بند کریں
خواتین مضامینمضامیناضمحلال وافسردگی میں کھانوں پر توجہ زیادہ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اضمحلال وافسردگی میں کھانوں پر توجہ زیادہ
میرے پاس زیادہ تر ایسے مریض آتے ہیں جو مٹاپے کی شکایت کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا وزن زیادہ ہو گیا ہے ، کھانا ہضم نہیں ہوتا اور وہ ذہنی کھچاوٴ کا شکار رہتے ہیں۔ غیر شادی شدہ افراد ان خرابیوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں
سمیّہ سیّد طارق:
میرے پاس زیادہ تر ایسے مریض آتے ہیں جو مٹاپے کی شکایت کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا وزن زیادہ ہو گیا ہے ، کھانا ہضم نہیں ہوتا اور وہ ذہنی کھچاوٴ کا شکار رہتے ہیں۔ غیر شادی شدہ افراد ان خرابیوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں جب کہ شادی شدہ افراد کو اپنی بیویوں کی طرف سے یہ شکایات ہوتی ہیں اسی وجہ سے وہ ان سے ناخوش رہتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک مریضہ کا احوال سینے، جو اپنا بلڈ پریشر چیک کرانے کے لئے میرے کلینک میں آتی تھیں۔میں نے محسوس کیا کہ ہو ان دنوں کچھ پریشان مند سی رہتی ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ ان کا صرف ایک ہی لڑکا ہے جو تعلیم حاصل کرنے کے لئے باہر چلا گیا ہے ا ب میرے خاوند ہیں جو وقت، بے وقت کھانے کو مانگتے رہتے ہیں۔
میں نے وضاحت کی:” جب کوئی شخص ذہنی الجھن میں گرفتار ہوتا ہے تواپنی توجہ ہٹانے کے لئے کھانے کی طرف راغب ہو جاتا ہے اس میں تنہائی یا اپنے چاہنے والوں سے علیحدگی بھی شامل ہے۔“
اس مریضہ کے شوہر ملازمت سے رٹائر ہو چکے ہیں وہ اپنا زیادہ تر وقت بیٹے کے ساتھ گزارتے تھے۔ لیکن وہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے غیر ملک چلا گیا تو وہ اکیلے پن کا شکار ہو گئے۔ چنانچہ ان پر اضمحلال و افسردگی (ڈپریشن) طاری ہو گی۔ اب وہ اس کیفیت سے نجات پانے کے لئے نت نئی غذائیں کھانا چاہتے ہیں ۔ میں نے مریضہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے شوہر کے مطالبے پر ناگواری کا اظہار نہ کریں اس لیے کہ ”کھانا“ اب ان کے لئے مذکورہ کیفیت سے نجات پانے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے میں انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ اپنے شوہر کے قریب رہیں اور بتدریج کھانوں میں کمی کریں۔
میں یہی ہدایت دوسروں کوبھی دوں گی کہ اگر آپ کا کوئی رشتے دار یا دوست اضمحلال وافسردگی میں مبتلا ہو یاکسی صدمے سے دوچار ہو تو اس سے قریب رہیے اور وہ اپنی کیفیت دود کرنے کے لئے اگر زیادہ کھانا کھا رہا ہو تو اسے حکمت عملی سے باز رکھیے اور اس کے اس عمل پر ناگواری کا اظہار نہ کیجئے۔
اپنے خاندان کے ساتھ گاہے گاہے سیروتفریخ کا پروگرام بنائے۔ اگر آپ مضمحل وافسردہ ہوں تو صبح چہل قدمی کیجیے۔ رات گئے تک کام نہ کریں۔ اور اپنے دوست احباب کے ساتھ وقت گزاریں ۔ یقین کریں کہ کسی کی خوشی میں شریک ہونا یا اپنائیت سے اس کے ہاتھ میں لے کر گرم جوشی سے ملنا بھی بڑی بات ہے۔اگر کوئی اپنی مصیبت کا احوال آپ کو سنا رہا ہو تو اسے نظر انداز نہ کیجیے بلکہ پوری توجہ سے اس کا احوال سن کر اس کا غم بانٹنے کی کوشش کیجئے اس عمل سے بھی آپ کا رنج وغم دور ہو جائے گا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے