کرکٹر بننا تھا ،ایکٹر بن گیا ۔

عرفان خان کہتے ہیں کہ میں بچپن سے کرکٹ کا دیوانہ تھا مگر ہمارے زمیندار گھرانے میں سپورٹس کے حوالے سے عام تاثر یہی تھا کہ کھیل کود کرنا کون سی بڑی بات ہے ؟اس لئے میں حادثاتی طور پر اداکار بن گیا ۔

منگل اگست

crickter ban na tha actor ban gaya

زارا مصطفی
بالی ووڈ کے معروف ایکٹر ،ڈائریکٹر اور پروڈیوسر عرفان خان کا اصل نام صاحبزادے عرفان علی خان ہے مگر جب وہ فلم نگری میں آئے تو اپنا نام بدلنے کی بجائے محض مختصر کر لیا اور 1988میں عرفان خان کے نام سے شہرت پائی ۔وہ پہلی مرتبہ فلم ”سلام بمبئی “میں جلوہ گر ہوئے اور انہیں اکیڈمی ایوارڈکے لئے نامزد کر لیا گیا ۔ان کی مشہورِ زمانہ فلموں میں ”لائف ان اے میٹر و ،روگ ،لنچ بکس ،حاصل ،پیکو ،تلوار ،جذبہ ،مقبول ،ہندی میڈیم ،سلم ڈاگ ملینئر ،لائف آف اے پائی ،دی ڈار جیلنگ لمیٹڈ اور دی نیم سیک، شامل ہیں ۔پاکستانی اداکار عدنان صدیقی کہتے ہیں ”میں نے اور عرفان نے فلم”اے مائیٹی ہارٹ“ سے ایک ساتھ ہالی ووڈ میں قدم رکھا مگر بھارتی میڈیا نے عرفان کا اس قدر بول بالا کیاکہ آج ہالی ووڈ میں بھی چھائے ہوئے ہیں ۔

(جاری ہے)

”عرفان نے نہ صرف فلموں بلکہ مشہورِ زمانہ ٹی وی سیریز میں بھی کام کیا جن میں ”سپرش ،بھارت ایک کھوج ،سارا جہان اپنا اور بنے گی اپنی بات “شامل ہیں ۔2012 میں انہیں بھارت کا چوتھا بڑا سر کاری اعزاز پدم شری دیاگیا ۔انہیں بطور بہترین اداکار فلم فےئر اور ایشین فلم ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے ۔عرفان کو کئی بین الا قوامی اعزازت سے بھی نوازا جاچکا ہے ۔وہ 80سے زائد فلموں اور ان گنت ٹی وی اشتہارات میں بھی کام کرچکے ہیں ۔ان کی بیوی سٹاپہ سکدر بتاتی ہیں ”عرفان اپنے کیرےئر کے آغاز میں ہی نہیں بلکہ آج بھی گھر آتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں آرام کرنے کی بجائے فرش پر بیٹھ کر کتا بیں پڑھنے لگتے ہیں ۔ہر ہفتے کم از کم ایک نیا ہالی ووڈ سکرپٹ عرفان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور اپنے کردار کو سمجھنے کے لئے وہ رات گئے تک کام کرتے ہیں ۔عرفان کی مقبولیت کا اندازہ اسی بات سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ وہ روزانہ کم ازکم دوفلموں کے سکرپٹ مسترد کرتے ہیں “۔کہاجاتا ہے کہ عرفان ہالی ووڈ میں ایک فلم کے بد لے چار ملین ڈالر سے زائد معاوضہ وصول کرنے والے پہلے بھارٹی اداکار ہیں ۔وہ ایک ٹی وی اشتہارکا معاوضہ تین سے پانچ کروڑ روپے وصول کرتے ہیں ،ان کے اثا ثوں کی کل مالیت 50ملین ڈالر یعنی 82کروڑ روپے ہے ۔وہ سالانہ کم پیش 12کروڑ روپے کماتے ہیں ،ان کے پاس ممبئی میں اڑھائی کروڑ روپے مالیت کا ایک گھر ،7کروڑ روپے مالیت کی چار شاندار کاریں ہیں۔عرفان نے 2016میں14کروڑ روپے انکم ٹیکس ادا کیا جو گذشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں 170فیصد زیادہ تھا ۔عرفان نے 7جنوری 1967کو راجستھان کے جا گیر دار پٹھان گھرانے میں آنکھ کھولی ۔ان کے والد ٹائروں کا کاروبار کرتے تھے ۔عرفان زمانہ طالب علمی سے ہی کرکٹ کے دلدادہ تھے کہتے ہیں ”جن دنوں کرکٹ میچ ہوتے ،مجھے کوئی خبر نہیں ہوتی تھی کہ کلاس میں ٹیچر نے کیا پڑھایا ہے ؟بس میں سپورٹس سٹار بننا چاہتا تھا مگر میرے زمیندار گھرانے میں سپورٹس کیرےئر کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا ان کا خیال تھا کہ کھیل کو د کرنا کون سی بڑی بات ہے ؟بہر حال وہ تواداکاری کو بھی کیر ےئر نہیں سمجھتے تھے مگر بالآخر میں نے انہیں مناہی لیا “۔ عرفان کے بار ے میں مشہور ہے کہ وہ فلموں میں جس قدر سنجیدہ کردار بنھاتے ہیں حقیقی زندگی میں اتنے ہی خوش مزاج انسان ہیں اور ان کی حسِ مزاح بہت اچھی ہے ۔عرفان کہتے ہیں ”میں ہمیشہ سے شرارتی بچہ تھا او آخری بینچ پر بیٹھا کرتا تھا مگر جو نہی سکول کی گھنٹی بجتی ،میں سب سے پہلے کلاس سے باہر نکل جاتا ۔عرفان نے 1984میں ماسٹرز کے دوران دہلی کے نیشنل سکول آف ڈرامہ سے سکا لر شپ پر تین سالہ ایکٹنگ ڈپلومہ کیا ۔اس وقت عرفان نے اداکاری میں کیر ےئر کے حوالے سے سنجیدگی سے فیصلہ نہیں کیا تھا مگر پھر بھی وہ انٹر ویو دینے چلے گئے اور انٹر ویو پینل کے سامنے جھوٹ بولا کہ میں ماضی میں تھیٹر پر اداکاری کرتا رہا ہوں اور ممبران کو یقین بھی آگیا ،شاید اسی کو اداکاری کہتے ہیں ۔اس انٹر ویو میں فورا بعد پینل نے کہا کہ آپ جلد از جلد کلاسز میں حا ضر ہوں اور کورس کا آغاز کریں ۔بہر حال جب عرفان نے اپنی والدہ کو بتا یا کہ وہ ایکٹنگ سکول میں داخلہ لے رہے ہیں تو وہ بہت پریشان ہو گئیں کہ اب نوکری کہاں ملے گی ؟تو عرفان نے ایک مرتبہ پھر انہیں جھوٹ بول کر یقین دلادیا کہ وہ ڈپلومہ لینے کے بعد کالج میں لیکچر ر کی نوکری کریں گے “۔پڑھائی کے دوران ہی میرا نائیر نے عرفان کو فلم ”سلام ممبئی “کی پیشکش کر دی ۔
کلاس فیلو سے شادی
ایکٹنگ سکول میں عرفان کی دوستی اپنی کلاس فیلو سٹاپہ سکدر سے ہوگئی جو کہانی نویس اور سکرین پلے رائٹر بننا چاہتی تھیں ۔ گزرتے وقت کے ساتھ ان کی دوستی اتنی گہری ہوگئی کہ ایک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا اور اپنے کیرےئر بنانے کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہو گئے ۔بالا ٓخر جب عرفان بطور اداکار مشہور ہو گئے تو 23فروری1995کو انہوں نے سٹاپہ سے شادی کرلی ،چونکہ سٹاپہ ہندو جبکہ عرفان مسلمان ہیں اس لئے دونوں نے سادگی سے کورٹ میرج کی،ان کے دوبیٹے بابل اور آیان ہیں ۔عرفان اور سٹاپہ نے 1993سے 1997تک ٹی وی شوز کے لئے ایک ساتھ کام بھی کیا ہے جن میں سے ایک مشہور ترین بھارتی سیٹ کام ”بنے گی اپنی بات “جسے سٹاپہ نے تحریر کیا اور عرفان نے اداکاری کے ساتھ ساتھ اسے ڈائریکٹ بھی کیا ۔2015میں عرفان نے سٹاپہ کی پروڈیوس کی ہوئی فلم ”مداری“ میں کام کیا ۔عرفان کا کہنا ہے ”میری بیوی میری سب سے بڑی ناقد ہیں ۔بعض اوقات وہ اتنی معمولی غلطیاں پکڑتی ہیں کہ مجھے بھی ان کاا دراک نہیں ہوتا اس لئے میں ان کی تنقید پر بہت توجہ دیتا ہوں “۔
سونونگم کو آڑے ہاتھوں لیا
2017کے آغاز میں بھارتی گلوکار سونونگم نے بھارتی مسجدوں میں اذان کی آوازوں کے بارے میں سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹو ئٹر کے ذریعے شدید تنقید کی جس پر ہر کسی نے اپنے اپنے انداز میں سونونگم کے خلاف ردِعمل ظاہر کیا ۔ان دنوں عرفان پاکستانی اداکارہ صبا قمر کے ساتھ نئی آنے فلم ”ہندی میڈیم“کی تشہیر یں مصروف تھے کہ صحافی نے ان سے اس موضوع پر رائے پوچھی تو انہوں نے ایسا جواب دیاکہ مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ ہندوسکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے بھی دل جیت لئے ۔انہوں نے کہا ”کیا بحثییت معاشرہ ہم اتنے حساس لوگ ہیں کہ نہ پسند یدہ آوازیں ہمارے ذہنی سکون میں خلل کا باعث بن رہی ہیں ؟اور اگر واقعی ایسا ہے تو کچھ لوگوں کے لئے صرف مسجد وں کے لاؤڈسپیکر کی آوازیں ہی کیوں ایک بڑا مسئلہ ہیں ؟ کیا اس سے پہلے کبھی کسی نے آواز اٹھائی کہ ہسپتالوں کے سامنے سے گزرتی گاڑیاں اور ہارن کی آوازیں مریضوں کے لئے کس قدر تکلیف کا باعث ہوتی ہیں ؟اس لئے سب سے پہلے تو یہ پتا لگانا ضروری ہے کہ اس شخص کو صرف اذان کی آواز سے مسئلہ ہے یا دیگر نا پسندیدہ آوازوں سے بھی ․․․اور اگر یہ پتا لگ جائے تو شاید مسئلے کا حل نکالنا آسان ہوجائے گا ۔“عرفان ہمیشہ سے ہی اپنے متنا زعہ بیانا ت کی وجہ سے بالی ووڈ میں خاصے مشہور ہیں ،انہوں نے سونونگم ہی کو آڑے ہاتھوں نہیں لیا بلکہ مسلمانوں کو بھی مشورہ دیا کہ ”رمضان میں صرف روزے رکھنے کی بجائے خود احتسابی سے بھی کام لینا چاہیے “۔ انہوں نے عیدِ قرباں ،محرم کے موقعہ پر بھی مسلمانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ”محرم ایک عظیم سوگ کا مہینہ ہے مگر مسلمان اسے بھی کسی تہوار کی طرح مناتے ہیں بلکہ ہم نے مذہبی رسومات کو تماشابنا رکھا ہے ۔“جس پر بھارتی مسلمان علماء نے انہیں تنبیہہ کی کہ وہ اپنی اداکاری پر توجہ دیں نہ کہ دینی معاملات میں متنازعہ بیان بازی کریں ․․․کیونکہ اس سے دیگر مسلمانوں کی دل آزادی ہو رہی ہے۔

Your Thoughts and Comments