ترکش سیریل ارطغرل غازی، اسلامی تاریخ کا آئینہ دار

ہزاروں صارفین ایسے ہیں جو اس سیریل کے حق میں بول اور لکھ رہے ہیں۔اس سیریل کے نہ صرف معاشرتی فوائد ہیں بلکہ یہ سیریل سیاسی طور بھی مفید ثابت ہو رہا ہے

ہفتہ اپریل

turkish serial Ertugrul gazi, islami tareekh k aaina dar
تحریر: مجاہد محمد عمر فیاض 

کسے پتا تھا کہ 2014 میں بننے والا ترکش سیریل ''ڈیرلس ارطغرل'' یا ''ارطغرل غازی'' اتنا مشہور ہوگا کہ اسے دنیا کا سب سے زیادہ دیکھنے والا سیریل قرار دیا جائے گا، دنیا کے پینسٹھ ممالک میں اسے دکھایا جائے گا اور مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے کئے جائیں گے۔

بلاشبہ یہ ایک سنگِ میل ہے جو شاذ و ناظر ہی کوئی حاصل کر پاتا ہے۔خلافت عثمانیہ کی تاریخ پر مبنی یہ سیریل اس وقت پوری دنیا میں مشہور ہو چکا ہے۔اقوام عالم بالخصوص مسلمانان عالم اسے پوری شد و مد سے دیکھ رہی ہے۔مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا اور یورپ سے لے کر افریقہ تک ارطغرل غازی کا نام زبان زد عام ہوچکا ہے۔وہ نام جو تاریخ کے پردوں میں دب چکا تھا، آج ہر کسی کی زبان پر ہے۔

(جاری ہے)

مسلمان تو مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اب اس نام سے آشنا ہو چکے ہیں۔
ارطغرل غازی خلافتِ عثمانیہ کے بانی اور عثمان غازی کے والد تھے جنہوں نے سلجوقی سلطنت کے زوال کے بعد ''قائی ترکوں'' (اوغوز ترکوں کا سب سے طاقتور قبیلہ) کو متحد کیا اور منگولوں کی چیرہ دستیوں سے باقی ترک قبائل کا دفاع کیا۔ارطغرل غازی اسی قائی قبیلے کے سردار سلیمان شاہ کے بیٹے تھے، جو خود ایک لائق اور با ہمت سردار تھے۔

ارطغرل غازی نے چار ہزار مربع میل پر مشتمل اپنی ''نیم سلطنت'' پیچھے چھوڑی۔یہ سلطنت صرف قائی قبیلے پر مشتمل تھی۔تاہم بعد میں ان کے بیٹے عثمان غازی نے باقی اوغوز ترک قبائل کو متحد کرکے اسے سولہ ہزار مربع میل تک پہنچایا۔یوں سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد پڑی جو آنے والے وقتوں میں تین بر اعظموں پر پھیل کر ایک عظیم الشان سلطنت کے طور پر دنیا کی سپر پاور بن گئی اور 600 سال تک ملت اسلامیہ کا دفاع کرتی رہی۔

ارطغرل غازی سیریل میں سلطنتِ عثمانیہ کی یہی ابتدائی داستان دکھائی گئی ہے جو پوری دنیا میں مقبول ہوچکا ہے کیونکہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی کوشش ہے جس میں کسی مسلمان سلطنت کا اس طرح ذکر کیا گیا ہو۔اس سیریل کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ امریکہ کے مشہور اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ'' ارطغرل غازی دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ اردوغان کے عزائم کیا ہیں''۔

اس سیریل کے حق میں جہاں بے شمار کالم لکھے گئے اور بہت سے علماء نے مثبت اشارے دئے وہیں اسے دیکھنے پر ممانعت کے فتوے بھی دئے گئے۔ان میں قابل ذکر برصغیر کے مشہور دارالعلوم دیوبند (ہندوستان) اور دار الافتاء کراچی (پاکستان) قابلِ ذکر ہیں۔ان دونوں اداروں نے اس سیریل کو حرام قرار دیا ہے اور اسے دیکھنے سے اجتناب کرنے کو کہا ہے۔ان دو اداروں سے جاری کئے گئے فتویٰ میں یہ اعتراز کیا گیا ہے کہ ایک تو اس سیریل میں نا محرم لڑکیاں ہیں، دوسرا یہ کہ وڈیو گرافی اور موسیقی بھی اسلام میں حرام ہے۔

لہذا اس سیریل کو دیکھنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔جبکہ دارالعلوم دیوبند کے ہی ایک عالم اور مفتی بلکہ مشہور کالم نگار اور مصنف مفتی ابو لبابہ شاہ منصور (پاکستان) اس سیریل کے حق میں بول پڑے کہ اسے دیکھ سکتے ہیں کیونکہ اس میں اسلامی تاریخ دکھائی گئی ہے جو کہ اس اس دور پر فتن میں ایک احسن کام ہے۔
اب ذرا آگے چلئے اور سوشل میڈیا پر بھی نظر ڈالتے چلیں کیونکہ موجودہ دور میں مسائل پر سب سے زیادہ بحث سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک اور ٹوئٹر پر ہوتی ہے کیونکہ یہاں پر ہر کوئی شخص اپنی رائے کا آزادانہ طور پر اظہار کرسکتا ہے۔

ایک صارف نے فیسبک پر لکھا تھا '' جب سے میں نے ارطغرل سیریل دیکھنا شروع کیا ہے، تب سے میں پانچوں وقت نماز پڑھ رہا ہوں جبکہ اس سے پہلے میں کبھی نماز نہیں پڑھتا تھا''۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ'' ارطغرل غازی سیریل نے مسلمانوں کو مایوسی سے نکالا ہے''۔اسی طرح کے اور بھی ہزاروں صارفین ایسے ہیں جو اس سیریل کے حق میں بول اور لکھ رہے ہیں۔اس سیریل کے نہ صرف معاشرتی فوائد ہیں بلکہ یہ سیریل سیاسی طور بھی مفید ثابت ہو رہا ہے۔

جہاں ایک طرف یہ سیریل مغرب کی طرف سے کی گئی تہذیبی یلغار جو کہ اس دور میں میڈیا کے ذریعے سب سے زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے، روکنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ وہیں سیاسی طور پر اس کے یہ فائدے ہو رہے ہیں کہ عالم اسلام خلافت کی برکتوں سے آشنا ہو رہا ہے جو کہ ایک عظیم نعمت ہے۔اسی طرح ترکی میں عثمانی رسم الخط جو کہ دراصل عربی رسم الخط ہے، کی واپسی ہو رہی ہے۔

جی ہاں اس سیریل میں جو خطوط لکھے گئے ہیں وہ اصل ترکی زبان اور عربی رسم الخط میں لکھے گئے ہیں جو خلافتِ عثمانیہ کے دور میں ہوتا تھا۔مگر 1923 میں خلافت کے خاتمے کے ساتھ ہی اس رسم الخط کو ختم کر کے انگریزی کا رسم الخط رائج کیا گیا۔
واضح رہے ترکی زبان اردو، عربی،فارسی،اور کشمیری زبان کی طرح دائیں جانب سے لکھی جاتی ہے۔مگر 1923 سے اسے الٹا کر کے انگریزی زبان کی طرح بائیں جانب سے لکھنا شروع کیا گیا اور انگریزی الفاظ استعمال کئے جانے لگے۔

1923 میں جب خلافت عثمانیہ ختم کی گئی تو مصطفیٰ کمال پاشا نے عربی رسم الخط، عربی میں اذان دینے اور قرآن پڑھنے پر پابندی عائد کردی تھی، اس وجہ سے عربوں اور ترکوں کے درمیاں نفرت کی خلیج پیدا ہوگئی تھی، اس سیریل کی وجہ سے وہ دوریاں بھی ختم ہو رہی ہیں۔اگرچہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر میں اس سیریل کو دیکھنے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاہم لاکھوں عرب نوجوان سوشل میڈیا پر فیسبک کے ذریعے اسے دیکھ رہیں جس سے عرب اور عجم میں محبت کی فضا بحال ہونے میں مدد ملے گی انشاء اللہ۔

اس سیریل کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ امت مسلمہ اپنے شاندار اور تابناک ماضی سے بہرہ ور ہو رہی ہے جس سے امت پر چھائی یاسیت اور احساس کمتری کے بادل چھٹ جائیں گے۔موجودہ دور چونکہ ذرائع ابلاغ کا دور ہے اور ان تمام ذرائع ابلاغ پر یہودیوں کا قبضہ ہے جو ہر وقت اس تاک میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کس طرح امت مسلمہ کا قلع قمع کیا جائے۔ذرائع ابلاغ کی وجہ سے یہودی اور مغربی قومیں امت مسلمہ کے اذہان پر سوار ہوچکی ہیں۔

نا امیدی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جہاں یہ اثر اس سیریل کی مدد سے کسی حد تک زائل ہوا ہے وہیں ذرائع ابلاغ کے میدان میں امت مسلمہ نے کامیابی کا پہلا جھنڈا گاڑا ہے کہ '' ہم کسی سے کم نہیں''۔سیاسی طور پر مغرب کا مقابلہ کرنا کسی حد تک تو آسان ہے مگر میڈیا وار میں یہ نہایت ہی مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ایسے میں ''ارطغرل غازی'' جیسے مزید سیریل بنانے کے ضرورت ہے تاکہ اول الذکر تو مسلمان قوم خود اپنے شاندار ماضی سے آشنا ہو جائے دوم یہ کہ دیگر اقوام بھی اسلامی تاریخ سے آشنا ہوسکیں۔

اب جہاں تک اس سیریل پر لگائے گئے فتویٰ کی بات ہے تو یہ اس امت کے ایک یا دو طبقوں کی رائے ہے جب کہ امت مسلمہ میں ایسے کروڑوں لوگ ہیں جو اپنا الگ الگ نقطہء نظر رکھتے ہیں۔بقول سید سلمان حسینی ندوی، دارالعلوم دیوبند اور دار الافتاء کراچی کا نقطئہ نظر پوری مسلمان قوم کا نقطئہ نظر نہیں ہو سکتا اور نا ہی دارالعلوم ندوہ کی رائے پوری امت کی رائے ہو سکتی ہے۔

اسی طرح کسی اور تنظیم کا نقطئہ نظر پوری مسلمان ملت کا نقطئہ نظر نہیں ہو سکتا بلکہ جب پورا عالم اسلام جو افریقہ کے ریگزاروں سے لے کر یورپ،ایشیا،آسٹریلیا سمیت دیگر بر اعظموں پر پھیلا ہے کسی مسئلے پر متفق ہو تو اسے پوری امت کا نقطئہ نظر تسلیم کیا جائے گا وگر نہ کسی خاص طبقے کی رائے پوری امت کی رائے نہیں ہو سکتی۔اس دور میں جب امت مسلمہ بحرانی مسائل سے دو چار ہے بہت سے ایسے کم مسلمان ہیں جو اسلامی تاریخ سے واقف ہوں۔

بلکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں کلمہ تک یاد نہیں ہے جو کہ مسلمان ہونے کی پہلی شرط ہے۔لہذا اس دور میں اگر آگے بڑھنا ہے تو دشمن کی چالیں انہی کے ذریعے ان پر ہی الٹنا ہونگی۔سیاسی یلغار کا سیاسی طور، تہذیبی یلغار کا تہذیبی طور، معاشی یلغار کا معاشی طور اور میڈیائی یلغار کا میڈیا کے میدان میں مقابلہ کرنا ہوگا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان جنہوں نے ارطغرل غازی سیریل اپنی سرپرستی میں بنوایا کہتے ہیں کہ'' دنیا چاہتی ہے کہ ہم (مسلمان) اپنی تاریخ پر شرمندگی محسوس کریں، مگر ہمیں اپنی تاریخ پر فخر ہونا چاہئے کہ ہماری تاریخ تابناک اور شاندار ہے''۔ترک صدر بجا فرما رہے ہیں کہ ہمیں اپنی تاریخ پر فخر ہونا چاہئے مگر المیہ یہ ہے کہ مسلمان قوم کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ ان کی تاریخ ہے کیا، کوئی تاریخ ہے بھی یا نہیں ۔

فخر تو تبھی کریں گے جب اپنی تاریخ پر نظر ہو۔ میں نے خود ارطغرل غازی سیریل دو سال قبل دیکھا، یقین مانیں مجھے بے انتہا خوشی ہوئی کہ کم از کم کوئی تو ہے جو ہماری شاندار تاریخ کو دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ترکی سے پھیلنے والا یہ سیریل خواص و عوام میں مقبول ہو چکا ہے۔ابھی تک جن نوجوانوں کے ذہنوں پر ہالی وڈ اور بالی وُڈ کا سرطان چڑھا تھا، اب اسلامی تاریخ کی جانب لوٹ رہے ہیں، جو لڑکے سلمان خان اور شاہ رخ خان کے دلدادہ تھے اب محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد کو اپنا آئیڈیل مان رہے ہیں۔

جو لڑکیاں سٹار پلس کے بیہودہ سیریل دیکھ دیکھ کر شاہ رخ خان اور سلمان خان جیسے شوہر کا تصور کر رہی تھیں، اب صوم و صلوٰة کے پابند اور اعلٰی اخلاق کے حامل نوجوان سے شادی کرکے اپنی دنیا اور آخرت سنوارنے کی فکر کر رہی ہیں۔
ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ ایک غیر ملکی جوڑا ارطغرل غازی سیریل دیکھ کر اتنا متاثر ہوا کہ انہوں نے اس سیریل میں عبد الرحمٰن کا کردار ادا کرنے والے اداکار کے ہاتھوں اسلام قبول کر لیا۔

گویا اب یہ سیریل دعوت اسلامی کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔جب کہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس میدان میں امت مسلمہ سب سے زیادہ پٹی وہ میڈیا کا میدان ہے کیونکہ امت کے پاس کوئی میڈیا کا اعلیٰ انتظام تو کبھی تھا ہی نہیں۔مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ سوئی ہوئی امت کروٹیں لے رہی ہے، بیداری کی طرف بڑھ رہی ہے، مستقبل کی منصوبہ بندی کا ارادہ کر رہی ہے۔

جو کہ خوش آئیندہ بات ہے۔لہذا ضرورت ہے کہ فہم و فراست سے کام لیا جائے۔ منفی رویوں کے ساتھ ساتھ مثبت چیزوں کا دھیان بھی رکھا جائے۔اگر کسی چیز میں منفی پہلو ہے مگر مثبت پہلو بھی ہے،اور اگر یہ مثبت پہلو منفی پہلو سے کہیں زیادہ ہو اور فایدہ مند بھی، تو وہ چیز اچھی ہے اور فایدہ مند بھی۔ارطغرل غازی سیریل بھی اسی زمرے میں آتا ہے، اس کا منفی پہلو صرف ایک ہے مگر مثبت پہلو بہت زیادہ ہیں۔لہاذا آپ ارطغرل غازی سیریل دیکھ سکتے ہیں۔اس میں کوئی قباحت نہیں۔فایدے ہی فایدے ہیں۔

مزید متفرق کے مضامین :

Your Thoughts and Comments