Khawateen Iftari O Sehri Per Rohani Khushi Se Sarshar

خواتین افطاری وسحری پر روحانی خوشی سے سرشار

بدھ مئی

Khawateen Iftari O Sehri Per Rohani Khushi Se Sarshar

انیلہ عادل
دین اسلام میں روزہ تیسرا بنیادی رکن ہے جیسا کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ اسلام کے پانچ بنیادی رکن ہیں جن میں پہلا رکن کلمہ توحید دوسرا رکن نماز تیسرا رکن روزہ چوتھا رکن زکوٰة اور پانچواں رکن حج ہے ان تمام اراکین کی پاپندی ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ہر رکن کی اپنی اپنی افادیت ہے رمضان کا مہینہ بھی بڑی فضیلت کا مہینہ ہے جس میں ہر مسلمان کو روزے رکھنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے ۔

قرآن مجید کی آیت ”روزہ“شعبان المعظم کے ماہ مقدس میں نازل ہوئی اللہ تبارک وتعالیٰ نے رمضان مبارک کو ماہ صیام قرار دیتے ہوئے اہل ایمان سے ارشاد فرمایا”پس تم میں سے جو شخص ماہ رمضان کو پالے تو اسے چاہئے کہ وہ روزہ رکھے“۔
اللہ تعالیٰ کا ہم پر خاص فضل وکرم ہے ہماری خوش قسمتی ہے کہ خدائے کریم نے اپنے حبیب کے صدقے سے ہمیں ایک بار پھر رمضان شریف کا مبارک مہینہ دیکھنے اور اس میں موجود بے شمار برکتیں‘ رحمتیں اور نیکیاں سمیٹنے کا خوب صورت موقع عطا فرما یا ہے تاکہ ہم اس پاک ذات اور اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش نودی اور قرب حاصل کر سکیں۔

(جاری ہے)

اپنے اردگردنظردوہرائیں تو پتہ چلتا ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو پچھلے رمضان ہمارے ساتھ تھے اور اب نہیں ہیں۔
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اللہ نے موقع دیا ہے تو اس سے بھر پور فائدہ اٹھائیں عبادات کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو منالیں۔ اس کی رحمتوں۔نعمتوں اور برکتوں سے اپنی جھولیاں بھرلیں کیوں کہ روز ہ رضائے الٰہی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

اس مہینے کو نیکیوں کا موسم بہار بھی کہا جاتا ہے قدم قدم پر نیکیاں اپنی دامن پھیلائے کھڑی رہتی ہیں۔اب یہ ایک مسلمان کا اپنا عمل ہے کہ وہ ان نیکیوں کو بڑھ کر گلے لگا لے یا ان سے کئی کتراکر گزر جائے یہی وہ مہینہ ہے جب ہر ایک نیکی کا ثواب ستر گنا زیادہ ملتا ہے ۔
ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ رمضان کا یہ مہینہ ایسا ہے کہ اس کا آغاز رحمت ہے اور اس کا درمیانی حصہ معافی اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی ہے ۔

ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب رمضان المبارک آتا تھا تو تاجدار انبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک بدل جاتا تھا اور نماز میں اضافہ ہوجاتا تھا اور دعا میں خوف غالب آجاتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں بالخصوص مساکین اور غرباء کی امداد فرماتے اور اپنی افطاری اور سحری میں انہیں شریک کرتے ۔اسی سنت کو نبھاتے ہوئے اہل ایمان رمضان کے مہینے میں روزہ داروں کے لئے بڑے اہتمام سے افطاری اور (سحری کا انتظام کرتے ہیں اور یہ سلسلہ دن بدن بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ۔

یہ وہ عمل ہے جس سے اللہ بھی خوش ہوتا ہے اور لوگ بھی۔۔۔جتنا ثواب روزہ رکھنے والے کو ہوتا ہے اتنا ہی ثواب روزہ رکھوانے اور افطاری کروانے والے کو بھی ہوتا ہے اور دونوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آتی۔
ویسے تو اس ماہ ہر طرف گہما گہمی ہوتی ہے ۔ایک دوسرے کا روز ہ افطار کرانے میں ہر کوئی پیش پیش ہوتا ہے رشتہ داروں ۔عزیزوں اور دوستوں کو افطاریوں کے لئے مدعو کیا جاتا ہے تو کبھی خود اُن کے ہاں افطارے کے لئے جارہے ہیں سارا مہینہ اسی طرح آنے جانے میں گزرتا ہے ۔

دیکھاجائے تو ہماری گھریلو خواتین کی مصروفیات بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں جنہوں نے کھانے پینے کا سارا انتظام کرناہوتا ہے۔
سحری کے وقت دوسرے گھروالوں سے ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے اٹھ کر تیاری میں لگ جاتی ہیں۔تاکہ اذان سے پہلے گھر کے افراد سکون سے کھانا تناول کر سکیں بعض گھروں میں سحری کھانے کے بعد چائے بھی پی جاتی ہے جسے خاتون خانہ نے ہی تیار کرنا ہوتا ہے اس کے بعد برتن دھو کر نماز کی ادائیگی کے لئے جائے نماز پر بیٹھ جاتی ہیں جس کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہیں دن نکلنے پر بچوں اور روزہ نہ رکھنے والے لوگوں کے لئے ناشتہ تیار کرنا ہوتا ہے ۔

بچوں کو اسکولوں میں بھیجنے اور مردوں کے اپنے اپنے کاموں پر چلے جانے کے بعد گھر کی صفائی کی طرف لگ جاتی ہیں ۔اس کے بعد اگر ٹائم مل جائے تو تھوڑا سا آرام کر لیتی ہیں ۔پھر عصر کے بعد سے ہی افطاری کے انتظامات میں لگ جاتی ہیں ۔
ظاہر ہے افطاری کے ایک آدھ نہیں بلکہ کئی قسم کی آئٹمیں تیار کرنا ہوتی ہیں اس طرح ان کا پورا دن مصروف گزرتا ہے یوں تو اپنے گھر والوں کے لئے وہ ہر روز ہی سحری اور افطاری کا بندوبست کرتی ہیں مگر روزے کی افطارے کے لئے دوسرے آئے ہوئے مہمانوں کے لئے خاص انتظامات کرتی ہیں۔

ایک جزبہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ سارے کام بڑے شوق سے کرتی ہیں ۔طرح طرح کی ڈشیں بنا کر مہمانوں کو کھلاتی ہیں ۔جس سے انہیں ایک روحانی خوشی ملتی ہے افطاری کے وقت جتنے زیادہ لوگ دستر خوان پر موجود ہوں اللہ تعالیٰ اتنی ہی برکت ڈالتا ہے اس طرح مل جل کر افطاری کرنے آپس میں اتفاق بڑھتا ہے اور پیار ومحبت میں اضافہ ہوتاہے۔
رمضان میں مصروفیات کے بارے میں ہم نے کچھ گھریلو خواتین سے بات کی ہے ان کے تاثر ات قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں ۔

ا س کی بات ادیبہ چوہدری کہتی ہیں کہ بے شک رمضان اپنے ساتھ اللہ کی رحمتیں اور برکتیں لے کر آتا ہے اس ماہ میں فضاؤں اور ہواؤں میں ایک خاص قسم کی روحانیت شامل ہوتی ہے۔مسلمان دن رات اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی اپنی ہمت کے مطابق عبادات کو معمول بنا لیتے ہیں ۔
مساجد کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں گھروں میں عورتیں بھی نماز ۔روزہ ۔تلاوت قرآن پاک اور نوافل کی ادائیگی میں مصروف ہوجاتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج بھی کرنا ہوتے ہیں ۔

ہانڈی روٹی کے علاوہ افطاری کے لئے جو چیزیں تیار کی جاتی ہیں اُن میں کافی محنت اور وقت درکار ہوتا ہے ۔میرے ماشاء اللہ تین بیٹے ہیں جو شادی شدہ ہیں اور ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ۔اپنا اپنا کماتے اور اپنا کھاتے ہیں رمضان میں یہ ہوتا ہے کہ افطاری کے لئے تینوں بہوئیں اپنی اپنی مرضی کے مطابق پکوان بناتی ہیں۔نماز عصر کے بعد وقت بڑی تیزی سے گزرتا ہے اور کئی چیزیں پکانی ہوتی ہیں بچوں کو بھی سنبھالنا ہوتا ہے میں بھی باری باری تینوں کا ہاتھ بٹاتی ہوں۔


افطاری کے وقت یہ تینوں اپنی اپنی افطاریاں لے کر میرے پاس آجاتی ہیں ۔بیٹے بھی مغرب سے پہلے اپنے کاموں سے واپس آجاتے ہیں دستر خوان لگ جاتا ہے لگ نہیں بلکہ سج جاتا ہے کسی نے کوئی آئٹم بنائی ہوتی ہے اورکسی نے کوئی۔۔۔۔افطاری کے وقت بچوں کا شوق اور تجسس دیدنی ہوتا ہے بچوں کا روزہ ہونہ ہو افطاری بڑے شوق سے کرتے ہیں کیونکہ اس میں انہیں طرح طرح کی چیزیں کھانے کو ملتی ہیں افطاری پر خوب رونق لگتی ہے یہ بھی اللہ کا خاص کرم ہے کہ ہم سب مل جل کروہ افطارکرتے ہیں ۔


اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ بچوں میں اسی طرح اتفاق محبت قائم رہ۔نماز مغرب کے بعد کھانا کھاتے ہیں اور عشاء کے بعد حسب توفیق کوئی کلمہ کلام پڑھتے ہیں ۔آج کل تو گرمی کا موسم ہے دن بڑے اور راتیں چھوٹی ہیں۔سونے میں گیارہ بارہ بج جاتے ہیں۔بمشکل دوگھنٹے آرام کرتے ہیں اور دوبجے سحری کی تیاری شروع ہوجاتی ہے اور اسی طرح یہ مبارک مہینہ بیت جاتا ہے ۔


آسیہ کہتی ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماہ رمضان میں خواتین کے معمولات میں کافی فرق پڑتا ہے اور رمضان کے دنوں میں ان کی مصروفیات میں کافی حد تک اضافہ ہوجاتا ہے ۔یہ رمضان کی برکتیں ہی تو ہیں کہ گھر گھر دستر خوانوں پر طرح طرح کے لوازمات سجے ہوتے ہیں ۔خواتین کو عام دنوں میں معمول کے مطابق کھانا پکانا ہی ہوتا ہے مگر اس میں کوئی قباحت نہیں ہوتی کہ کھانا کس وقت پکایا جائے کھانا جس وقت بھی بنے یا جس وقت بھی کھا لیاجائے کوئی حرج نہیں ہوتا مگر رمضان میں وقت کی پابندی کرنی پڑتی ہے ۔


صبح سحری سے پہلے اٹھ کر کھانا نہ پکایا جائے تو روزہ داروں کا روزہ رہ جاتا ہے یا ان کو کچھ کھائیے پئے بغیر روزہ رکھنا پڑتا ہے ۔اسی طرح عام گھروں افطاری سے پہلے ہی کھانا بنا لیا جاتا ہے بہت سے گھرانے ایسے ہیں جو روزہ کھولنے کے ساتھ ہی کھانا کھالیتے ہیں جو کہ ایک اچھی عادت ہے اگر روزہ کھول کر دوسری چیزیں پیٹ میں انڈیل لی جائیں تو معدہ بوجھل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے بعد میں کھانا کھانے کو جی نہیں کرتا۔

بہر حال افطاری کے لئے کھانے کے ساتھ ساتھ دوسری چیزیں بھی بنانی پڑتی ہیں جن کے بغیر افطاری کا تصور نہیں۔
چاہے یہ چیزیں تھوڑ ی تھوڑی ہی کھائی جائیں بنانی ضرور پڑتی ہیں۔ان چیزوں کو بنانے کے لئے نماز عصر کے بعد ہی تگ ودوشروع ہوجاتی ہے ویسے تو افطاری کا سامان بازار سے ہی مل جاتا ہے جس میں سموسے ۔پکوڑے۔دہی بھلے اور چاٹ وغیرہ شامل ہیں۔

بازار کی بنی ہوئی کھانے پینے والی چیزوں کا جو حال ہے اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں ۔حفظان صحت کے اصولوں کو یکسر نظر انداز کرکے ایسی گھٹیا معیار کی چیزیں بنائی جاتی ہے جن کے کھانے سے روزہ دار کو کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہونا پڑتا ہے ۔
آج کل گرمی کی وجہ سے بازاری اشیاء جلد خراب ہو جاتی ہیں خاص کر سموسوں میں ڈالے گئے آلوؤں میں سٹرانڈپیدا ہو جاتی ہے۔


ہم تو اسی لئے بہت سی چیزیں گھر پر ہی بنا لیتے ہیں جن میں سموسے بھی شامل ہوتے ہیں ٹھیک ہے ایسی چیزیں بنانے میں کافی محنت اور وقت درکار ہوتا ہے مگر یہ تو ہے کہ گھر کی بنی ہوئی چیزیں زیادہ ثقیل نہیں ہوتیں اور جلد ہضم ہوجاتی ہیں ۔یہ سب کچھ بنانے میں ہمیں کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی خوشی خوشی اور دل جوئی سے ہم یہ سارے کام کرتے ہیں ۔

جس سے ظاہر ہے کہ واقعی رمضان میں خواتین کی مصروفیات میں قدرے اضافہ ہوجاتاہے۔
برکت بی بی اندرون شہر میں رہتی ہیں اسے محلے والے پیار سے ماسی برکتے کہتے ہیں ۔جب ہم نے ماہ رمضان میں خواتین کی مصروفیات کے بارے میں سوال کیا تو پہلے وہ اپنے ماضی میں کھوگئیں جب مسجد سے آنے والی اذان کی آواز سن کر روزہ رکھا اور کھولا جاتا تھا۔شہر کے چاروں طرف سے آنے والی اذان کی آوازیں بڑا پر لطف سماں پیدا کرتی تھیں اب تو لوگ ٹیلی ویژن کی اذانوں پر روزہ رکھتے اور کھولتے ہیں ۔

ماسی برکتے نے بتایا کہ اندرون شہر کے لوگ ابھی زور وشور سے رمضان کا استقبال کرتے ہیں سارامہینہ بڑی گہما گہمی رہتی ہے سارے محلے کے لوگ ایک ہی کنبے کی طرح روزے گزارتے ہیں ۔
افطاری کے وقت گھر میں جوبنایا ہوتا ہے ہمسایوں کو ضروربھجواتے ہیں ۔
دوسری عورتوں کی طرح ہمیں بھی افطاری کے لئے روزانہ مختلف چیزیں بناتی پڑتی ہیں ۔اس بار بھی رمضان گرمیوں میں آیا ہے روزے میں پیاس زیادہ لگتی ہے ۔

میں تو خود بادام کا شربت بنالیتی ہوں جو روزہ کھول کر شوق سے پیتے ہیں۔ صندل کا شربت بھی گھر میں خود بنا کر بوتلوں میں بھر لیتی ہوں اس کے علاوہ شکر کا شربت بھی بنا کر شوق سے پیتے ہیں جس سے پیاس کی تلخی کم ہو جاتی ہے ۔غرض یہ کہ رمضان کے شب وروز اسی طرح سحری وافطاری کی تیاری کرنے میں گزر جاتے ہیں ۔ظاہر ہے عام دنوں کی نسبت ان دنوں میں سب عورتوں کی مصروفیت میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔


ایک اور خاص بات یہ کہ رمضان میں ہر جمعہ ہم سب محلے کی عورتیں اکٹھی ہو کر ایک ہی جگہ پڑھتی ہیں اسی طرح ستائیسویں کی رات بھی سب مل کر اجتماعی عبادت کرتی ہیں جو رات دوبجے تک جاری رہتی ہے بعد میں عورتیں سحری کا انتظام کرنے اپنے اپنے گھروں کو چلی جاتی ہیں ۔اس طرح ستائیسویں کی یہ ساری رات اللہ کی حمدوثنا اور ذکرو افکار میں گزر جاتی ہے۔


رخشندہ طالب کہتی ہیں کہ رمضان کے آنے پر تمام مسلمانوں کے دلوں میں خوشیاں برجمان ہوجاتیں ہیں۔ہمارے گھر میں رمضان کا استقبال ایک خاص مہمان کے طور پر کیا جاتا ہے اس کے آنے سے پہلے ہی سارے گھر کی خصوصی صفائی کی جاتی ہے گھر کے سارے برتنوں کو دھویا جاتا ہے ۔کھڑکیوں دروازوں کے تمام پردوں کو دھو کر دوبارہ لٹکایا جاتا ہے ۔مہینے بھر کا راشن گھر میں لا کر رکھ دیا جاتا ہے آج کل مہنگائی نے تو رمضان کے آنے سے پہلے ہی لوگوں کو بے حال کر دیا ہے ۔

دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہو گیا ہے رمضان میں تو ویسے بھی ہر گھر کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی جیسے تیسے کرکے لوگ گزراہ تو کرلیں گے مگر ہمارے باب اختیار کر غریبو ں کی کوئی فکر نہیں کوئی جےئے یا مرے انہیں اس سے کیا غرض
۔
خیر تو ماشاء اللہ ہم سب گھر والے روزے رکھتے ہیں دو بیٹیاں زیر تعلیم ہیں یہ دونوں کالج سے آکر تھوڑا آرام کرتی ہیں اور پھر افطاری کی تیاری شروع ہو جاتی ہے ۔

میری طرح انہیں بھی کھانے پکانے کا بڑا شوق ہے ۔رمضان میں کھانا پکانے کی ذمہ داری میری ہی ہوتی ہے جب کہ بچیاں افطاری کے لئے نئی نئی ڈشیں بنانے میں مصروف ہوجاتی ہیں ۔آج کل ٹیلی ویژن کے مختلف چینلوں پر طرح طرح کے پکوانے بنانے سکھائے جاتے ہیں بچیاں ان کے بنانے کے طریقے نوٹ کر لیتی ہیں اور پھر وہ اسی طرح نت نئے پکوان بناتی ہیں ۔افطاری کے وقت ان کی بنائی ہوئی ڈشیں کھا کر تعریف کرتے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتی ۔

بس اسی طرح ہنسی خوشی اور گہماگہمی میں رمضان کا مہینہ گزر جاتاہے۔
سچی بات تو یہی ہے کہ ماہ رمضان میں خواتین کو عام دنوں کی نسبت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور رمضان کے آخری عشرہ میں ان کی مصروفیات میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ انہوں نے آنے والی عید کی بھی تیاری کرنی ہوتی ہے اپنے لئے اپنے گھروالوں کے لئے عید کی شاپنگ کرنے کے لئے بازاروں اور مارکیٹوں کے چکر بھی لگانا پڑتے ہیں ۔


سخت گرمی اور روزے کی حالت میں شاپنگ کے لئے گھومنا بڑا مشکل ہوتا ہے ۔اس لئے دن کی بجائے زیادہ تر رات کے وقت ہی خریداری کی جاتی ہے جب کہ بازاروں میں رش بھی ہو جاتا ہے ۔آخر میں ایک پتے کی بات بتاتے چلیں کہ اگر شاپنگ کے لئے نکالنا ہے تو افطاری کے فوراً بعد نکل جائی یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بازاروں میں اتنا رش نہیں ہوتا۔اس وقت آپ آسانی سے شاپنگ کر سکتے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-05-22

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Khawateen Iftari O Sehri Per Rohani Khushi Se Sarshar" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.