Haqooq Naswan Aur Muashra

حقوق نسواں اور معاشرہ

Haqooq Naswan Aur Muashra

قرة العین خالد
عورت پیدا ہوتی ہے تو بیٹی ہوتی ہے،عورت جوان ہوتی ہے تو کسی مرد کی بیوی بن جاتی ہے ،عورت بچے پیدا کرتی ہے تو ماں بن جاتی ہے ۔عورت کی عمر جب ڈھل جاتی ہے تو دادی اور نانی جیسے کردار ادا کرکے چار دیواری کے اندر ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیتی ہے کیا عورت کا کردار صرف چولہا سے دولہا تک ہی ہوتاہے؟یا عورت کے اور بھی معاشرتی کردار ہیں خیر بات نکلے گی تو دور تک جائے گی۔


افسوس صدافسوس یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ صنف نازک کے ساتھ روزاول سے ہی ہمارے معاشرے میں ایک المیہ رہاہے جو ہر طبقہ سے جڑا ہوا ہے کہ وہ لڑکی کی پیدائش کو کس طرح قبول کرتا ہے ۔
اگر ایک عورت حاملہ ہوتو سب یہ دعا کرتے ہیں کہ خدا کرے بیٹا ہو،اگر بیٹی پیدا ہوتو عورت بد نصیب تصور کی جاتی ہے ۔

(جاری ہے)

ہمارے معاشرے میں پیدائش ہی سے عورت کو مرد سے کمتر سمجھاجاتا ہے ۔

اگر عورت کے حقوق کے حوالے سے بات کی جائے تو ان کا سب سے پہلا اور بنیادی حق تعلیم ہے لیکن ہمارے معاشرے میں خصوصاً دیہاتی علاقہ جات میں یہ حق معیوب سمجھاجاتا ہے۔ہمارے خطے کے مذہب فروش لوگوں نے ہمیشہ عورت کی تعلیم کو شک وشبے کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
عورت کیونکہ ہمیشہ سے ہی مرد کے زیرسایہ ہی رہی ہے اس لئے اس کی ساری نشوونما ایک ایسے ماحول کے تحت ہوئی ہے جس نے اس کی اپنی شخصیت کے ارتقاء کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی اس لئے کہ جب وہ بچی ہوتی ہے تو اس کا وارث کوئی ہوتا ہے اور جب جو ان ہوتی ہے تو کسی دوسرے آقا کی ملکیت بن جاتی ہے ۔

ان مالکوں کے حکم کے تحت اس کی ذات ،اس کی خواہشات اور ارمان اس طرح کچلے گئے کہ عورت کی حیثیت سے اس نے اپنا اصل وجود اپنی شناخت کھوڈالی ہے ۔
ہماری غیرت ،رسم ورواج اور ہمارے ان پڑھ ملاؤں نے مل کر عورت کی تعلیم کے سارے راستے تمام دروازے اور کھڑکیاں تک بند کردیں ،پھر بھی تعلیم کا سلسلہ کہیں چل رہا ہے تو بہت ہی پسماندہ ہے ۔لڑکی کی پانچ جماعتیں تو سمجھیں پی ایچ ڈی کے برابر ہیں ،اس کے بعد تو گویا ماں باپ نے اپنا تمام فرض پورا کردیا۔


لڑکیوں کو تعلیم سے دور رکھنے کے لئے کچھ لوگوں نے مذہب کا سہارا لیا اور صرف وہ آیتیں اور احادیث بیان کی گئیں جن میں عورت کو باپردہ گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے ۔مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی فرمان ہے کہ ”لہد سے مہد تک علم حاصل کرو“،علم طلب کر وچاہے تمہیں چین ہی جانا پڑے ،اور تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے ۔

چرچل نے کہا تھا”تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں ایک پڑھی لکھی قوم دوں گا“عورت نرم خو اور سب سے زیادہ برداشت کا مادہ رکھتی ہے ۔لیکن ہمارے معاشرے میں ہمیشہ مرد کو عورت سے بالاتر سمجھاجاتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک مرتبہ ایک خاتون نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خدا نے مرد کو اتنا بڑا مرتبہ دیا۔

عورت اتنا کم درجہ کہ آج تک دنیا میں جتنے بھی پیغمبر اور رسول آئے وہ سب مرد ہیں ان میں سے ایک بھی عورت نہیں یہ سن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔یہ غلط تصور ہے کہ خدا نے مرد کو بلند درجہ عطا فرمایا دنیا میں پیغمبروں کا بھی اگر کسی کے سامنے سر جھکا ہے تو وہ ہے ’ماں‘اور ماں ’عورت ‘ہی ہے ۔اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا۔


حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات سے بالکل واضح ہوجاتا ہے اور ویسے بھی عورت کو مرد پر ایک ہی برتری حاصل ہے کہ مرد کبھی’ماں ‘نہیں بن سکتا ،اور نہ کبھی ماں کے پاک جذبات سے واقف ہو سکتا ہے جو قربانی،ہمدردی ،محبت اور انسانیت کی بنیاد ہے۔
ہمارے ہاں عورتوں کو تشدد جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ تشدد جسمانی ہویا جنسی۔

ہمارے ہاں لوگ تشدد کو مذہب ،قانون اور رواجوں کے تقدس کا لباس پہنا دیتے ہیں ۔ہمارے سماج میں آج تک کسی نے یہ نہیں سوچا کہ عورت بھی مرد کی طرح انسان ہے اور اس کے بھی حقوق مرد کے مساوی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں عورت کو فروسودہ رسموں کا بھی شکار ہو جاتی ہیں ۔ہمارے سماج میں دوسرے کی عزت کو گندا کرنے کا الزام لگے ہوئے مرد کو ،یا اپنے نکاح والے شوہر کے علاوہ کسی اور سے جنسی تعلق رکھنے یا’مالک‘کو اس طرح کے تعلق کا شک پڑنے والی عورت کو سیاہ یا سیاہ کا ر کہتے ہیں ۔

سیاہ کاری یا غیرت کے نام پر قتل کی اس فرسودہ رسم نے جس طرح انسانیت اور انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری ہیں اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔
اس ناپاک رسم کے تحت جس طرح ملکیت ہتھیائی جارہی ہے ،پرانی دشمنیاں نبھائی جارہی ہیں ،اور ماضی قریب میں اس گندی رسم نے جس طرح عورت کی بے بسی کو کچلا ہے ۔اس کے بعد آج کے ’مہذب
انسان ‘کا حقیقی وحشیانہ روپ کچھ اور نکھرکر سامنے آیا ہے یہ’مہذب انسان‘جو معاشرے میں طاقتور مردکی شناخت رکھتا ہے جب چاہے عزت اور غیرت کے نام پر عورت کی زندگی چھین سکتا ہے ،کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔

ہمارے ہاں جو شخص سیاہ کاری کے نام پر جتنے زیادہ قتل کرے گا اسی مناسبت سے زیادہ بہادر اور غیرت مند تصور ہو گا۔
21صدی میں بھی’سیاہ کاری ،کاروباری اور غیرت کے نام پر قتل‘جیسی فرسودہ رسم ورواج پر عمل کرنا واقعی میں انسانیت کی توہین اور عورت پر ظلم وستم کی انتہا ہے ہم مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انفرادی اور اجتماعی طور پر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو مردوں کو چاہیے کہ عورتوں کے حقیقی وجود،انسانیت ،آزادی ،برابری اور دیگر حقوق کو تسلیم کریں اور یہ بات اپنے عمل سے ثابت کریں ،اور حکومت کو چاہیے کہ شادی ،آزادی ،
ازدواجی زندگی ،طلاق۔

گواہی اور دیگر معاملات میں قانونی طور پر عورتوں کو مساوی درجہ دیا جائے اور انہیں تعلیم و روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرکے مردوں کے برابر لانے کی کوشش کرے ،اور خود عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے شعور کی سطح بڑھاکر اپنے جائز بنیادی انسانی حقوق کے متعلق آگہی حاصل کریں ۔
جرات سے کام لے کر حکومت اور مردوں سے اپنے حقوق عملی طور پر منوانے کی بھر پور کوشش کریں اور اس مقصد کے لیے خواتین متحد اور منظم ہو کر باقاعدہ تحریک چلائیں ،کیونکہ ہمارے معاشرے کے ”روایتی مرد“یہ نہیں چاہتے کہ ایک عورت ان کے شانہ بشانہ کام کرے بلکہ ہمارے معاشرے میں عورت کو صرف لذت حاصل کرنے اور جنسی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھاجاتاہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-04-13

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Haqooq Naswan Aur Muashra" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.