Bridal Shower

برائیڈل شاور

پیر جولائی

Bridal Shower
راحیلہ مغل
رنگ برنگے ملبوسات ،چہرے پر مسرت ،آنکھوں میں دھنک رنگ ،چوڑیوں کی کھنک اور سکھیوں کی محفل۔۔۔ملکہ بنی ہوئی ایک لڑکی جس کی آنکھیں اور چہرہ خوشی سے دمنک رہا ہے ۔کمرے کی سجاوٹ اور دستر خوان پر کیک اور دیگر لوازمات کو دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ کسی کا جنم دن منانے کی تیاریاں ہورہی ہیں ،لیکن یہ دیوار پر آرائشی اشیاء کے ساتھ کچھ مختلف سے الفاظ لکھے ہوئے نظر آرہے ہیں۔


”برائیڈل شاور“یہ برائیڈل شاور کیا ہے ،جسے منانے کے لیے آج ایک دلہن کی سہیلیاں سج دھج کر اس کے گھر اکٹھا ہوئی ہیں ۔برائیڈل شاور نامی یہ رسم دراصل ایک مغربی رسم ہے۔جو 1860ء میں بیلجیم سے شروع ہوئی ۔امریکا کے شہری علاقوں میں یہ رسم1890ء کی دہائی میں شروع ہوئی اور پھر کینیڈا ،آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک پھیل گئی۔

(جاری ہے)

اُس دور میں برائیڈل شاور‘دلہن کے دوستوں کی جانب سے اُسے تحائف دینے کی ایک تقریب ہوا کرتی تھی،جس کا مقصد دلہن کے گھر والوں کا اُن کی بیٹی کی شادی کے موقع پر معاشی بوجھ کم کرنا اور دلہن کا جہیز بنانے میں اُس کی مدد کرنا ہو تا۔

بالخصوص کوئی معاشی طور پر کمزور ہے ،تو اُس رسم کے ذریعے اس کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کی جاتی ہیں۔
مغرب میں پہلے اس تقریب میں مردوں کا داخلہ ممنوع ہوتاتھا ،لیکن آج کل مرد بھی اس میں شرکت کرتے ہیں ۔برائیڈل شاور نامی تقریب کا انعقاد دن یا شام کے اوقات میں کیا جاتا ہے اور اس کی دعوت غیر رسمی انداز میں یعنی ٹیلی فون ،ای میل وغیرہ کے ذریعے سے قریبی دوستوں کو دی جاتی ہے ۔

اس موقع پرمہمانوں کی خاطر داری کے لیے کیک اور کھانے پینے کے دیگر لوازمات پیش کیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں بالخصوص کراچی اور لاہور ایسے شہر ہیں‘جس میں مختلف ذات پات ،رسم ورواج کے حامل لوگ رہتے ہیں ،جو مختلف روایات اور ثقافتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔مختلف قومیتوں کے لوگوں کی آپس میں شادیوں کی وجہ سے شادیوں میں مختلف ثقافتوں کے رنگ نظر آتے ہیں ۔

مثال کے طور پر کہیں شادیوں میں گھڑ ولی اُٹھانے کی رسم ہے ،تو کہیں رت جگا منانے کا رواج کہیں مسلسل عورتوں اور مہمان نوازی کی ریت ہے ،تو کہیں دُلہے کی سالیاں اس سے نیگ لیتی ہیں ۔غرض شادی بیاہ کے موقع پر لوگ مختلف رسم ورواج کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں ۔اسی طرح اب پاکستانی ثقافت میں بھی برائیڈل شاور‘نامی مغربی رسم کا بھی اضافہ ہو چکا ہے ۔

پاکستان میں برائیڈل شاور نامی یہ رسم کافی عرصے سے امیر طبقے میں رائج تھی لیکن کچھ عرصے سے اب متوسط طبقے میں بھی یہ رسم پورے جوش وخروش سے منائی جارہی ہے۔جس کے لیے دلہن کی سہیلیاں کئی روز پہلے سے تیاریاں شروع کر دیتی ہیں۔
دلہن کی سہیلیاں شادی سے کچھ روزقبل دلہن کے گھر میں تحفے تحائف ،کیک،گجرے اور آرائشی لوازمات لے کر جاتی ہیں اور پھر دلہن کو تیار کیا جاتا ہے ،کیک کاٹا جاتا ہے ،خوشی کے گیت گائے جاتے ہیں ،رقص ہوتا ہے اور اس دوران اس کی شادی کے جوڑے بھی تیار کیے جاتے ہیں ۔

اپنی زبان،ثقافت اور تہذیب سے بالا تر ہو کر اب ہماری نئی نسل اس رسم میں خوشی محسوس کرتی ہے ۔یعنی نہ مغرب کی رسم کی پیروی تو ہے ،لیکن مشرق والوں نے اس میں اپنے رنگ بھی شامل کر لیے ہیں ۔جس کی وجہ سے یہ مغربی روایت کافی مختلف ہو گئی ہے ۔جیساکہ یہاں جوڑے ٹانکنا ،رقص اور گیت وغیرہ مغرب سے مختلف ہیں ۔اس رسم کے موقع پر مرکز نگاہ دلہن خود کو بجا طور پر ایک شہزادی تصور کرتی ہے اور یہ دن اُس کی زندگی کا ایک یاد گار دن بن جاتا ہے۔


اگر اس رسم کے مثبت پہلوؤں کو دیکھا جائے ،تو ایک لڑکی ،جوماں باپ ،بہن بھائی اور سکھیاں کو چھوڑ کر پیادیس سدھار نے والی ہوتی ہے ۔اُس کے دل میں ایک طرف تو نئی زندگی کے متعلق خدشات ہوتے ہیں ،تو دوسری طرف اپنوں کو چھوڑ کر جانے کا دکھ۔ایسے میں اس کی سہیلیوں اور اس کے عزیز واقارب کی جانب سے اسے اس قدر اہمیت کا احساس دلانا اُس کی خوشی کے ساتھ ساتھ خود اعتماد ی میں بھی اضافے کا باعث بنتا ہے ۔

وہ اپنی سہیلیوں کی جانب سے دیے گئے تحائف پر خوش ہوتی ہے اور انہیں اپنا آپ بہت اہم لگتا ہے ۔نفسانفسی کے اس دور میں برائیڈل شاور یا اس جیسی دوسری چھوٹی چھوٹی رسومات جو کسی کے چہرے پر خوشی کے رنگ بکھیر دیں ،انہیں منانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔یہ ایک ایسی مثبت رسم ہے ،جس سے خوشیاں بڑھتی ہیں اور دلہن کی شادی کے اخراجات میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔


ہمارے یہاں ویسے بھی جیسے ہی عید کا تہوار ختم ہوتا ہے ۔شادیوں کا سیزن شروع ہوجاتا ہے ۔چچا کی شادی ،تو کہیں کسی کزن کی شادی یا پھر خود اپنی شادی۔’برائیڈل شاور‘نامی تقریب شادی سے کچھ دن قبل منعقد کی جاتی ہے ،دلہن کی دوستیں اس کے گھر تحفے تحائف ،کیک،گجرے اور دیگر آرائشی لوازمات لے کر جاتی ہیں، پھر دلہن کو تیار کیا جاتا ہے اور بھر پور طریقے سے اس دن کا اختتام ہوتا ہے ۔

اگر آپ بھی اپنی شادی پر یا کسی دوست کی شادی برائیڈل شاور جیسی رسم سے بھر پور طریقے سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں تو یہ ٹپس آپ کیلئے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
بجٹ بنائیں
جی ہاں!یہاں بات ہورہی ہے برائیڈل شاور بجٹ کی ،جو دلہن کی دوستوں کو مل کر طے کر نا چاہیے نہ کہ شادی والے گھر کا بجٹ مزید بڑھادیا جائے ۔لہٰذا سب سے پہلے دلہن کی تمام سہیلیاں مل کر بجٹ بنائیں اور اندازہ لگا لیں کہ فی دوست کتنا خرچہ آئے گا۔


دعوت نامے
تیسرا مرحلہ آتا ہے انویٹیشن کارڈ(دعوت نامہ)کا ،جسے چھپوانے کے لیے آپ کو کسی پرنٹ شاپ پر جانے کی ضرورت نہیں ۔سوشل میڈیا اور گوگل کے اس دور میں تمام معلوم آپ کے پاس موجود ہیں ،تھیم کے پیش نظر کارڈشیٹ ،گلو ،آرٹیفشل فلاور ربن اور فوم کے ذریعے خوبصورت برائیڈل شاور انویٹیشن کارڈ تیار کیے جاسکتے ہیں۔


بیک ڈراپ
انویٹیشن کارڈ کی طرح برائیڈل شاور کا بیک ڈراپ بھی دوستیں مل کر تیار کر سکتی ہیں ۔اگر برائیڈل شاور پارٹی کا انعقاد گھر کے اندر کیا جارہا ہوتو گھر کی کوئی بھی دیوار بیک ڈراپ کے طور پر سجائی جاسکتی ہے جبکہ برائیڈل شاور اگر آوٹ ڈور ہوتو کسی ٹیبل کو بیک ڈراپ کے طور پر سجا کر اس رسم سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔


اسٹیج کا سازوسامان
برائیڈل شاور میں اسٹیج پر رکھا جانے والا سازوسامان بھی خاصی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ان میں گرلز کراون(جوکہ پھولوں یا کارڈشیٹ سے تیار کیے جاتے ہیں)،پھولوں کے گہنے،کیک،اور آرائشی لوازمات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
مینیو
کسی بھی تقریب کا مینیو اس تقریب کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے جبکہ برائیڈل شاور میں یہ مزید اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔

آپ کے پاس مینیو منتخب کرنے کے لیے بہت سارے ہلکے پھلکے اور بجٹ فرینڈ لی آپشنز موجود ہیں ،جن میں سے کوئی ایک آپشن بجٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام دوستیں مل کر منتخب کر سکتی ہیں۔مینیو کے انتخاب میں مندرجہ ذیل آئٹم آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔
کیک بسکٹ، کولڈ کافی، ملک شیک، منی برگر یا منی سینڈ وچ، شوارما، چکن بریڈ کیکبرائیڈل شاور میں دلہن کے ہاتھ سے کیک کٹوایا جاتا ہے اور کیک کاٹنے کی یہ تقریب کافی دلچسپ ہوتی ہے ۔

دلہن کا پسندیدہ کیک،تھیم کی مناسبت سے تیار کروایا جاتا ہے ،جسے بنوانے کا فریضہ بھی دلہن کی دوستیں سرانجام دیتی ہیں۔
گیمز اینڈایکٹویٹیز
بلا گلا ،رقص اور گیمز کے بناء برائیڈل شاور کی تقریب مکمل نہیں ہوتی۔اچھے اچھے گیمز،ڈانس یا پھر ڈانڈیا برائیڈل شاور کی تقریب کومزید خوبصورت بنادیتے ہیں۔
انڈیا کے فلمی اداکاروں کی شادیوں میں ہو نے والے شاور برائیڈل کا پچھلے دنوں خوب چرچا رہا دیپکا پاڈو کون،پرینکا چوپڑہ کی سہیلیوں اور دوستوں نے ان کے لیے’برائیڈل شاور‘کی تقریب منعقد کی ہمارے ملک میں ہونے والی ایمن کی شادی کا برائیڈل شاور بھی بہت اچھا رہا جسکی تصویروں کو بہت پذیرائی ملی۔


برائیڈل شاورامریکہ اور کینیڈا میں شادی سے قبل دلہن کے لیے منعقد کی جانے والی ایک تقریب ہے جو عام طور پر ان کی قریبی سہیلیاں منعقد کرتی ہیں۔
اس میں سہیلیاں اپنی دوست کے لیے تحائف کا انتظام کرتی ہیں جو ان کی آنے والی زندگی میں روز مرہ کی ضروریات کو پوری کرنے کے کام آئیں،جبکہ انڈیا اور پاکستان میں یہ جہیز کا حصہ ہوتی ہیں۔
اس کے لیے عام طور پر کسی شاپنگ مال میں دلہن کا نام رجسٹر کروایا جاتا ہے اور دلہن اپنی ضروریات کی چیزیں وہاں درج کر دیتی ہے جسے ان کے دوست اپنی اپنی حیثیت کے حساب سے تحفے کے طور پر خرید کر پیش کر دیتے ہیں ۔

اس کی ایک اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ تحائف ریپیٹ نہیں ہوتے۔
یہ بات یاد رہے کہ برائیڈل شاور میں عام طور پر خواتین کا ہی عمل دخل ہوتا ہے اور وہی اس میں شرکت کرتی ہیں ۔مغربی ممالک میں دلہا کے لیے اسی طرح کی ایک تقریب ”بچلرزٹائٹ“ہوتی ہے جس میں دلہا کے علاوہ ان کے قریبی دوست رات بھر جشن مناتے ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے ملک میں برائیڈل شاور سے ملتی جلتی رسمیں شادی کے فنکشن کا حصہ ہوتی ہیں جن کا ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔


ہلدی کی رسم
سب سے قریب ہلدی کی رسم ہے جسے عرف عام میں مایوں بیٹھنا بھی کہتے ہیں ۔اس موقعے پر دلہا کے یہاں سے ہلدی آتی ہے جو دلہن کو لگائی جاتی ہے ۔وقت اور حالات کے ساتھ ان تقاریب میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔پہلے ہلدی کی رسم شادی سے کم ازکم ایک ہفتے پہلے منعقد کی جاتی تھی اور اس دن دلہن کو پیلے لباس میں ہلدی لگائی جاتی تھی۔

اس موقعے پر تحفے تحائف کا بھی رواج عام رہا ہے اور وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہی نظر آیا ہے۔سہیلیاں یا پھر پیشہ ورگانے والیاں گیت گاتی ہیں اور ڈھول کی تھاپ پر رقص ہوتے ہیں ۔اس دن کے بعد سے دلہن گھر سے باہر نہیں نکلتی بلکہ اسے مخصوص لوگ ہی دیکھ سکتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل ہمارے ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں شادی طے ہونے کے بعد شادی والا گھر رسم ورواج کا مرکز ہوا کرتا تھا۔

مہینوں اس کی تیاریاں ہوتی تھیں۔ابٹن پینے کی رسم سے لے کر چاول چننے ،گیہوں تیار کرنے،گوٹے لگانے کی تقریب منعقد ہوا کرتی جس میں گاؤں کی خواتین چاول چننے کے ساتھ گیت بھی گا یا کرتیں ۔کئی جگہ چاول مختلف رشتہ داروں کی جانب سے آتے تھے اور یہ سب انتظامات برات اور گھر آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارات کے لیے ہوا کرتے تھے۔
پنجاب میں وٹنا کی رسم
پنجاب میں”وٹنا“کی رسم بہت مقبول ہے جو بہت حد تک ہلدی اور ابٹن کی رسم سے مشابہ ہے ۔

اس کے تحت دلہن کی شادی سے قبل ہی سجانے سنوارنے کا کام شروع ہوجاتاہے۔
چوڑواں کی رسم
چوڑی کی تقریب برائیڈل شاور کی طرح کی ہی رسم ہے جس میں سہیلیاں دلہن کے لیے سرخ اور سبز چوڑیاں لاتی ہیں ۔یہ تقریب شادی سے تقریباً ایک ماہ قبل منعقد کی جاتی ہے ۔دلہن ان چوڑیوں کو اس وقت تک پہنتی ہے جب تک کہ”چوڑواں“کی رسم نہیں ہوتی ۔

یعنی یہ بڑی تقریب ہوتی ہے جس میں ننہال یا ماموں کے یہاں سے سرخ چوڑیاں بہت سے دوسرے تحائف کے ساتھ آتی ہیں اور ایک تقریب میں دلہن کے ہاتھوں میں ڈالی جاتی ہے۔
مہندی کی رسم
مہندی کی رسم عام طور پر شادی سے ایک دن قبل منعقد کی جاتی ہے تاکہ رنگ کھل کر سامنے آئے۔مہندی کی رسم میں جہاں دلہن کے ہاتھوں پر دلھے کے گھر سے آنے والی مہندی لگائی جاتی ہے وہیں دلہن کی سہیلیاں بھی اپنے اپنے ہاتھوں میں مہندی رچاتی ہیں ۔

مہندی کے رنگ لانے کو اچھا شگون مانا جاتا ہے اور مہندی کی رات دلہن کے گھر بہت دھوم دھام رہتی ہے۔
فی الحال یہ برائیڈل شاور امیر طبقے تک محدود ہے کیونکہ ایک طرح سے یہ فنکشن دیگر تقریبات کے ساتھ اضافی خرچ ہی ہوتا ہے ۔ہمارے یہاں کی شادیوں میں پہلے کیا کم خرچہ آتا ہے جو مڈل کلاس طبقہ اب اس اضافی خرچ کا بوجھ برداشت کرتا پھرے۔مگر اشرافیہ کے یہ چونچلے کہیں نہ کہیں غریب طبقے کو بھی متاثر ضرور کررہے ہیں ۔لڑکی چاہے غریب کی ہو یا کسی امیر کی ،شادی سے متعلق ہر لڑکی کے خواب تقریباً ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے خدارا ایسی روایت کو اپنے معاشرے میں نہ پنپنے دیا جائے کہ جس سے کوئی لڑکی کسی بھی طرح سے احساس کمتری کا شکار ہو ۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-08

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Bridal Shower" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.