Bay Auladi Ko Rog Nahi Banaye

بے اولادی کو روگ نہیں بنائے

Bay Auladi Ko Rog Nahi Banaye

مبشرہ خالد

اولاد ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدرومنذلت کا اندازہ صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اس سے محروم ہو۔شاید اولاد نہ ہونا اتنا احساس محرومی کا باعث نہیں بنتا جتنا معاشرتی رویہ لوگوں کے اوٹ پٹانگ سوالات،طنز اور مشورے کیونکہ یہاں مفت مشورے دینا سب اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔
ایسے میں منفی معاشرتی رویہ کا سب سے زیادہ شکار خواتین ہوتی ہیں انھیں کہاجارہا ہوتا ہے دیکھو کچھ سوچوکہیں شوہر دوسری شادی نہ کرلے مرد کہاں انتظار کرتے ہیں ،تم اپنی جیٹھانی سے بچہ گود کیوں نہیں لے لیتی ،آج کل سائنس نے ترقی کرلی ہے کئی طریقوں کے علاج ہورہے ہیں ان کے بارے میں کیوں نہیں سوچتی اور یہ ساری باتیں سن کرخواتین ڈپریشن کا شکار ہونے لگتی ہیں اور شوہر حضرات سے بھی سوال و جواب کرنے لگتی ہیں اور وہ شوہر جو دوسری شادی کا سوچ بھی نہیں رہے ہوتے وہ بھی سوچنے لگتے ہیں۔

(جاری ہے)


میں آج ان ہی خواتین سے مخاطب ہو جن کی گود ہری نہیں ہوئی ہے دیکھے آپ نے بے اولادی کو روگ نہیں بنانا بلکہ یہ سوچنا ہے زندگی تجھے جینے کے لیے میں ہم ہیں ہردم تیار آپ نے اپنے لیے جینا ہے اور وہ کیسے آئیے میں آپ کو بتاتی ہوں۔
درس و تدریس: استاد کے بلند مرتبہ سے انکار نہیں کیا جاسکتافی الوقت اس کراچی شہرمیں ایدھی کے اپنا گھر میں اسکول کی داغ بیل ڈلی ہوئی ہے جہاں یتیم بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں او ر وہاں ایسے اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے جو بنا کسی معاوضہ کے بچوں کو خوش دلی سے پڑھائے ایسے میں اگر آپ وہاں جاکر درس و تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہوجاتی ہیں تو آپ کا بھی وقت اچھا گزرے گا اور ان یتیم بچوں کو آپ کی صورت میں پرخلوص استانی مل جائینگی اس لیے اپنا وقت جلنے کڑھنے میں اور اللہ سے شکوہ کرنے میں برباد کرنے کے بجائے ان کی ماں بن جائے جنھیں ماں کی ضرورت ہے ۔


دینی تعلیم: اگر کبھی کسی شادی شدہ خاتون سے یہ سوال کیا جائے کہ وہ دینی تعلیم کیوں حاصل نہیں کرپارہی حتی کہ ان کے گھر کے قریب میں ہی مدرسہ موجود ہے تو ان کا کہنا ہوگا بچوں کہ ہی اتنے کام ہیں کہ فرصت نہیں ملتی۔اگر آپ کو اللہ نے اولادسے نہیں نوازا تو کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ یہ چاہتا ہے کہ آپ اپنی زندگی دین کی تعلیم میں خرچ کریں دین کی تعلیم حاصل کریں اسے پھیلائے اپنی آخرت سنوارے تو کیوں دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہ بنالے؟
بیکنگ: ہم سب جانتے ہیں بچے میٹھے کے کتنے شوقین ہوتے ہیں انھیں براؤنیز،کیکس،بسکٹس ،کوکیس کتنے پسند ہوتے ہیں اگر آپ بیکنگ میں اچھی ہیں تو پھر آپ ان بچوں کو اپنی ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزوں سے لطف اندوز کرواسکتی ہیں جن کی ماں نہیں اور وہ اس ذائقہ کو چکھنے سے محروم ہیںآ پ کوئی اچھا سا میٹھا بنائیے اور کاشفانہ اطفال نونہال،دارالسکون یا پھرایدھی کے کسی یتیم خانے میں جاکر مل بانٹ کر ان کے ساتھ کھائیے وہ خوش ہونگے آپ کو بھی خوشی کا احساس ہوگااور مامتا کو تسکین پہنچے گی۔


کھانا: اکثر لوگ اپنی آخرت سنوارنے کے لیے مختلف جگہوں پر دسترخوان لگواتے ہیں لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں بلکل اسی طرح آپ بھی کسی یتیم خانے میں یہ بات کرسکتی ہیں کہ ہفتہ میں ایک دن کھانا آپ کے گھر سے آئیں گا تاکہ آپ کی مامتاکی تسکین ہو کہ آپ کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا یتیم بچے کھائیں گے اور خوش ہونگے ۔
کاروبار: اگر اللہ تعالی نے آپ کو نواز رکھا ہے تو پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ چھوٹے پیمانے پر اپنا کاروبار شروع کریں اور بچوں کے کم قیمت لباس بناکر مختلف مارکیٹ میں سپلائی کریں تاکہ آپ کی اس کاوش کے ذریعے غریب بچے بھی تہواروں اور روزمرہ زندگی میں اچھے اور نئے کپڑے پہن سکے اور آپ کو بھی محسوس ہو کہ آپ کی وجہ سے کوئی بچہ نئے کپڑاپہن سکا ۔


یہ سب باتیں تو میں نے وہ بتائی جو آپ اپنی مامتا کو تسکین پہنچانے کے لیے کرسکتی ہیں یا پھر اللہ سے اپنا تعلق جوڑ سکتی ہیں مگر ہوسکتا ہے آپ کو یہ سب پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہو جیسے نہیں میں یہ سب نہیں کرنا چاہتی تو پھر آئیے آپ یہ سب ضرور کرنا چاہے گی۔
تعلیم کا سلسلہ: ہوسکتا ہے آپ کی شادی کم عمری میں ہوگئی ہو اور آپ کی تعلیم کا سلسلہ آدھورارہ گیا ہو اس کو دوبارہ جوڑیے ممکن ہے ریگولر پڑھنا مشکل ہوتو پرائیوئٹ پڑھیے اور فارغ وقت میں مصروفیت ڈھونڈیے اور خود کومصروف رکھیے۔


سیلون : اگر آپ کو بیوٹیشن کا کام پسند ہے تو فی الوقت مختلف ادارے بیوٹیشن کا کورس کروارہے ہیں بیوٹیشن کا کورس کیجیے اورخود کو کسی سیلون سے جوڑیے تاکہ آپ کے پاس اتنا فالتو وقت ہی نہ ہوکہ آپ لوگوں کی او ل فول باتون پر غورکرسکے۔
جاب : اگر آپ اعلی تعلیم یافتہ ہے تو پھر آپ کو اپنی ڈگری کو بروقت بروئے کارلانے کے بارے میں سوچنا چاہیے اور اپنے شوہر کو اس بات پر امادہ کرنا چاہیے کہ چونکہ آپ ڈپریشن کا شکار نہیں ہونا چاہتی اس لیے آپ کو جاب کرنے کی اجازت دے دے کیونکہ اولاد دینا اور نہ دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے ہر عمل اللہ کے حکم اور اپنے وقت پر ہی بہترین ہوتا ہے ۔


ان سب باتوں کو میرا لکھنا کا مقصد صرف یہ ہے کہ اولاد کے حصول کے لیے کوششیں جاری و ساری رکھنی چاہیے چاہے وہ علاج ہو یا پھر یہ سوچ کہ بچہ گود لے لیا جائے یا پھر انتظار کے سال مگر اس سب میں صرف سوچوں میں غلطاں رہنا ڈپریشن میں رہنا گھر گھر میں بند ہوکر گھر کے کام ختم ہوجانے کے بعد بیٹھ کر سوچتے رہنے سے بہتر ہے خود کو مصروف رکھا جائے زندگی کے مقصد کا تعین کیا جائے اور جب ہار مل جائے تو تو زندگی کو اور قوت کے ساتھ جینا ہے اپنے بارے میں سوچنا ہے اور ایک اچھی زندگی کو اپنا مستقبل بنانا ہے کیونکہ زندگی ایک بار ملتی ہے اور اسے کھل کر جینا ہم سب کا حق ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-04-09

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Bay Auladi Ko Rog Nahi Banaye" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.