بند کریں
خواتین مضامینمضامینخواتین میں گورا ہونے کا جنون

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خواتین میں گورا ہونے کا جنون
پاکستان سمیت ایشیائی خطے میں خوبصورت عورت صرف وہی سمجھی جاتی ہے، جس کی رنگت گوری ہے ۔یہی گوری رنگت کپڑوں، جوتوں،کھانے پینے ،ہوم اپلائنسز اور روز مرہ استعمال کی تقریباً سبھی اشیاء کے اشتہارات اورہورڈنگز پر چھائی ہوئی ہے۔
پاکستان سمیت ایشیائی خطے میں خوبصورت عورت صرف وہی سمجھی جاتی ہے، جس کی رنگت گوری ہے ۔یہی گوری رنگت کپڑوں، جوتوں،کھانے پینے ،ہوم اپلائنسز اور روز مرہ استعمال کی تقریباً سبھی اشیاء کے اشتہارات اورہورڈنگز پر چھائی ہوئی ہے،اسی لئے ہر پاکستانی عورت کسی بھی طرح گوری نظر آنا چاہتی ہے۔گورا ہونے کی یہ خواہش محض سوچ تک محدود نہیں بلکہ اس خواہش نے تجارت کی دنیا کے دروازے بھی کھول دیئے ہیں۔ چند سال پہلے تک زہریلے اثرات کی حامل سمجھی جانے والی ان مصنوعات کی خریداروں میں اب لوئر کلاس سے لے کر ایلیٹ کلاس تک کی خواتین شامل ہیں ۔ شہروں اور قصبوں کے ہر کونے میں قائم بیوٹی پارلرہی نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کے سپا بھی کھلے عام گوری رنگت بیچ رہے ہیں لیکن لمحہ فکریہ ہے کہ نقصانات کا ذکر کوئی نہیں کرتا۔
آج یورپ کے طول و عرض میں گوری چمڑی والے انسان پائے جاتے ہیں مگر امریکی سائنسدانوں کی ایک حالیہ تحقیق میں دریافت ہوا ہے کہ کبھی یہاں سیاہ فام لوگ آباد تھے جنہیں مشرق کی طرف سے آنے والے انسانی ریلے نے سفید فام بنادیا۔ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان لین میتھیسن کا کہنا ہے کہ یورپ میں 40 ہزار سال قبل افریقہ سے آنے والے سیاہ فام لوگ آباد تھے۔ یہ لوگ جنگلی جانوروں کا شکار کرتے اور جنگلی قبائل کی صورت میں رہتے تھے۔ تقریباً آٹھ ہزار سال قبل تک ان لوگوں کی رنگت سیاہ ہی تھی لیکن پھر مشرق قریب سے کاکیشین نسل کے لوگ یورپ کی طرف نقل مکانی کرنے لگے، ان میں سفید رنگ کے جینز بھی پائے جاتے تھے۔”سائنس“ میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے یورپ کے مختلف مقامات سے 83 لوگوں کے جینیاتی زائچے کا تقابل جدید یورپ کے افراد کے جینیاتی زائچے کے ساتھ کیا جس سے معلوم ہوا کہ یورپ کو گوری رنگت مشرق کی طرف سے آنے والے انسانوں نے دی۔یعنی جنوبی یورپ کے سیاہ فام لوگوں کے ساتھ ان کی شادیوں کے نتیجے میں سفید فام نسل پیدا ہوئی۔ تقریباً چھ ہزار سال پہلے یورپ میں بڑے پیمانے پر سفید رنگت کے جینزپھیل چکے تھے بلکہ آنے والے کچھ ہزار برسوں کے دوران تو سارا یورپ ہی سفید فام ہوگیا۔ گورا ہونے کا خبط نوآبادیاتی دور کے بعد پاکستانی نفسیات میں گہرائی تک سرایت کرچکاہے۔ گوری دلہن اور سفید رنگت والی ماڈل ہماری ان خواہشات اور توقعات کا مظہر ہیں جو پوری نہ ہوسکیں۔ہمارے ہاں بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ گوری رنگت کا مطلب ہے آریائی نسل سے تعلق یعنی ان فاتح لشکروں کے اصلی وارث جو ہزاروں سال پہلے آئے تھے۔گویا اس کا ایک مطلب مقامی دراوڑی نسل سے تعلق نہ رکھنا بھی ہے یعنی ان چھوٹے قد کے سیاہ فام لوگوں سے لاتعلقی جو بر صغیر میں آباد تھے اور اس کے دریاوٴں کے کناروں اور پہاڑوں کے دامن میں صدیوں سے مشقت کرتے آئے تھے۔دراصل یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ سب کے سب سیاہ فام لوگ سرحد کے اس پار رہتے ہیں اور پاکستانی ہونے کا مطلب ہے سکندر اور آریاوٴں کا وارث ہونا۔۔۔فلموں میں ہی دیکھ لیں کہ اگر ہیرو اور ہیروئن کو گورا دکھایا جاتا ہے توولن ہمیشہ کالا اور بدصورت ہوتا ہے۔ چنانچہ رنگت کی بنیاد پر یہ غلط تصور آج بھی موجود ہے کہ جو کالا ہے وہ غریب اور غلیظ ہے اورجو گورا ہے وہ خوشحال اور اچھا ہے۔تاریخی اعتبا سے دیکھاجائے تو پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ صدی میں سفید فام نسل کے نظریہ کی تشہیر ہٹلر کی جرمنی کے نازی دور حکومت میں کی گئی تھی۔ ویمر ری پبلک کی منطق کے مطابق اصلی نسل کا جرمن وہی ہے جس کا قد لمبا، رنگت گوری، بال سنہرے اور آنکھیں نیلی ہوں۔ ان ساری علامتوں کا تعلق آریائی نسل سے جوڑا گیا اور ان کی تشہیر ایک طاقتور جرمنی کے امیج کی حیثیت سے کی گئی جو پہلی عالمی جنگ کی تباہیوں کے ملبے سے ابھر رہا تھا۔ جمہوریہ کے مسلک کی تبلیغ کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم ہٹلر یوتھ سے وابستہ دراز قد، گوری رنگت ، سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والے نوجوانوں کو فوج کی فرنٹ لائن میں رکھا جاتاتاکہ وہ اس جرمنی کی علامت بن جائیں جس کے بارے میں ہٹلر نے دعویٰ کیا تھا کہ جلد ہی دنیا کو فتح کر لیں گے۔دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد ہر شخص چاہتا تھا کہ وہ آریائی نظر آئے کیونکہ اس کا مطلب تھا وہ محفوظ ہے اور اس کا تعلق حکمران نسل سے ہے۔بہرحال سفید رنگت سے خبط کی حد تک ہمارے حالیہ لگاوٴ کا تعلق ہماری موجودہ تاریخ سے ہے۔ خوش قسمتی سے نہ صرف ہم ایک ایسی تاریخ کے وارث ہیں جس نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کی بلکہ ان کے رخصت ہونے کے بعد بڑی حد تک اپنی قومی شناخت کی تشکیل مغرب سے نفرت کی بنیاد پراستوار کی ہے۔سفید چمڑی والے گورے سے پوری قوم کو نفرت ہے لیکن سفید رنگت کے ساتھ پاکستانیوں کی محبت کا بخار کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔یہ کیسا تضاد ہے کہ سفید رنگت والی قوموں سے ہماری نفرت کے ساتھ ساتھ ان جیسا نظر آنے کی ہماری کوششیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔

(1) ووٹ وصول ہوئے