سیف الدین سیف

ان کے نغموں کی گونج ہمیشہ رہے گی

جمعرات جولائی

Saif ud Din Saif
نامور فلمی شاعر سیف الدین سیف کو مداحوں سے بچھڑے 27برس بیت گئے لیکن ان کے تحریر کردہ نغموں کی گونج ہمیشہ کانوں میں گونجتی رہے گی۔20مارچ1922ء کو امرتسر کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہونے والے سیف الدین سیف نے ابتدائی تعلیم امرتسر سے حاصل کی،ان کے آباؤ اجداد کشمیر سے ہجرت کرکے امرتسر میں آباد ہوئے تھے،والد کا نام خواجہ معراج دین تھا،سیف الدین سیف ابھی ڈھائی سال کے تھے کہ والدہ کا انتقام ہو گیا،ان کا بچپن امرتسر کی گلیوں میں گزرا،ابتدائی تعلیم مسلم ہائی اسکول امرتسر سے حاصل کی،میٹرک بطور پرائیویٹ امید وار پاس کیا پھر ایم اے اور کالج امرتسر میں داخل ہو گئے،شاعری سے لگاؤ شروع سے تھا اور کالج کے زمانے میں ہی بہت سی عمدہ غزلیں کہیں،قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے لاہور آگئے اور فلمی دُنیا سے وابستہ ہو کر فلمی کہانیاں لکھنے لگے،فلم”تیری یاد“آزادی سے پہلے بننا شروع ہوئی تھی اور 1948ء میں پاکستان میں ریلیز ہوئی جس کے نغمات سیف الدین سیف نے تحریر کئے تھے،اس کے بعد 1949ء میں ریلیز ہونے والی فلم” ہچکولے“کے نغمات لکھے لیکن زیادہ شہرت 1953میں ریلیز ہونے والی”غلام“اور”محبوبہ“ کے نغموں سے ملی۔

(جاری ہے)


1954ء میں اپنا ذاتی ادارہ”راہ نما فلمز“قائم کیا جس کے بینرتلے پہلی فلم”رات کی بات“بنائی مگر فلاپ ہو گئی تاہم1957ء میں ریلیز ہونے والی فلم”سات لاکھ“پاکستان کی کامیاب ترین فلموں میں شامل ہوئی 1959ء میں ایک اور فلم”کرتار سنگھ“بنائی جس کے ڈائریکٹر،پروڈیوسر،کہانی نگار اور نغمہ نگار وہ خود تھے۔بطور نغمہ نگار سب سے زیادہ شہرت فلم ”گمنام“کے گیت”تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے“سے ملی جسے اقبال بانو نے گایا تھا،اس کے علاوہ انہوں نے ہچکولے،امانت،نویلی دلہن،غلام،محبوبہ،آغوش،آنکھ کا نشہ،سات لاکھ، طوفان،قاتل،انتقام،لخت جگر،اُمراؤ جان ادا،ثریابھوپالی،عذرا،تہذیب،انارکلی،انجمن اور شمع پروانہ جیسی فلموں کیلئے نغمے لکھے۔


ان کے لکھے ہوئے مقبول نغموں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں جلتے ہیں ارمان میرا دل روتاہے(انار کلی)،وہ خواب سہانا ٹوٹ گیااُمید گئی ارمان گئے(لخت جگر)،چل ہٹ ری ہوا گھونگھٹ نہ اُٹھا (مادروطن)،جس طرف آنکھ اُٹھاؤں تیری تصویراں ہیں(ثریابھوپالی)،میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا(شمع اور پروانہ)اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے(انجمن)،جوبچا تھا لٹا نے کے لئے آئے ہیں(اُمراؤ جان ادا)،آئے موسم رنگیلے سہانے تو چھٹی لے کے آجا بالما(سات لاکھ) جیسے نغمے شامل ہیں جن کی گونج ہمیشہ ہمارے کانوں میں گونجتی رہے گی۔


انہوں نے فلمی دنیا میں رہنے کے باوجود ادب سے رابطہ برقرار رکھا اور نظمیں اور غزلیں بھی تخلیق کرتے ہے،ان کی شاعری کے مجموعہ کلام میں خم کاکل،کف گل فروش،اور دور دراز شامل ہیں۔فلمی نغموں کے علاوہ ان کی کئی غزلیں مختلف گلوکاروں نے گائیں جن میں اُستاد امانت علی خان اور اُستاد نصرت فتح علی خان نمایاں ہیں۔سیف الدین سیف 12جولائی1993ء کو لاہور میں راہی ملک عدم ہو گئے تھے اور ماڈل ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

Your Thoughts and Comments