Aurton E Hathkanday - Special Articles For Women

عو ر توں کے ہتھکنڈے !! - خواتین کیلئے مضامین

منگل 24 جولائی 2018

Aurton E Hathkanday

زارا مصطفیٰ
انسانی فطرت کا تقا ضا ہے کہ کوئی اسے توجہ دے ،اس کا خیال رکھے ،اس سے محبت کا اظہار کر ے تو اسے اپنی اہمیت اور و قت کا احساس ہو تا ہے لیکن جب کسی وجہ سے ایسا نہ ہو سکے تو وہ احساسِ تنہائی ، ذہنی دباوٴ اور احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے خصو صاََ خواتین اپنے اردگرد کے لوگوں کی عدم تو جہ کی وجہ سے اپنا وجود بے معنی اور بے وقعت تصور کرنے لگتی ہیں ۔

کہا جا تا ہے کہ خوا تین کو تو جہ کی اسی طرح ضر ورت ہو تی ہے جس طرح آکسیجن زندگی کے لئے...خواتین ویسے بھی جذ باتی اور نفسیا تی طور پر مر دوں کی نسبت کمزور ہو تی ہیں اس لئے وہ اپنی فیملی ، فرینڈ زاور دیگر قر یبی لو گوں کی توجہ حاصل کرنے میں اپنی وقعت بڑھانے کے لئے منفی حر بے استعمال کر تی ہیں ۔

(جاری ہے)

اتنا ہی نہیں بعض اوقات نا پسندیدہ حا لات کو وہ اپنی طرف مو ڑ نے اور اردگر د کے لوگوں پر اپنا رعب ودبد بہ قائم رکھنے کے لئے بھی مختلف ہتھکنڈے اپنا تی ہیں تا کہ لوگ انہیں اہمیت دیں ۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اکثر خواتین میں اپنے اردگرد کے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی بھوک ایک نشے کی مانند ہے جو جتنی ملے ،اس کی مطلب اتنی ہی بڑھتی جا تی ہے ۔تو جہ حاصل کرنا کیا ہے؟ مثلاََ اگر آپ کسی بات پر رنجیدہ ہیں ،رونا چاہتی ہیں لیکن ایسی جگہ پر رو تی ہیں جہاں لوگ آپ کو بآسانی رو تے ہو ئے دیکھ سکیں اور یہ جا ننے کی کوشش کریں کہ آپ کیوں دکھی ہیں ؟ تو یہی رویہ تو جہ حاصل کر نے کا منفی حر بہ ہے ...جس کا مقصد لو گوں کو اپنی طرف متو جہ کرنا اور ان سے ہمدردی پانے کے سوا اور کچھ نہیں ...تو جہ حاصل کرنے والی خواتین دوسروں کے ان رویوں سے تسکین اور خوشی محسوس کر تی ہیں۔

انہیں اچھا لگتا ہے کہ لوگ ان کے بارے میں معلومات لینے کی کوشش کر رہے ہیں ...لیکن ذہنی اور اعصا بی طور پر وہ خوا تین زیا دہ مضبوط ہو تی ہیں جو اپنی پر یشانی کسی کو نہیں بتا تیں اور اپنی افسر دگی کو ہنسی میں چھپا نے کا فن جانتی ہیں ۔ ان رویوں سے ان کی شخصیت کی مضبو طی ظا ہر ہو تی ہے ۔ نو عمر لڑکیاں عمو ماََ تو جہ حاصل کرنے کے لئے ڈھٹا ئی اور ہٹ دھر می سے کام لیتی ہیں ،انہیں جس کام سے منع کیا جائے ،وہ بضد وہی کا م کر تی ہیں ۔

اکثر لڑکیاں لو گوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے اونچی آواز میں بات کر تی ہیں ،ذراذراسی بات پر چیخنا چلاناشروع کر دیتی ہیں ۔پہننے اوڑھنے کے ایسے ڈھنک اپنا تی ہیں کہ لوگ چاہ کر بھی انہیں نظر انداز نہیں کر پا تے ۔۔۔ جس سے اکثر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنا یا جا تا ہے ۔ بعض لڑکیاں بڑھ چڑھ کر اپنی باتیں بتاتی ہیں کہ کب کہاں گئیں ،کس نے کیا کہا ، کیا کھایا ،کس سے ملیں ،کتنے پسیے خرچ کئے ؟ بظاہرتو اسے دکھا وا کہا جاتا ہے مگر دکھا وے کا اصل مقصد دوسروں کی توجہ حاصل کر نا ہی ہو تا ہے ۔

وہ اپنی سہیلیوں کے سامنے اپنے منگیتر یا شوہر کے بارے میں بھی بڑی بڑی ڈینگیں مارتی ہیں ۔سکول، کالج یا یو نیورسٹی میں اپنی سہیلیوں یا دیگر کلاس فیلوز کے ساتھ خوا مخواہ چھیڑ چھاڑ کر تی رہتی ہیں ،لوگوں کامذاق اڑاتی ہیں یا کبھی اساتذہ کی نقل کر تی ہیں ،کبھی کلاس میں غیر ضروری باتوں پربحث کرنے لگتی ہیں ۔ایسا بھی ہوتا ہے جب دوستوں کا کوئی گروپ ہنسی مذاق میں مصروف ہو تو ان میں لڑکی بے وجہ منہ پھلائے بیٹھی ہوتی ہے جو کسی سر گرمی میں شریک نہیں ہوتی ، ایسے میں اس کا یہ رویہ دوسروں کے لئے تشو یش کاباعث بنتا ہے لیکن جب پو چھا جائے کہ مسئلہ کیا ہے تووہ نہ تو کسی کو مسئلہ بتاتی ہے اور نہ ہی کسی سے سیدھے منہ بات کر تی ہے کیو نکہ اس کی تسکین کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کے اس رویے پراتنے لوگوں نے غور کیا ۔

۔۔اکثر لڑکیوں کو اپنے باپ اور بھائی سے توجہ اور محبت نہیں ملتی اس لئے وہ اپنے کلاس فیلوز ،کو لیگز ،ٹیچرز یاکسی سہیلی کے بھائی کو اپنی محرومیوں کے قصے سنا کر ہمدردی پانے کی کوشش بھی کرتی ہیں ۔بعض اوقات کچھ لوگ ان کی اس محرومی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں اوروہ لڑکیاں بھی جلد ہی ایسے لوگوں کی باتوں میں آجاتی ہیں ۔اسی طرح بعض لڑکیاں گھروالوں سے اپنی بات منوانے کے لئے کھانا پینا چھوڑ دیتی ہیں ،غصے میںآ جاتی ہیں ،بات بات پر رونے لگتی ہیں ،گھر والے بھی گھبراجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی بات مان لوتاکہ اپنی الٹی سیدھی حر کتوں سے وہ گھر کا ماحول خراب نہ کر دیں ۔

۔۔خواتین میں عمر کے ہر حصے میں اپنے اردگرداور قریبی لوگوں کی توجہ پانے کے انداز مختلف ہوتے ہیں ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر شوہر کسی وجہ سے بیوی پر توجہ نہ دے تو وہ شوہر کی توجہ حاصل کرنے کے لئے بیمار ہونے کا ڈرامہ کرتی ہیں جس سے شوہر گھبرا کران کا خیال رکھنے لگتا ہے ،ان پر توجہ کے پھول نچھاور کرنے لگتا ہے ۔اسی طرح اگر کبھی بیوی کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو وہ بے ہوش ہو جاتی ہے جس سے شوہر آئندہ کوئی ایسی بات کرنے میں محتاط ہوجاتاہے ۔

بعض خواتین شوہر کے گھرآنے سے پہلے سر پر دوپٹے کی پٹی باندھے بیڈ پر لیٹ کر ہائے ہائے کرنے لگتی ہیں تاکہ شوہر جب گھر پر آئے تو اسے پتا ہو کہ اس کی بیوی کی طبعت ٹھیک نہیں اور اسے دیکھ بھال کی ضرورت ہے ۔۔۔ ایسے میں بیوی کو گھر کے کام کاج سے بھی چھٹکارامل جاتاہے اورشوہر کی توجہ الگ ملتی ہے ۔
توجہ کیسے حاصل کی جاتی ہے ؟
ایک ملٹی نیشنل ادارے میں کام کرنے والی شائستہ جبیں بتاتی ہیں ” میں نے زمانہ طالبِ علمی میں کافی عر صہ پر ائیویٹ ہو سٹل میں گزارا،اسی دوران ایک مرتبہ ملتان کے کسی نوا حی گاوٴں سے آنے والی حمیر انامی ایک لڑکی میری ” روم میٹ “ بنی۔

چو نکہ وہ ہم سے عمر میں کافی بڑی تھیں اس لئے وہ میرا اور دوسری ” روم میٹس “ کا بڑی بہنوں کی طرح خیال رکھتی تھیں اور ہم بھی ان کی بہت عزت کرتے تھے ۔ حمیرااپنے تین بھائیوں کی بڑی اور اکلو تی بہن تھیں ،وہ بہت چھوٹی تھیں جب ان کے ابانے دوسری شادی کر لی اور چو نکہ ان کی والدہ ایک سر کاری کالج میں لیکچر ارتھیں اس لئے انہوں نے اپنے بچوں کو اکیلے ہی پال پوس کر بڑا کیا ۔

حمیرا کا ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اسے بچپن سے کبھی اپنے باپ کی محبت اور شفقت نصیب نہیں ہوئی اور دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ ان کے خاندان میں بیٹیوں کو بیٹوں کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی ۔ چو نکہ حمیرا کی والدہ نے اپنے بیٹوں کو ہی اپنے بڑھاپے کا سہارا سمجھ لیا تھا اس لئے وہ اپنی تماام تر تو جہ اور محبت بیٹوں پر ہی نچھاور کر تی رہیں اور یوں حمیرا بچپن سے ہی اپنے بھائیوں کے لئے چھوٹی چھوٹی قر بانیاں دینے کی عادی ہو گئی ،پھر ایک دن انہیں احساس ہوا کہ اگر میں بھی پڑھ لکھ کر اپنے پاوٴں پر کھڑی ہوجاوٴں گی تواپنی ماں اور بھائیوں کی نظرمیں میری بھی اہمیت بڑھ جائے گی ۔

چنانچہ حمیرا نے لاہور آکر سی ایس ایس کرنے کا فیصلہ کیا اوراس کیلئے ایک اکیڈمی میں تیاری بھی شروع کردی ،چو نکہ حمیرا اتنی ذہین طالبہ نہیں تھیں اس لئے انہیں یہ محسوس ہونے لگا کہ اگر وہ سی ایس ایس نہ کر پائیں تو ان کی والدہ انہیں واپس بلالیں گی اور حمیرا کسی بھی قیمت پر گھر واپس نہیں جانا چاہتی تھیں اس لئے انہوں نے گھر والوں کو یہ باور کروانا شروع کر دیاکہ اب میں آفیسر بن کر ہی گھر جاوٴں گی ۔

۔۔مگر وہ صاف لفظوں میں اپنی فیملی کو یہ نہیں کہہ پائیں چنانچہ انہوں نے اپنی بیماری کاڈرامہ رچاناشروع کردیا ۔۔ اچانک ہو سٹل میں ان کی طبیعت خراب ہو جاتی اوہ بے ہوش ہونے کے بعد وہ ہاتھ پاوٴں موڑنے کی ایکٹنگ کر تیں ۔میں اور میری دوسری روم میٹ انہیں جلدی سے ہسپتال لے کر جاتے ،ان کے بھائی کو فون کر کے بلایا جاتا ،جب بھائی ان کے آس پاس ہو تا تووہ بیہوشی کی حالت میں بر بڑاتے ہوئے کہتیں کہ مجھے گھر نہیں جانا ،میں یہاں سے کچھ بن کر ہی جاوٴں گی ۔

۔۔حمیرا کی بیماری کا یہ روز روز کاڈرامہ نہ صرف ہماری بلکہ ہو سٹل کی انتظامیہ کی سمجھ سے بھی باہر تھا ۔ البتہ ڈاکٹر اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ ان کے ساتھ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ بہر حال آخری مر تبہ جب تم انہیں ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹر نے حمیرا کو ڈرایا کہ اب اگروہ جھوٹا ڈرامہ کرکے ہسپتال آئیں گی تو ہم ڈاکٹر زان کی فیملی کو بتادیں گے کہ آپ کی بیٹی کو کچھ نہیں ہوا ۔

۔۔اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ حمیرا واقعی ٹھیک ہو گئیں اور پھر کبھی انہیں ہسپتال لے جانے کی توبت نہیں آئی ۔۔۔حمیرا کو بیماری کاڈرامہ کرنے کافائدہ یہ ہوا کہ انہیں اپنے گھر والوں کی توجہ ملنے لگی ،ان کی والدہ اور بھائی انہیں باربار فون کر کے انکی خیریت معلوم کرتے ،ان کے کھانے پینے او رادویات کے بارے میں وقتاََ فو قتاََ پو چھتے ۔۔۔اورہم دونوں روم میٹس بھی ان کا خوب خیال رکھتیں کیو نکہ ہمیں سمجھ آچکی تھی کہ حمیرا کواپنی زندگی میں محبت اور توجہ نہیں ملی جسے پانے کے لئے وہ اپنے اردگردلوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ رہی ہیں ۔

۔۔
سلطانہ نامی گھر یلو خاتون بتاتی ہیں کہ میری ایک سہیلی کی اپنے شوراور سسر الیوں سے نہیں بنتی تھی ،وہ لوگ جب اسے کسی بات پر منع کر تے یا سمجھانے کی کوشش کر تے تووہ بے ہوش ہوجاتیں ،کبھی خود کشی کی دھمکی دیتیں جب اس سے بھی بات نہ بنتی تو وہ چھت کی طرف بھا گتیں کہ میں خود کشی کر لوں گی ،اگر مجھے کسی نے کسی بات پر تنگ کیا یا مجھے کسی بات پر روکنے کی کوشش کی تو میں بچوں کو ساتھ لے کر نہر میں کود جاوٴں گی۔

۔۔اس جذباتی ماحول میں سب گھر والے انہیں روکتے ،ان کے پیچھے بھاگتے کہ کہیں وہ سچ مچ اپنی جان نہ لے لے ۔۔۔لیکن حقیقت میں وہ اپنی جان نہیں لینا چاہتی تھیں بلکہ وہ ایسا صرف دوسروں کوڈرانے اوران کی توجہ حاصل کرنے کے لئے کرتی تھیں اور خود کشی کی دھمکی بھی اسی وقت دیتی تھیں جب ان کے آس پاس کوئی موجود ہوتاتاکہ جب وہ کوئی قدم اٹھانے لگیں تو کوئی انہیں بچانے والا ہو ۔

۔۔ایک دن ان کا اپنے میاں سے جھگڑا اس قدر طول اختیار کر گیا کہ اس نے اپنے آپ کو آگ لگالی ،اس کا خیال تھاکہ سب گھروالے ڈر جائیں گے اوروہ بچ جائے گی اس لئے جو نہی وہ آگ بجھا دے تب تک آگ اس کے جسم کواپنی لپیٹ میں لے چکی تھی ،اس وقت گھر میں اس کے سسر اور بیمار ساس کے سوا کوئی نہیں تھا بوڑھے سسر نے عجلت میں ہاتھوں سے آگ بجھا نے کی کوشش کی تو ان کے اپنے ہاتھ بھی جھلس کر زخمی ہوگئے ، تب وہ گھر سے نکل کر پڑوسیوں کے گھر چلی گئیں تا کہ کوئی جلدی سے آگ بجھادے ،خیر ایک پڑوسی نے جلدی سے اس پر کمبل ڈال کر آگ بجھائی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی ۔

۔ ۔یوں عمر بھر خود کشی کی دھمکی دینے والی نسرین ایک دن سچ مچ اپنی زندگی کی بازی ہار گئی ۔۔۔وجہ کیا تھی ؟ یہی کہ جب بھی حالات اس کی مرضی کے خلاف ہوجاتے تووہ لوگوں کو ڈرانے کے لئے انتہائی قدم اٹھانے کی دھمکی دیتی تاکہ لوگ اس سے دب جائیں ،اسے توجہ دیں اور اس کی ہر بات مانیں ۔۔۔
نفسیات کیا کہتی ہے ؟
ماہرِ نفسیات فریحہ ناز کے مطابق ” صرف آج کی عو رتیں ہی اپنی قریبی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے منفی ہتھکنڈے نہیں اپنا تیں بلکہ دوتین صدیاں قبل بھی عو رتیں اپنی اہمیت جتانے اور توجہ حاصل کرنے کے لئے الٹی سید ھی حرکتیں کر تی تھیں ۔

اس حوالے سے 1850کی دہائی کی عورتوں پر ہو نے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا اور انہیں مر دوں سے کمتر درجہ دیا جاتا تھا ۔یہی وجہ تھی کہ عو رتوں میں احساسِ کمتری پیدا ہونے کے علاوہ غصہ اور شدید جذ باتی کیفیت پیدا ہونے لگی جسے وہ زیادہ عر صہ دبانہ سکیں توانہوں نے خود کشی کا راستہ اپنا لیا ۔

اگر ہم مو جودہ حالات کی بات کریں تو یہاں آج بھی مردوں کی اجارہ داری ہے اور خواتین کو کمتر سماجی حیثیت دی جاتی ہے ۔عام گھرانوں میں لڑکیوں کی ابتداء سے ہی بتایا جاتاہے کہ آپ بلند آواز میں کسی سے بات نہیں کرسکتیں ،حتیٰ کہ کوئی آپ سے زیادتی بھی کرے تو آپ خاموشی سے سہہ لیں ۔۔۔ یہ رویے خواتین کے لئے نفسیاتی مسائل کا باعث بنتے ہیں ۔ میرے پاس ایسی سینکڑوں خواتین علاج کے لئے آتی ہیں جو کہتی ہیں کہ مجھے پٹھوں میں درد ہے ، میری نظر کا مسئلہ ہے ، کمر کادرد ہے اور اس سے پہلے ہزاروں روپے کے میڈیکل ٹیسٹ کر واچکی ہو تی ہیں اور رپورٹ میں ایسی کسی بیماری کی تشخیص نہیں ہو تی جس کی وہ خواتین شکایت کر تی ہیں جب ان کا نفسیاتی علاج شروع ہوتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ ان کے شوہر نے توجہ ہی تب دینا شروع کی تھی جب انہوں نے اپنی بیماری کا بہانہ بنایا اس سے پہلے تو ان کی کسی بات کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی ،چنانچہ وہ تو جہ حاصل کرنے کے منفی حر بے آزمانے لگیں اور اس کا سب سے آسا ن طریقہ بیمار ہونا ہے ۔

۔۔دوسری طرف لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کو ہمیشہ غیر اہم سمجھا جاتاہے اور انہیں ہمیشہ والدین پر بوجھ ہونے کا احساس دلایا جاتاہے ۔ہمارے ہاں آج بھی ایسے بہت سے گھرانے ہیں جہاں بیٹی پیدا ہوتو ایک دوسرے کو مبارک باد تک نہیں دی جاتی ۔۔۔پھر جیسے جیسے وہ لڑکی زندگی کے مختلف مراحل سے گز رتی ہے ،اپنے قریبی لوگوں کی توجہ اور محبت پانے کی اس کی خواہش حسرت بنتی جاتی ہے ،پھر جب شادی ہو تی ہے تو شوہر بھی اسی طرح اس کوبے وقعتی کااحساس دلاتاہے تو خود سوچیں وہ عورت کہاں سے محبت اور توجہ تلاش کرے گی ؟ اورایسے میں وہ منفی حربے نہیں آزمائے گی تو اور کیا کرے گی ؟دوسری طرف ایسی بھی خواتین ہیں جن کی شخصیت میں غیر ضروری خود اعتماد اورخود سری ہوتی ہے ،جب انہیں لگتاہے کہ ان کی بات کو اہمیت نہیں مل رہی تووہ من مانیاں کر کے غلط فیصلے کرتی ہیں جس سے بعض اوقات اپنے آپ کوبھی نقصان پہنچا بیٹھی ہیں ۔

۔بعض خواتین توجہ کی بھوک مٹانے کے لئے اپنی کلائی کاٹ لیتی ہیں یا نیندکی گولیاں کھا لیتی ہیں ۔۔۔ ایسی خواتین کامقصد خود کشی کرنا تو نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اپنے قریبی لوگوں کومتوجہ اور فکر مند کرنے کے لئے ایسا کرتی ہیں ۔

تاریخ اشاعت: 2018-07-24

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Aurton E Hathkanday" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.