Haya Or Hijab

حیا اور حجاب

پیر اگست

Haya Or Hijab
زینب ارسلان
حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کے الفاظ ہیں جن کے تقریباً ایک ہی معنی ہیں۔ایک عورت کا کسی غیر مرد سے اپنے آپ کو چھپانا حجاب کہلاتا ہے ۔پردہ یا حجاب ہی ایک مسلمان عورت کا اصل زیور ہے جس کے لئے گھونگٹ ،نقاب اور برقع بھی استعمال کیا جاتا ہے۔زمانہ جاہلیت میں پردہ یا حجاب نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔

یونانی ایرانی معاشرے کے افراد اپنی اپنی تہذیبوں اور تقاضوں کے علم بردار تھے جن کے ہاں پردے یا حجاب کو کوئی تصور یا قانون نہیں تھا لیکن بعد از اسلام جوں جوں مسلمانوں کے تمدن اور معاشرے کی بنیاد پڑتی گئی اس کے متعلق مناسب احکامات نازل ہوتے گئے ۔حجاب کا لفظ قرآن کریم میں سات مرتبہ استعمال ہوا ہے جبکہ ایک حدیث کریمہ میں موت کو بھی حجاب قرار دیاگیا ہے۔

(جاری ہے)


مغربی ممالک میں عورت کے حقوق کی بڑی حمایت کی جاتی ہے ۔عورت کے حقوق کے ساتھ ساتھ عورت کی آزادی کی بات بھی کی جاتی ہے ٹھیک ہے عورت کی آزادی اس کا حق ہے جو اسے ملنا چاہئے تاکہ بغیر کسی پابندی کے وہ ہر کام اپنی مرضی سے کر سکے ہمارے مذہب میں اس کو آزادی سے جینے کا حق دیا گیا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مغرب کے مادر پدر آزاد معاشرہ کی طرح اس آزادی کہ آڑ میں اسے عریانی اور فحاشی پھیلانے کا لائسنس دے دیا جائے۔


اسلام سے پہلے کون جا نتا تھا کہ ایک عورت کا کیا مقام ہے؟یاد رہے کہ عورت کو عزت ‘احترام اور مقام دینے والا مذہب اسلام اور صرف اسلام ہی ہے۔عورت کے چار روپ ہیں جب کسی گھر میں بیٹی کے روپ میں اس کی پیدائش ہوتی ہے تو یہ اپنے ساتھ اللہ کی خاص رحمت لے کر آتی ہے بیٹی کو احسن طریقے سے پال کر جوان کرنے والے پر اللہ بڑا خوش ہوتا ہے۔قدرت نے عورت میں حیاکامادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔

شرم وحیا جیسی اس انمول دولت سے مالا مال اس پیکر کے لئے لازم ہے کہ اپنی اس دولت کی حفاظت کرے اور اپنی اس قیمتی متاع کو چھاپ کر رکھے اور پردہ ہی ایسی چیز ہے جو اس کو نگاہ بد سے بچانے کا نا صرف سب سے بڑا ذریعہ ہے بلکہ اسے شیطان کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔دیکھا جائے تو بے پردگی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔انہیں بالکل زیب نہیں دیتا کہ وہ بغیر پردہ کئے بازاروں میں نکلیں اپنی نسوانیت کی نمائش کرتی پھر اس طرح بن ٹھن کر گھروں سے باہر نکلنا کوئی فخر کی بات نہیں سراسر بیہودگی اور بے راہروی ہے جو طرح طرح کے فساد پھیلانے کا سبب بن رہی ہے ۔

موجودہ زمانہ میں ہمارے ہاں کی مغرب زدہ عورتوں نے پردے کو خیر آباد کہنا شروع کر دیاہے۔برقع اوڑھنا تو کب سے ختم ہو چکا آہستہ آہستہ ڈوپٹہ لینے کا رواج بھی ختم ہوتا جا رہا ہے جو ایک عورت کے سر اور گریبان کو چھپائے رکھتا تھا۔جبکہ مسلمان عورت کے لئے لازم ہے کہ اس کے سر کا ایک بال بھی نظر نہ آئے۔ ایک ڈوپٹہ ہی تھا جو عورت کے سرکے بالوں کے ساتھ گریبان بھی چھپائے رکھتا تھا۔


یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے الیکٹرک میڈیا نے بھی عورتوں کے لئے پردے کا تصور ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے کوئی چینل دیکھ لیں جن کے پروگراموں کسی ہوسٹ اور ڈرامے کی فی میل اداکارہ کے سر پر دوپٹی کم کم نظر آئے گا۔ضیا ء الحق کے دور حکومت میں اس کی سختی سے پابندی عائد کی گئی تھی کہ کوئی عورت ٹی وی پر ننگے سر نظر نہ آئے۔دوسری طر ف مغربی ممالک میں حجاب کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا اور حجاب کرنے والی عورتوں کو نفرت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔

اُن کے خیال میں حجاب ایک عورت کی آزادی کو سلب کر رکھا ہے عجیب عجیب دلیلیں پیش کی جاتی ہیں۔مسلم دنیا کو پاکیزگی سے ہٹا کر بے حیائی کی دلدل میں دھکیلنا اور عورت کو ترقی کے نام پر بے حجاب کرنا شیطانی قوتوں کا ہمیشہ سے ہدف رہا ہے یہ شیطان کی سب سے پہلی چال تھی جو اس نے انسان کو فطرت کی سیدھی راہ سے ہٹانے کے لئے چلی تھی اور آج اس کے چیلے چانٹے اسی شیطانیت کو فروغ دینے کے لئے دن رات ایک کررہے ہیں ۔

ایک طرف تو ان ممالک میں عورت کی مکمل آزادی کا ڈھنڈ ورہ پیٹا جاتا ہے ۔دوسری طرف عورت اپنی مرضی سے حجاب کرلے تو طرح طرح کی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔
کبھی انہیں تعلیمی اداروں میں داخلے سے روکا جاتا ہے کبھی انہیں کاروباری اداروں میں نوکریاں نہیں دی جاتیں۔کبھی انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔کیا یہی آزادی ہے کہ ایک عورت عریانی کو بُرا سمجھتی ہے اور اپنے جسم کو ڈھانپ کر رکھنا چاہتی ہے تو اس کی اس خواہش کو کچلنے میں کوئی آڑ محسوس نہیں کی جاتی۔

ناصرف حجاب کرنے والی عورتوں کی ہر طرح سے دل آزادی جاتی ہے اور قدم قدم پر ان کی راہوں میں رکاؤٹیں کھڑی کی جاتی ہیں بلکہ ان کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ان کے برعکس ایک عیسائی ”نن“اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے سکارف سر پر لینے پر آزاد ہے تو اسی طرح حجاب کرنے والی مسلم عورت کو یہ آزادی کیوں نہیں دی جاتی۔اگر عیسائی عورت کو سکارف پہننے پر کچھ نہیں کہا جاتا تو مسلمان عورت کو حجاب کرنے پر کیوں مطعون کیا جاتاہے؟۔


اسی طرح جرمنی اور سپین میں بھی جاری ہونے والے اعداد وشمار کے مطابق ان دونوں ممالک میں بھی باپردہ مسلم خواتین پر انتہا پسندوں کے حملے تیز ہو گے ہیں ایک چلتی ٹرین میں ایک باحجاب مسلم خاتون پر ایک گروپ نے شراب انڈیل دی جب خاتون نے احتجاج کیا تو اس پر ظلم کیا گیا ٹرین میں اتنے افراد موجود تھے لیکن کسی نے بھی اس خاتون کی مدد نہ کی باپر دہ اور حجاب والی مسلم خواتین کو مخص مذہب کی آڑ میں نشانہ بنایاجاتا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جہاں ان ممالک میں مسلم خواتین بستی ہیں وہی مرد بھی رہتے ہیں لیکن تشدد کا نشانہ خواتین کو ہی بنایا جاتا ہے۔مغربی ممالک میں یہ ظلم جس قدر تیزی سے پھیل رہا ہے اس سے کہیں گنا زیادہ تیزی سے اسلام پھیل رہا ہے اور مسلمان عورتوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم عورتوں میں حجاب تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔چاہے وہ اسے فیشن کے طور پر ہی استعمال کریں۔


مغربی ممالک میں حجاب کے خلاف بڑھتے ہوئے اس رجحان کو مد نظر رکھتے ہوئے برطانوی مسلمانوں کی تنظیم”ایسوسی ایشن آف برٹن“نے عالمی سطح پر لندن میں حجاب کا نفرنس کا اہتمام کیا تھا تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ مسلمان عورتیں حجاب کسی جبر یاد باؤ کی وجہ سے نہیں لیتیں بلکہ وہ اپنی مرضی سے مذہب اسلام کے احکام پر عمل پیرا ہونے میں آزاد ہیں 12جولائی کو ہونے والی اس کانفرنس میں دنیا کے 14ممالک کے مندوبین نے شرکت کی تھی۔

اسی کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہر سال 4ستمبر کو یوم حجاب کے طور پر منایا جائے گا۔ادھر ڈنمارک میں اسکارف سے نمٹنے کی یہ صورت نکالی گئی کہ مقابلہ حسن کی طرز پر مقابلہ اسکارف کروایا گیا یعنی ایک مذہبی علامت کوFashion Statementمیں تبدیل کرکے اسے اس کی تقدس سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی یہ صورت حال حیران کن ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ آخر اہل مغرب حجاب سے اتنے خوف زدہ کیوں ہیں۔


فرانس میں مسلمانوں کی تعداد یور پ میں مقیم مسلمانوں میں سب سے زیادہ ہے فرانسیسی مسلمانوں کی اکثریت وہاں پر صرف مہاجریت نہیں بلکہ قانونی حیثیت رکھتی ہے1982میں ایک قانون کے ذریعے مسلمانوں کو اپنی تنظیمیں اور ادارے رجسٹرڈ کروانے کی باقاعدہ اجازت دے دی گئی اب وہاں بڑی تعداد میں مسلم ادارے تعلیمی ‘ثقافتی ‘علمی اور تربیتی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں فرانسیسی مسلمانوں نے پورے اخلاص ومحنت کے ساتھ فرانس کی تعمیر میں حصہ لیا اور اس کے قوانین کا احترام کیا فرانس کے سیکولر قوانین نے ہر شہری کو دین واعتقادی آزادی کی ضمانت دی ۔

بعض اوقات ایسا ہوا کہ کسی فرد یا ادارے نے کسی مسلم فرانسیسی کی آزادی کو مقید کرنا چاہا تو خود اعلیٰ سطحی حکومتی ذمہ داروں نے مداخلت کرتے ہوئے اس رکاوٹوں کو دور کیا۔
1989ء اور پھر 1992میں جب بعض طالبا ت کو حجاب یعنی اسکارف سے منع کرنے کی کوشش کی گئی تو عدلیہ کے اعلیٰ ترین ادارے اسٹیٹ کونسل نے فیصلہ دی کہ”دینی شعائر کا التزام ریاست کے سیکولر نظام سے متصادم نہیں ہے“حال ہی میں سابق فرانسیسی وزیر برنرسٹازے کی زیر صدارت تشکیل پانے والی کمیٹی نے یہ کہتے ہوئے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگا دی ہے کہ ہم کوئی بھی دینی علامت لے مدارس میں آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

اس طرح مسلم طالبات کے حجاب‘عیسائیوں کے صلیب کی نشان اور یہودیوں کی مختصر ٹوپی تعلیمی اداروں میں ممنوع قرار دے دیئے گئے ہیں ۔اللہ نے جو عورت کو شرم وحیا کی دولت سے مالا مال کر رکھا ہے اس قیمتی متاع کی حفاظت انہوں نے خود کرنی ہے ۔آزادی نسواں کا یہ مقصد نہیں کہ بے پردگی کو فروغ دیا جائے۔یہ بہت ضروری ہے کہ مارڈرن ازم کے جال میں پھنس کر اپنی اسلامی اقدار کو پامال نہ ہونے دیں اسی میں ان کی عزت اسی میں ان کی عظمت اور اسی میں ان کی بقاء ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-19

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Haya Or Hijab" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.