بند کریں
خواتین مضامینمضامینگردن توڑ بخار یا سرسام

مزید مضامین

- مزید مضامین
گردن توڑ بخار یا سرسام
ماؤں کے لئے بطور خاص
یہ بیکٹیریا خون کے بہاؤ میں شامل ہوکر دماغ کی سوزش کا سبب بن جاتا ہے،ایسے مریض کو فوری طور پر قریب ترین اسپتال لے جائیں تاکہ ہنگامی علاج شروع کیا جاسکے
گردن توڑ بخار،بیکٹیریا کے باعث خون کو زہر آلود کرنے والی وہ سنگین صورتحال ہے جو بہت تیز رفتاری سے بڑھتی چلی جاتی ہے اور انتہائی مہلک ثابت ہوتی ہے۔

نوعیت:
دماغ کے اردگرد تین عدد باریک جھلیاں ہوا کرتی ہیں اور گردن توڑ بخار ان میں سے کسی ایک یا تینوں جھلیوں کی سوزش کا نام ہے۔اس کی وجہ سے بے شمار اقسام کے یک خلوی عناصر بشمول وائرسس اور بیکٹیریا وغیرہ ہوسکتے ہیں‘جن کی وجہ سے پچیدگیاں اور خرابیاں بڑھ جاتی ہیں۔وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والا گردن توڑ بخار بیکٹیریا کی خرابیوں سم کم خطرناک ہوا کرتا ہے۔حالانکہ بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی خرابیاں مرض کی شروعات میں عموماََ بے ضرر محسوس ہوتی ہیں‘لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔اس لئے ان پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ صورتحال فوری علاج کا تقاضا کرتی ہیں۔
گردن توڑ بخار کی اقسام:
بیکٹیریا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس بیماری کی بے شمار اقسام ہیں۔بشمول نمونیہ‘ٹی بی کے۔ انفلوئنز کی ایک شدید قسم
( Haemophilus Influenza) اس انفیکشن کے ذریعے بچوں میں 1992ء تک عام ہوا کرتی تھی‘لیکن 1992ء میں Hib کے ٹیکے کی ایجاد کے بعد یہ خطرہ ختم ہوگیا۔
گردن توڑ بخار ک سبب ایک بیکٹیریا ہوا کرتا ہے۔اس مرض کی دو بڑی اقسام ہیں‘جنہیں گروپ B اور گروپ Cکہا جاتا ہے۔یہ عام طور پر بہت کم ہوا کرتا ہے۔(کبھی کبھی کچھ زیادہ بھی ہو جاتا ہے)یہ مرض خاص طور پر ایک برس سے کم عمر کے اور نوجوان بچوں میں عام ہے۔بہر حال اب حالیہ دنوں میں گروپ C کی دریافت سے پتہ چلا ہے کہ گروپ C کا اثر نوجوانوں پر زیادہ ہوا کرتا ہے۔
اس انفیکشن کا پھیلاؤ:
اس مرض کو پھیلانے والے بیکٹیریا کھلی فضا میں زندہ نہیں رہ پاتے یعنی اگر وہ انسانی جسم کے باہر ہوں تو پھر وہ خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔اسی لئے ہجوم کی جگہ کسی اور انسان سے ملنے جلنے کی صورت میں بھی یہ بیکٹیریا بے ضرر رہتے ہیں۔کیونکہ دوسرے جراثیم کی طرح یہ انسانی جسم سے باہر نکل کر کسی اور پر حملہ آور نہیں ہو سکتے۔
بہت لوگوں کے جسم میں اس بیکٹیریا کا سراغ لگایا گیا ہے‘لیکن یہ مرض ان کی وجہ سے کسی اور کو نہیں لگ پاتا۔کسی انسان کی اپنی مدافعتی صلاحیت اس بیکٹیریا کے دخول کو روک سکتی ہے۔
یہ بیکٹیریا چھینکنے اور کھانسی کے دوران سفر کرتا ہے۔جب یہ بیکٹیریا ایک انسانی جسم میں داخل ہو جائے تو پھر یہ ہوا کے ذریعے بالائی نظام تنفس متاثر کرتا ہوا خون کے بہاؤ میں شامل ہوجاتا ہے‘پھر خون میں یہ مرض پیدا کرتا ہوا دماغ کے گرد موجود حفاظتی جھلیوں تک پہنچ کر ان میں گردن توڑ بخار کی علامت پیدا کرکے دماغ کی سوزش کا سبب بن جاتا ہے۔
بہت سے بچوں کے خون میں شامل ہوکر یہ بیکٹیریا دگنی تگنی رفتار سے بڑھتا ہوا خون میں زہر گھول دیتا ہے ۔اس صورت حال کو
(Meningococcal septicoemia ) کہتے ہیں۔یہ ایک انتہائی مہلک صورت حال ہے‘جو بہت تیز رفتاری سے بڑھتی چلی جاتی ہے۔یعنی گھنٹوں میں یہ جراثیم پورے خون کو آلودہ کردیتا ہے اور
Meningococcal septicoemia) بیکٹیریا خون کی اس زہر آلودگی کے سبب پیدا ہوا کرتا ہے۔
علامات:
بچے اس مرض میں مبتلا ہونے کے بعد ان علامات کا اظہار کرتے ہیں۔
غنودگی اور چلنے پھرنے میں دشواری۔
غصہ اور تنک مزاجی یا چڑچڑاپن۔
کھانے سے بے رغبتی یا کھا کر اُلٹیاں کردینا۔
بچے کو سنبھالنا بہت دشوار ہو جائے۔
بخار۔
ناقابل فہم رویہ اور مزاج۔
گردن میں سختی یا اکڑن پیدا ہوجاتی ہے۔
تالو کا اچانک سخت ہوجانا یا بہت زیادہ اُبھر جانا۔
جلد کے کسی بھی مقام پر سرخ یا جامنی دھبے کا نمودار ہونا،جو بہت تیزی سے پھیلے اور بہت بڑادکھائی دینے لگے۔اس کو چیک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک خالی گلاس لے کر اس دھبے کے اوپر رکھ کر دبائیں۔اس طرح دباؤ پڑنے کے بعد بھی دھبہ سرخ رنگ کا رہے گا‘ جبکہ دوسرے دانے یا دھبے عام طور پر سفید ہوجاتے ہیں۔چند لمحوں کے لئے سہی لیکن ان کی رنگت ضرور بدل جاتی ہے۔
کانپتی ہوئی‘عجب انداز سے رونے کی آواز۔
جلد کی زردی‘پیلاپن۔
چند بچوں میں یہ علامات بھی پائی جاتی ہیں۔
الٹیاں۔
بخار۔
پشت میں جوڑوں میں درد‘سرکا درد۔
رنگت کا سفید ہو جانا اور بدن میں تناؤ کی کیفیت طاری ہونا۔
گردن کا اکڑنا۔
روشنی سے نفرت‘ اندھیرے کی خواہش۔
غنودگی طاری ہونا اور طبیعت پریشان ہونا یا مزاج کا الجھنا۔
سرخ دھبےَ
کیا کرنا چاہیے:
فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اُسے بچے ساری کیفیت سے آگاہ کردیں۔اگر گھر کے قریب ہسپتال ہے تو بجائے کسی ڈاکٹر کے کلینک لے جانے کے مریض کو سیدھے ہسپتال پہنچا دیں۔اگر ڈاکٹر نے اس مرض کی تشخیص کرلی تو مریض کو ہسپتال لے جانے سے پہلے اس کی رگوں میں پنسلین کا انجکشن لگایا جائیگا۔اس کے علاوہ وہ بچے کی ناک اور گلے کی رطوبت کا نمونہ فوری طور پر ٹیسٹ کرنے کیلئے لیبارٹری روانہ کردے گا۔ڈاکٹر نے اگر آپ کے بچے میں
(Meningococcal Meningitis ) کے بیکٹیریا دریافت کر لئے‘ تو اس کے بعد ہنگامی طور پر آپ کی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے۔آپ فوری طور پر اس کے اسکول‘دوستوں‘عزیزوں اور رشتہ داروں کو اس مرض کی خبر کردیں‘یعنی ان لوگوں کو جو پچھلے دنوں اس بچے کے قریب رہے ہوں۔صحت کا محکمہ اگر اس کیس میں دلچسپی لے رہا ہے تو وہ فوری طور پر ان حفاظتی اینٹی بایوٹک کا استعمال کرائے گا جسے ری فام پائی سن کہا جاتا ہے۔اس مرض کی جسم میں پرورش کی مدت دو سے دس دنوں تک ہوا کرتی ہے۔
علاج:
اب یہ ہسپتال کے اسٹاف کی ذمہ داری ہے کہ وہ کتنی تیزی ا ور فرض شناسی کے ساتھ بچے کا علاج شروع کرتے ہیں۔ویسے اس مرض میں مبتلا بچے ہسپتال پہنچتے ہی ہنگامی طور پر اس کا علاج شروع کردیا جاتا ہے۔فوری طور پر بچے کی رگوں میں بیکٹیریا کو ہلاک کرنے کے لئے انجکشن لگایا جاتا ہے‘اسے ڈرپ دی جاتی ہے اور سوزش اور کھوپڑی کے گرد دباؤ کم کرنے کے لئے اسٹیرائڈ دی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی حرام مغز یعنی اسپائنل کارڈ سے سوئی کے ذریعے مواد لے کراس مرض کی مکمل اور صحیح تشخیص کی جاتی ہے۔بچے کو تندرست ہونے میں کچھ دن لگ سکتے ہیں‘لیکن اس دوران اسے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا جاتا ہے‘کہ ہر وقت اس کی دیکھ بھال ہوتی رہے۔
احتیاط:
اگرچہ اس مرض میں مبتلا بچوں میں سے تین چوتھائی مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں‘لیکن کچھ ہمیشہ کے لئے معذور بی ہو جاتے ہیں‘جیسے گونگا پن یا دماغ کی خرا بی اور دس میں سے ایک کے لئے یہ مرض انتہائی مہلک ہوا کرتا ہے۔ہوسکتا ہے عارضی طورپر بچے کا اعصابی نظام بھی درہم برہم ہوجائے‘لیکن مسلسل علاج سے ٹھیک ہونے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔تندرست ہو جانے کے بعد یہ ضروری ہے کہ بچے کا کان چیک کرالئے جائیں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ عرصے کے لئے بچے کی یاداشت غائب ہو جائے۔ایسی صورت میں نفسیاتی علاج بھی کرانا پرتا ہے‘تاکہ بچہ پھر سے مکمل طور پر صحت یاب ہوجائے۔
وائرل انفیکشن کی صورت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ تقریباََ سارے ہی بچے تنددرست ہوجاتے ہیں اور ان میں کسی قسم کا ضمنی اثر بھی نہیں ہوتا۔
ٹیکے:
بچوں کو عام طور پر باقاعدہ ٹیکوں کے کورس کے ساتھ بیکٹریمHIB ‘
(Haemophilus Influenza B ) کے ٹیکے بھی لگا دئیے جاتے ہیں‘لیکن یہ ٹیکے اس بیماری کی دوسری اقسام کے خلاف مئوثر ثابت نہیں ہوتے۔Meningits B کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے‘ویسے کوششیں جاری ہیں گروپC کے لئے جو ٹیکے لگائے جاتے ہیں وہ اٹھارہ ماہ سے کم عمر کے بچوں کے لئے مئوثر ثابت نہیں ہوتے‘جبکہ بڑے بچوں میں اس ٹیکے کے اثرات دیر پا نہیں ہوتے۔بہت کم وقفہ کے لئے اثر ہوتا ہے۔بہر حال ٹیکے ضرور لگوالینے چاہئیں۔
ضمنی علاج:
اس مرض کے لئے بنیادی علاج کے ساتھ دوسرے علاج کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔یہ دوسری قسم کے علاج مریض کی مدافعتی قوت میں اضافے میں معاونت کرسکتے ہیں۔
ہمارے یہاں عام طور پر ہومیو پیتھی کے ڈاکٹر موجود ہیں۔جب تک بچے کو مکمل طبی امداد ہسپتال میں نہیں مل پاتی‘اس وقت تک سہارے کے لئے اسے
Bryonia 30c (Bryonia alba,white brony) ہر پانچ منٹ کے وقفے سے دیا جاسکتا ہے۔
اور جب شیر خوار یا نو عمر بچہ سخت تکلیف محسوس کررہا ہو اور روشنی کی طرف نہیں دیکھ پا رہا ہو‘اس وقت اسے Aconnite 30c
(Aconitum napellus, )دیا جاتا ہے اور جب بچہ بہت بے چین ہوا‘ اسے بار بار پیاس لگ رہی ہو اور چھونے سے اس کا بدن گرم محسوس ہو‘اس وقت اسے Arnica 30c
(Arnica montana , Leopard's bone ) کی خوراک دی جاتی ہے۔بہر حال یہ ضمنی دوائیں بھی کسی ماہر ڈاکٹر کے مشورے سے دی جاتی ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے