Bahasiyat Waldeen Or Ustaad Bachoon Ki Tarbiyat

بحیثیت والدین اور استاد بچوں کی تربیت

ریحانہ اعجاز جمعرات جون

Bahasiyat Waldeen Or Ustaad Bachoon Ki Tarbiyat
بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین اور اساتذہ بھرپور کردارا ادا کرتے ہیں ، ان کے رویئے اور الفاظ بچوں کی حوصلہ افزائی کا مؤجب بنتے ہیں ، لیکن اگر والدین اور اساتذہ کا رویہ ہی حوصلہ شکن ہوگا تو مایوسی ، خود کشی ، بےراہ روی ، جیسےواقعات جنم لیں گے ،

1=ان واقعات کے ذمہ دار والدین ہیں یا وہ دوہرا تعلیمی معیار جس میں امیر اور غریب کے لٸیے نصاب الگ الگ ہے

اس قسم کے کسی بھی واقعے کے سب سے بڑے والدین ہیں ، جو اپنی اولاد سے امیدیں تو بےشُمار لگاتے ہیں لیکن ان کی تربیت کی طرف سے آنکھیں بند کر کے بچوں کو محض اسکول یا ٹیوشنز ڈال کر ہر ذمے داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،
اور جب جب بچے کو اچھے الفاظ میں سراہا جانا چاہیئے انہیں یہ حساس دلایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی نسبت ابھی بھی پیچھے ہیں جو کہ ایک غلط رویہ ہے ، بالفرض اگر آپ کے بچے کے کم نمبرز بھی آ گئے ہیں تو آپ اسے پیار محبت سے پیش آئیں ، ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں یقین دلائیں کہ جب آپ یہ نمبر لے سکتے ہیں تو یقیناً اگلی بارتھوڑی سی محنت سے اس سے بہتر بھی لے سکتے ہیں ، یقین جانیئے آپ کے یہ چند الفاظ بچے میں نئی روح پھونک دیتے ہیں ، اور وہ آپ کی خاطر ، آپ کے ان محبت بھرے بولوں کی خاطر مزید اچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے ، لیکن اگر آپ ڈانٹ پھٹکار شروع کر دیں گے تو جواباً بچے پر مایوسی طاری ہو جاتی ہے ، وہ آپ کو مزید اچھا کر کے دکھانے کی بجائے آپ سے کترانا شروع کر دے گا ، یوں اس کی کارکردگی میں مزید کمی آئے گی ، بہتری نہیں ،
رہ گیا نصاب تو یہ طبقاتی تقسیم بھی بہت سی خرابیوں کی ضامن ہے لیکن اس سے مایوسی جنم نہیں لیتی کہ جو بچہ جو نصاب پڑھ رہا ہے اس میں ہی اسے مکمل توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ، جو اساتذہ سے زیادہ والدین کی ذمےداری ہے ،
بحیثیت والدین ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ ہمیشہ دوستانہ رویہ رکھنا چاہیئے خاص طور پر پڑھائی کے حوالے سے ، اور بجائے ٹیوشنز کے اگر والدین خود تھوڑا بہت ٹائم بھی بچوں کو ے لیں تو یقیناً والدین کا ایک گھنٹہ تین چار گھنٹوں کی ٹیوشن سے کہیں بہتر ہے ،میں ہمیشہ سے متعجب ہوں کہ والدین آخر کر کیا رہے ہیں ، صبح بچے کو اسکول بھیجتے ہیں ، اسکول سے واپسی میں کھانا کھاتے ہی دو تین بج جاتے ہیں تب انہیں مدرسے روانہ کر دیا جاتا ہے ، جیسے ہی بچے مدرسے سے واپس آتے ہیں ٹیوشن ان کی منتظر ہوتی ہے ، اس ساری صورتحال سے بچوں میں سیکھنے کا عمل کوئی تیزی سے پروان نہیں چڑھتا بلکہ اکثر بچے پڑھائی سے جی چرانا شروع کر دیتے ہیں ، بہتر ہو گا اگر والدین صبح سویرے اٹھ کر بچوں کو نماز کا عادی بنائیں اور انہیں محض پندرہ منٹ بھی قرآن پاک خود پڑھائیں پھر اسکول کے لیئے روانہ کریں ، اسکول سے واپسی پر بچوں کو کم سے کم دو گھنٹے کی پرسکون نیند دیں اس کے بعد چاہیں تو ٹیوشن کا انتظام کریں اگر خود پڑھا سکتے ہیں تو ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ بہت ہوگا اور بچوں کے پاس بہت سا ٹائم ہوگا جس میں وہ اپنی پسند سے کچھ بھی کر سکتے ہیں ، یہاں بھی والدین کو ان کا ساتھ دینا چاہیئے کہ وہ اپنا فالتو وقت کیسے اسپینڈ کریں ،

بچوں کو آسائشِ زندگی دینے کے ساتھ ساتھ اگر والدین روزانہ دو سے تین گھنٹے ان کے ساتھ ان کی دلچسپیوں میں حصہ لیتے ہوئے ، ان کی سارا دن کی کارکردگی کی داستانیں سنتے ہوئے ، ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے بچوں کے ساتھ دوستانہ ، مشفقانہ رویہ اپنائیں تو یقیناً ایسے واقعات جنم نہیں لیں گے ۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔ بچوں کی ہر جائز خواہش پوری کیجیئے لیکن ساتھ ہی انہیں اچھے برے کی تمیز بھی سکھایئے ، ہر چیز کا صحیح اور غلط استعمال بتایئے ،یقیناً آپ کا بچہ آپ کا نام ضرور روشن کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ اشاعت: 2020-06-25

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Bahasiyat Waldeen Or Ustaad Bachoon Ki Tarbiyat" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.