بند کریں
خواتین مضامینمضامین اسقاط حمل ایک بھیا نک اور تکلیف دہ حقیقت

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسقاط حمل ایک بھیا نک اور تکلیف دہ حقیقت
جب کسی لڑکی کی شادی کا پیغام آتا ہے تو وہ پہلے ہی سے اپنی گود میں کسی خوبصورت سے بچے کے خواب دیکھنے لگتی ہے ۔لیکن جب حادثاتی طور پر یہ خواب بکھر جائے تو اس کرب کا اندازہ صرف وہ عورت ہی کر سکتی ہے جس کی گودخالی رہ گئی ہو ۔

اس سانحے کے بعد ماں اگر اپنی غذا وغیرہ کا خیال رکھے تو بہت جلد نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتی ہے
دنیا کی ہر عورت کے دل میں سب سے شدید خواہش ماں بننے کی ہوتی ہے ۔
جب کسی لڑکی کی شادی کا پیغام آتا ہے تو وہ پہلے ہی سے اپنی گود میں کسی خوبصورت سے بچے کے خواب دیکھنے لگتی ہے ۔لیکن جب حادثاتی طور پر یہ خواب بکھر جائے تو اس کرب کا اندازہ صرف وہ عورت ہی کر سکتی ہے جس کی گودخالی رہ گئی ہو ۔
اسقاط ایک بھیانک حقیقت بن کر ان کے سامنے آجاتا ہے ۔
ایک ایسی ہی عورت نے اپنے تاثرات بیان کئے۔”میں ہاسپٹل کے زچّہ وارڈ میں اپنے بستر پر خاموش لیٹی تھی ۔اس وارڈ میں وہ عورتیں تھیں جن کے پہلوؤں میں ننھے ننھے بچے کلبلا رہے تھے ۔
ڈلیوری کے مراحل سے میں اور وہ عورتیں ایک ہی انداز سے گزری تھیں لیکن فرق یہ تھا کہ ان کے پہلوؤں میں ان کے بچے تھے جبکہ میری گود خالی تھی ۔کیونکہ مجھے اسقاط ہو گیا تھا ۔
اسقاط پورے خاندان کے لئے ایک بھیانک تجربہ ہوا کرتا ہے ۔خاص طور پر اس عورت کے لئے جو ماں بننے کی لذت سے محروم رہ گئی ہو ۔
درد کی شدت ‘کرب‘حیرت اور بے یقینی کے علاوہ ایسی عورت ایک زبردست قسم کے ذہنی صدمے سے گزرتی ہے ۔جس کا اثر کئی برسوں تک رہتا ہے اور وہ نفسیاتی مریضہ بن کر رہ جاتی ہے ۔
ہمارے معاشرے کی یہ صورتِ حال ہے کہ جب کسی عورت کو اسقاط ہوجاتا ہے تو وہ بے چاری خواہ مخواہ خود کو مجرم تصور کرنے لگتی ہے جیسے یہ حادثہ اس کی اپنی غلطی یا اس کی قسمت کی خرابی سے ہوا ہو۔
بینک میں کام کرنے والی ایک عورت نے شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے آنسوؤں کے درمیان بتایا۔”میری عقل ماری گئی تھی ۔حالانکہ ڈاکٹروں نے سختی کے ساتھ مجھے آرام کرنے کی ہدایت کی تھی ۔میری عمر اس وقت اٹھائس برس ہے اور تین برس پہلے بہت ارمانوں کے ساتھ میری شادی ہوئی تھی ۔
پتہ چل گیا تھا کہ میرے یہاں پیدائش کب متوقع ہے اور میں نے یہ سوچ بھی لیا تھا کہ کچھ دنوں پہلے سے بینک سے چھٹیاں لے لوں گی ۔لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ چھٹیاں لینے کا خیال ہی نہیں رہا ۔بینک میں بہت زیادہ مصروفیات نکل آئیں۔اس کے علاوہ دوستوں کے یہاں آنا جانا ‘شاپنگ ‘سواریوں کی تلاش میں بھاگ دوڑ۔
بہر حال اس دن میں بینک میں کام کررہی تھی کہ اچانک شدید تکلیف سے اتنی بے حال ہوئی کہ باقاعدہ میری چیخیں نکلنے لگیں ۔میرے ساتھ کام کرنے ولی ساتھی لڑکیاں دوڑی ہوئی میرے پاس آئیں۔ انہوں نے مجھے سنبھالا اور فوری طورپر ہسپتال پہنچا دیا اور اس وقت مجھے لیبرروم میں بھیج دیا ۔
لیکن جب ہوش آیا تو سب کچھ ختم ہو چکا تھا ۔کچھ بھی نہیں رہا تھا ۔صرف ڈاکٹر کے مشورے تھے جو مجھے اس لئے دے رہا تھا کہ میں گھر جا کر اپنے آپ کو سنبھال لوں ۔
کا ش -میں شروع ہی سے ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرتی ۔کا ش میں آرام کر لیتی ۔کا ش اپنی غذا اور صحت کا دھیان رکھتی ۔
اور بھی اس قسم کے بے شمار خیالات ایسی نامکمل ماؤں کے ذہنوں میں آیا کرتے ہیں اور ڈپریشن کا سبب بن جاتے ہیں ۔
یہ کوئی نئی یا غیر معمولی بات نہیں ہے۔
اندازاہ لگا یا گیا ہے کہ حاملہ خواتین میں سے دس سے پندرہ فیصد اس سانحے سے گزراکرتی ہیں۔
Miss Carraigeیا اسقاط حمل اپنے عمل میں ویسا ہی ہے جیسے غیر فطری طور پر حمل ضائع کروانا- اس میں ہوتا یہ ہے کہ رحم میں پرورش پانے والا گوشت کا لوتھڑا ابتدائی مہینوں میں بجائے نشوونما پانے کے جسم کی طرف سے ریجیکٹ کردیا جاتا ہے ۔
یعنی عورت کا جسم اسے قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے ۔
یہ امکانات ابتدائی بیسویں مہینوں میں یا اس وقت ہوتے ہیں جب اس کا وزن پانچ سو گرام ہو ۔
یعنی دوسرے الفاظ میں اگر وہ لوتھڑا پانچ مہینوں سے زیادہ کا ہو جائے اور ا س کا وزن پانچ سو گرام کا زیادہ ہو جائے تو ایسی صورت میں بچے کے زندہ رہنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں اور ڈلیوری اپنے وقت پر ہوا کرتی ہے ‘ورنہ پھر اسقاط ہوجاتا ہے ۔
اسقاط کی علامات
اسقاط کی یہ علامات حمل کے پہلے سہ ماہی میں اگر رونما ہونے لگیں تو پھر یہ خطرے کی نشانی ہیں ۔
وجینیا سے خون کا رساؤ
پیٹ کا درد اور کمر کا شدید درد اسقاط کی واضح علامات ہیں ۔یعنی طبی اصطلاح میں یہ علامات ابارشن کی دھمکیاں ہیں ۔
یہ بہت ضروری ہے کہ خدانہ کرے اگر اس قسم کی صورت حال رونما ہوتو فوری طور پر گا ئنا کولوجسٹ سے رجوع کرلیا جائے ۔
خاص طور پر اس وقت یہ اور بھی زیادہ ضروری ہوجاتا ہے جب کوئی عورت پہلے بھی اس سانحے سے گزرچکی ہو۔
عام طور پر ڈاکٹر مکمل آرام اور دواؤں کا مشورہ دیا کرتے ہیں ۔
اسقاط کی بھی مختلف وجوہات ہوا کرتی ہیں ۔چند خواتین کو تسلسل کے ساتھ یہ ہوا کرتا ہے اور کچھ کو وقفے کے ساتھ -جیسا کہ اس کی علامات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ خون کا رساؤ کمر اور پیٹ کا درد وغیرہ ہیں ۔
اور جیسے ہی یہ علامات شروع ہوں یہ مس کیرج کا اشارہ ہوتی ہیں اور اس وقت حاملہ کو پوری طرح آرام کرنا چاہئے۔
اگر خون کا رساؤ بہت زیادہ ہو اور لوتھڑوں کی شکل میں بلیڈ نگ ہورہی ہوتو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ابارشن کا عمل شروع ہو چکا ہے اور رحم کی صفائی ہورہی ہے ۔اس عمل کو ڈی اینڈ سی کہا جاتا ہے ۔یعنی Dilateation and-Curottageاس کے برعکس ادھوار ابارشن ہوا کرتا ہے جس میں بچے کے جسم کے کچھ اعضاء بلیڈنگ کے ذریعے باہر آجاتے ہیں ۔
اگر ایسی صورت ہوتو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ لے کر مکمل ڈی اینڈ سی کروالینا چاہئے۔اگر بروقت ایسا نہیں ہوا تو رحم میں بچ جانے والے اعضاء بہت خرابیاں پیدا کر سکتے ہیں ۔
اسقاط کی وجوہات
خدا نے انسانی جسم کی مشین کو حیرت انگیز خوبیاں دی ہیں ۔اور یہ مشین جانتی ہے کہ اس کے وجود میں پرورش پانے والے ننھے وجود کی نشوونما کس رفتار اور انداز سے ہورہی ہے ۔اگر کوئی بھی خرابی ہوتو یہ جسم اشارے دینا شروع کر دیتا ہے ۔
اور ان اشاروں کے نتیجے میں اسقاط کی نوبت آتی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کا یہ منشا ہے کہ دنیا میں سانس لینے والا وجود جسمانی اور ذہنی طور پر بالکل تندرست ہو ۔
مس کیرج کے کیسز میں ساٹھ فیصد جینیٹک یا کروموسوم کی خرابیوں یا کمزوریوں کی وجہ سے ہوا کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ مرد کی یا عورت کے مادے کی کمزوری بھی اس کا سبب ہوا کرتی ہے ۔
چند کیسز میں اگر چہ (مرد اور عورت کے مادے)طاقت ور اور صحت مند ہو تے ہیں ۔لیکن بیضے کمزور یا خراب ہوتے ہیں ان کے علاوہ والدین کی چند بیماریاں بھی ایسے حادثوں کا سبب بن جاتی ہے ۔مثال کے طور پر شوگر ‘جرمن میزلز(روبیلا )مرگی یا شدید بخار وغیرہ ۔
ماں اور باپ کے آر ایچ میں اگر نا مکمل پن ہوتو یہ خامی ماں کے خون میں شامل ہو کر اسقاط کا سبب بن جاتی ہے ۔یعنی دو مختلف گروپس کی صورت میں بھی اس سانحے کا خدشہ رہتا ہے ۔مثال کے طور پر اگر ماں کا بلڈ گروپ آر ایچVe+ہے اور بات کا آر ایچ Ve -ہے تو ایسی صورت میں بچے کا بلد بھی آر ایچ مائنس -Veہی ہو گا ۔
اور ان دو گروپوں کا اختلاف بھی ابارشن کی طرف لے جاتا ہے ۔
جسمانی حقائق
کسی عورت کا رحم ہر وقت ایک جیسی کنڈ یشن میں نہیں ہوتا ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوتھڑا یا بننے والا بچہ پوری طرح حمل کے دوران اپنی نشوونما نہیں حاصل کر سکتا ۔
Celvicalادھورے پن کے نتیجے میں Gervixجو بچے کو ڈلیوری میں مدد گار ثابت ہو ا کرتا ہے ۔وہ وقت سے پہلے اس لوتھڑے کو باہر پھینک دیتا ہے ۔اس صورت میں بھی مکمل بیڈریسٹ کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔
ایسے ہی مرحلوں سے گزرتی ہوئی ایک عورت نے اپنے تاثرات بتائے۔”خدا کی پناہ ۔میں نہیں کہہ سکتی کہ میرا کیا حال ہو گیا تھا ۔مسلسل چھ ماہ تک بستر پر پڑے رہنا اور وہ بھی اس طرح کہ میرے ٹانگیں اوپر کی طرف ہوں اور ان پروزن ڈال دیا گیا ہو ۔
میں پوری دنیا سے کٹ کررہ گئی تھی ۔لیکن خدا کا شکر ہے کہ میرا بچہ محفوظ رہا ۔
ماں کے خون میں ہارمون کا غیر متوازن ہوجانا بھی اسقاط ِ حمل کی طرف لے جاتا ہے ۔ان کے علاوہ مختلف قسم کے انفیکشن اور ٹیومرز سے بھی یہ سانحہ ہوا کرتا ہے ۔
مس کیرج کا ایک سبب کوئی ذہنی یا جسمانی حادثہ بھی ہو سکتا ہے جیسے کسی ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں چوٹ لگ جانا یا کسی قریبی عزیز کی موت کا دکھ -یہ واقعات بھی مس کیرج کا سبب بنتے ہیں ۔
ان کے علاوہ ڈاکٹر ز کے مشورے کے بغیر الٹی سیدھی نقصان دہ دواؤں کے استعمال سے بھی حمل ساقط ہوجاتا ہے ۔
لہٰذا ایسی عورتوں کے لئے یہ مشورہ ہے کہ انہیں جیسے ہی اسقاط کی علامات کا علم ہو (جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے )تو دیر کئے بغیر کسی کا ماہر گائنا کولوجسٹ کے پاس چلی جائیں ۔خاص طور پر وہ خواتین جن کے ساتھ پہلے بھی ایسا واقعہ ہو چکا ہو ۔
ڈاکٹرز کو یہ کہنا ہے کہ ابتدائی علامات کے ظاہر ہوتے ہی اگر کوئی عورت ان کے پاس آجاتی ہے تو وہ اسے اور اس کے بچے کو بچانے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں ۔
اسقاط حمل کے بعد
یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ جب کوئی عورت اس عمل سے گزرتی ہے تو اس کا جسم اس کے ذہن سے بہت پہلے اور بہت تیزی کے ساتھ تندرست ہوجاتا ہے ۔
ڈاکٹرز خون کو معمول پر لانے کے لئے آئرن ‘کیلشیم اور فولک ایسڈ تجویز کیا کرتے ہیں ۔
ڈاکٹر کا یہ کہنا ہے کہ مس کیرج کے بعد بہت زیادہ پرہیز اور آرام وغیرہ کوئی ضروری نہیں ہے ۔اس سانحے کے بعد ماں اگر اپنی غذاوغیرہ کا خیال رکھے تو بہت جلد نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتی ہے ۔
ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سانحے کے بعد وہ جذباتی دھچکا پہنچتا ہے اور اس کے نتیجے میں جو آنسو نکلتے ہیں اور دکھ اور کرب کی کیفیت ہوتی ہے وہ بھی اس کی صحت یابی کا ایک عمل ہوتا ہے ۔
عورت اس دوران بس ذہنی کرب سے گزرتی ہے ۔اس کے لئے گھر کے تمام افراد کو اس کے بدلتے ہوئے موڈ کو دیکھ کر اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ اس کو تسلی دیتے رہنا چاہئے اور یہ احساس نہیں دلانا چاہئے کہ وہ کسی قسم کے برے تجربے سے گزر چکی ہے ۔اور اگرعورت بہت ہی زیادہ ڈپریشن کا شکار ہوتو ایسی صورت میں بہتر ہے کہ کسی ماہر سے مشورہ لے لیا جائے۔اور بھی کئی تراکیب ہو سکتی ہیں ۔
دعائیں ‘مراقبہ یا ماحول میں تبدیلی بھی اس کے ذہن پر خوشگوار اثرات مرتب کرتے ہیں ۔اپنے والدین کے گھر (میکے)جا کر ہفتہ دو ہفتہ گزارنا بھی اس کے لئے بہت بہتر ہوتا ہے اور اس کا خوشگوار اثر پڑتا ہے ۔
ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ایک مس کیرج کے بعد اس عورت میں نارمل ڈلیوری کے امکانات نوے فیصد تک ہوجاتے ہیں اور اگر اسقاط حمل کئی بار ہو چکا ہوتو ایسی صورت میں اس کے اسباب کی جڑ تک پہنچ کر اس کا سدباب کیا جا سکتا ہے ۔
ٓآج کی میڈیکل سائنس نے کل کی بہ نسبت نارمل ڈلیوری کے امکانات بہت روشن کر دےئے ہیں۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ دوسرے حمل کے لئے اچھا خاصا وقفہ دینا ضروری ہے ۔
بہر حال جہاں تک مس کیرج کا سوال ہے تو یہ ماں کے اپنے روئیے پر منحصر ہے کہ وہ اس حادثے کو کتنی شدت سے لیتی ہے اور کس انداز سے دکھ سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے