بند کریں
خواتین مضامینمضامیناین فرینک (1929ء تا1945)

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
این فرینک (1929ء تا1945)
جب این فرینک نے اپنی ڈائری شروع کرنے کے لیے چھوٹی سی سرخ اور سفید ڈبوں والی کتاب کھولی تو لکھا کہ” کسی بھی شخص کوایک تیرہ سالہ سکول کی بچی کے دل کی باتیں جاننے میں دلچسپی نہیں ہوگی۔
جب این فرینک نے اپنی ڈائری شروع کرنے کے لیے چھوٹی سی سرخ اور سفید ڈبوں والی کتاب کھولی تو لکھا کہ” کسی بھی شخص کوایک تیرہ سالہ سکول کی بچی کے دل کی باتیں جاننے میں دلچسپی نہیں ہوگی۔ 1942ء میں فرینک کاگھرانہ اور دیگر چار یہودی روپوش ہوگئے۔ 1944ء میں انہیں تلاش کرکے کنسنٹریشن کیمپ میں بھیج دیاگیا۔ اس عرصہ کے دوران این فرینک نے اپنے نہایت اندرونی خیالات اور احساسات بیان کرنے کے لیے ڈائری کاسہارا لیا۔ اُس نے اپنی ڈائری خیالی دوستوں کے نام سلسلہ وار خطوط کی صورت میں لکھی۔ وہ نہیں جان سکتی تھی کہ یہ” انشائی سوانح عمری“ تاریخ کے ایک نہایت غیر انسانی دور میں نہایت متاثر کن انسانیت پسندانہ دستاویز بن جائے گی۔
اینالیز میری فرینک فرینکفرٹ جرمنی میں پیدا ہوئی۔ وہ اوٹو اور ایڈتھ فرینک کی دوسری بیٹی تھی۔ 1934 میں گھرانہ نازیوں سے بچنے کی اُمید میں ایمسٹرڈم منتقل ہوگیا۔ وہاں اوٹو فرینک نے ڈچ گھریلو خواتین کو مسالے اور پیکٹین فروخت کرنے کاکاروبار شروع کیا اور شہر کے پرانے حصے میں ایک ویئرہاؤس اور دفاتر کرائے پرلیے۔ 1940ء میں جب جرمنوں نے ایمسٹرڈم پر قبضہ کیا تو اوٹو فرینک نے خاموشی سے رپوش ہونے کی تیاریاں شروع کردیں۔
جولائی 1942ء میں این کی بہن مارگوٹ کوڈی پورٹیشن (ملک بدری) کے سلسلے میں رپورٹ کرنے کا حکم ملا۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد فرینک خاندان کے ارکان اپنے گھر سے چھپنے کی جگہ تک پیدل روانہ ہوئے۔ انہوں نے اوٹوفرینک کے وئیرہاؤس کے اوپر تین منازل پر مشتمل بالا خانے میں چھپنے کا انتظام کیا تھا۔ اگلے دوبرس کے دوران Van Pelses، اُن کا بیٹا پیٹر اور ایک دندان ساز Pfeffer بھی اُن کے ساتھ مقیم رہے۔ بیرونی دنیا کے ساتھ اُن کاواحد رابطہ ریڈیو تھا جو صرف رات کے وقت نہایت مدھم آواز میں چلایا جاسکتا تھا۔ اس کے علاوہ اوٹوفرینک کے ملازمین نے بھی بڑی بہادری کے ساتھ اُن کی حفاظت کی اور جعلی راشن کو پنوں (Coupons) کھانے پینے کاسامان لاکردیتے رہے۔
این نے زبردست ذہنی دباؤ کے اس ماحول میں ہی زندگی گزاری اور اپنے عنفون شباب کے بارے میں لکھا۔وہ پوری ایمان داری کے ساتھ اپنی جسمانی تبدیلیاں اور اُبھرتی ہوئی جنسیت، اپنی خوب صورت مگر خود پسند بڑی بہن کے لیے ناپسندیدگی کے احساسات، ماں سے خفگی، اور اپنے عزیز باپ پر کامل یقین کے متعلق لکھتی ہے۔ وہ اپنے باپ کو پیار سے Pimکہا کرتی تھی۔ بیش تر نوجوانوں کی طرح اُس نے بھی اپنی ” مصنوعی ذات“ اور ذات کے عمیق پہلو“ کے درمیان مفاہمت کرانے میں کافی مشکل کا سامنا کیا۔ Thurmanلکھتا ہے: وہ ایک مضبوط، نکتہ داں، خوش اسلوب اور سچی اہل قلم تھی۔ وہ اُس تصنع سے بچ گئی جوعموماََ نوجوان لوگوں کی تحریر کو داغ دار کر دیتا ہے۔
اگست 1944ء میں کسی شخص․․․․ غالباََ ویئرہاؤس کے کلرک․․․․ نے اُن کے خفیہ ٹھکانے کا راز افشا کردیا، اور 14اگست کو سکیورٹی پولیس نے چھاپہ مارکرانہیں گرفتار کرلیا۔ قیمتی اشیا کی تلاش کے دوران پولیس نے اوٹو فرینک کابریف کیس فرش پر اُلٹا دیاجس کے اندراین کی ڈائری بھی چھپی ہوئی تھی۔ گروپ کے مددگاروں میں سے ایک شخص Miep Giesایک ہفتے بعد ویئر ہاؤس میں آیا، این کی ڈائری اپنے قبضے میں کی اور اس اُمید میں سنبھال کررکھ لی کہ شاید این واپس آجائے۔گروپ کو ایک ماہ تک ڈچ کنسنٹریشن کیمپ میں رکھا گیا اور پھر بذریعہ بحری جہاز Auschwitzبھجوادیا گیا۔ ایڈتھ فرینک اور لڑکیوں کی ہی بیرک میں رہنے اور زندہ بچ جانے والی ایک ڈچ عورت نے بعد میں ایک انٹرویو کے دوران اُس جہنم کے بارے میں این کاردعمل بیان کیا: اس نے ہمارے ساتھ ہونے والے سلوک کو شروع سے لے کرآخر تک دیکھا۔ ہم نے کافی عرصہ سے اردگر دیکھنا چھوڑ دیاتھا․․․ کسی چیز نے ہمیں دیکھنے سے بازرکھا۔ لیکن این کووہ چیز مانع نہ تھی۔ وہ رونے لگتی۔ اور آپ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ کس طرح ہمارے آنسواتنی جلد ختم ہو گئے۔ این اور مارگوٹ کو1944ء کے موسم سرمامیں Bergen Belsenبھیج دیاگیا۔ اگلے برس وہ دونوں کیمپ میں پھیلنے والی ٹائفس (محرقہ دماغی) کی وبا کا شکار ہوگئیں۔
گروپ میں سے زندہ بچنے والا واحد شخص اوٹو فرینک جب ایمسٹرڈم واپس آیاتو اسے این کی ڈائری دی گئی۔ اُس نے ڈائری کو شائع کروایا اور اُس کاعنوان Het Achterhuisرکھا جواین نے اپن کسی مستقبل کی کتاب کے لیے منتخب کیا تھا۔ 1953ء میں یہ روزنامچہ امریکہ میں The Diary of a Young Girlکے نام سے شائع ہوا۔ 1995ء مین ایک نیا ایڈیشن منظر عام پر آیا۔ این کی ڈائری تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے۔ اس کی بنیاد پر ایک نہایت مقبول ڈارمہ بھی بنا۔ این نے کچھ قصے، کہانیوں اور مضامین بھی لکھے تھے جو 1957ء میں شائع ہوئے۔ 1989ء میں ڈائری کا سات سوصفحات پر مشتمل تنقیدی ایڈیشن نیدرلینڈز سے طبع ہوا۔
این فرینک نے اپنی ڈائری کے آخری اندراجات میں سے ایک میں لکھا کہ” سب کچھ کے باوجود میں اب بھی یقین رکھتی ہوں کہ لوگ حقیقتاََ دل کے اچھے ہیں۔ یقین ہمیں یاد دلاتا ہے کہ این فرینک کی زندگی اور تحریریں موت بانٹنے والوں پا انسانی جذبے کی فتح کی نمائندہ ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے