےگا اور کسی بھی خریداری کے سلسلے میں قوانین و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ اجلاس میں ڈی سی سکھر رانا عدیل نے بتایا کہ غلام محمد مہر میڈیکل کالج ہسپتال سکھر کیلئے 83 ملین مختص ہوئے ہیں، میڈیسن وارڈ، آرتھوپیڈک وارڈ، آئی سی یواور دیگر سخت متاثر عمارتوں پر رقم خرچ کی جائیگی۔ کمشنر سکھر ڈویڑن شفیق احمد مہیسر نے ہدایت کی کہ جی ایم ایم سی ہسپتال میں 83 ملین کی اسکیم کیلئے کنسلٹنٹ مقرر کیا جائے اس سلسلے میں پیپرا قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔

متعلقہ عنوان :

سکھر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments