بند کریں
خواتین مضامینمضامینخواتین اور سحر ی کا اہتمام و انتظام

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خواتین اور سحر ی کا اہتمام و انتظام
ویسے تو سارا سال ہی خواتین گھریلو کاموں میں جْتی رہتی ہیں لیکن رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ان کی ذمہ داریاں دگنی ہوجاتی ہیں۔ رمضان شروع ہونے سے قبل ہی کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری شروع کر دی جاتی ہیں
عنبرین فاطمہ:
”رمضان المبارک “ قمری مہینوں میں نواں مہینہ ہے اللہ تعالی نے اس ماہ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے۔اس مقدس مہینے میں بارگاہ الہیٰ سے رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہوتی ہے۔ اسلام ہمیں اس مہینے میں ”سحر و افطار“ کے دستر خوان پر اکٹھے بیٹھنے کا موقع فراہم کرتا ہے اس موقع کی کیفیت ہی الگ ہوتی ہے جس کو اگر صحیح معنوں میں محسوس کر لیا جائے تو کبھی بھی انسانوں کے درمیان دوریاں پیدا نہ ہوں۔”سحر و افطار “ اللہ کا انسانوں کو رمضان کے مہینے میں دیا ہوا ایک خوبصورت تحفہ ہے اوریہ دو ایسے کام ہیں جن کولیکر خواتین کی ذمہ داریاں دگنی ہو جاتی ہیں۔ ”رمضان المبارک“ رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کیلئے خصوصی عبادات کرنے کے علاوہ سحری اور افطاری کے روٹین سے ہٹ کر انتظامات ہیں جو ہر گھر میں کئے جاتے ہیں۔ویسے تو سارا سال ہی خواتین گھریلو کاموں میں جْتی رہتی ہیں لیکن رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ان کی ذمہ داریاں دگنی ہوجاتی ہیں۔ رمضان شروع ہونے سے قبل ہی کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری شروع کر دی جاتی ہیں۔ اب جب کہ رمضان المبارک شروع ہو چکا ہے آج چوتھا روزہ ہے اور آپ دیکھیں کہ ہر دوسرے بڑے سٹور پر خریداری کرنے آئی خواتین کا ایک بڑا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔ ہر کوئی آئل گھی،دالیں انڈے ،قیمہ،گوشت،بیسن کے علاوہ مختلف قسم کے انرجی ڈرنکس کی خریداری میں مصروف ہے۔ پکوڑے چونکہ ہر گھر میں بنتے ہیں اس لئے آئل اور بیسن کی خریداری سب سے زیادہ کی جارہی ہے۔کھانے پینے کے حوالے سے ہرگھر میں افراد کی اپنی اپنی پسند نہ پسند ہوتی ہے اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین کو سحری و افطاری کی آئٹیمز تیار کرنی ہوتی ہیں۔رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی حکومت کی جانب سے سستے رمضان بازار کا بھی اہتمام کیاجاتا ہے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان بازاروں کا رخ کرتی اور کم پیسوں میں معیاری چیزوں کی خریداری کو ترجیح دیتی ہے۔سستے رمضان بازاروں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے جنرل سٹورز پر بھی کھانے پینے کی اشیاء ڈسکاؤنٹ پر ملتی ہیں۔سستا رمضان بازار ہو یا بڑے سٹورز پر ڈسکاؤنٹ میں کھانے پینے کی اشیاء،ان سب کا مقصد لوگوں کو ریلیف دینا ہوتا ہے۔کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری کے بعد سب سے اہم مرحلہ سحر و افطار کی تیاری ہوتی ہے،پکوڑوں اور سموسوں کے ساتھ کھانے کیلئے اس وقت بازار میں مختلف کمپنیوں کی چٹیناں اور کیچپ موجود ہیں لیکن بہت ساری خواتین کیچپ اور چٹنیاں گھر میں بنانے کو ترجیح دیتی ہیں،حتیٰ کہ گھر میں ہی انواع و اقسام کے شربت تیار کرتی ہیں۔سموسے ،کباب اور نگٹس بازاروں میں بآسانی دستیاب ہیں لیکن بہت ساری خواتین پیسے اور وقت کی بچت کے پیش نذر سموسے،کباب اور نگٹس جیسی چیزیں رمضان سے ایک دو روز قبل تیار کر کے فریج میں رکھ لیتی ہیں۔ٹی وی چینلز پر مختلف کھانے پکانے کے پروگراموں نے خواتین کو بھی مکمل شیف بنا دیا ہے ایک وقت تھا جب کسی بھی چینل پر رمضان کی مناسبت سے کھانے کا ایک آدھا پروگرام نشر کیا جاتا تھا لیکن اب تو پکوان کے حوالے سے پورے پورے ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں ان چینلز پر چوبیس گھنٹے پکوان کی نشریات چلتی رہتی ہیں جن سے گھر بیٹھی خواتین خاصی لطف اندوز ہوتی ہیں اور مزے مزے کے پکوان بھی سیکھتی ہیں۔آج کل بھی سحر و افطار کے حوالے سے ریسیپیز بتائی جاتی ہیں جن سے خواتین کی ایک بڑی تعداد استفادہ کرتی ہے۔جہاں بہت ساری چیزیں انہی چینلز کی نشریات کی بدولت خواتین گھر میں تیار کر رہی ہیں وہیں مختلف قسم کے مصالحہ جات بھی گھر میں تیار کئے جارہے ہیں۔گھر میں ہر چیز خود بنانے سے یقیناً خواتین کے کام میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اس میں ایک تسلی ضرور ہوتی ہے کہ جو چیز بھی کھائی جارہی ہے وہ صحت بخش ہے۔بہت ساری خواتین تو دہی بڑے اور پھلکیاں بھی گھر میں ہی تیار کرتی ہیں ان کو بنانے کا طریقہ خاصا سادہ اورآسان ہے بیسن میں نمک،زیرہ اور چٹکی بھر میدہ ڈال کر پانی کے ساتھ اچھی طرح مکس کر لیں اور اس کے بعد گرم تیل میں ان کو ڈال کر فرائی کرکے باہر نکال لیں اور ٹھنڈے پانی میں چند منٹوں کے لئے ڈال دیں اور ہلکے ہاتھ سے نچوڑ کر نکال لیں اور دہی میں ڈال کر چاٹ مصالحے کے ساتھ لطف اندوز ہوں۔پکوڑے چونکہ ہر گھر میں بنائے جاتے ہیں اس میں پالک کا استعمال لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے اس لئے پالک لا کر اس کو دھونے کے بعد خشک کرکے کاٹ کر فریج میں رکھ لیا جائے یوں بوقت ضرورت اس کا استعمال کیاجاسکتا ہے۔آلو اور بیسن کے تلے ہوئے ہلکے پھلکے پکوڑے بچے بہت رغبت سے کھاتے ہیں اس لئے ماؤں کو چاہیے کہ وہ آلوؤں کابھی ایک ماہ کیلئے زخیرہ کر لیں تاکہ بچوں کو ان کی پسندیدہ افطاری کرائی جا سکے۔پراٹھوں کے بغیر سحری کا لطف نہیں آتا اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ مختلف قسم کے پراٹھے بنائیں جیسے گوبھی کا پراٹھا،آلو کا پراٹھا،چنے کی دال کا پراٹھا ان پراٹھوں کو دہی کے ساتھ کھائیں تو سحری کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ہر گھر میں کوئی نہ کوئی فرد چھوٹی موٹی بیماری میں ضرور مبتلا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اسے سحر و افطاری میں ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کھانے کیلئے چیزیں دی جائیں۔آج چونکہ چوتھا روزہ ہے خواتین گھر کی کچن کیبنٹ سے لیکر تمام کچن کی صفائی ستھرائی کے اہم امور انجام دے چکی ہیں۔خواتین جہاں ان تمام ذمہ داریوں سے بخوبی نبرد آزما ہوتی ہیں وہیں اس ماہ مقدس کی خصوصی عبادات کرنا نہیں بھولتیں۔بلاشبہ ”روزے“ کی فرضیت کا مقصد مسلمانوں کے اندر ایسی کیفیت کا پیدا کرنا ہے کہ وہ ہر معاملے میں اعتدال کی راہ کی طرف لوٹ آئیں۔اگر ہم دستور حیات کی طرف نگاہ دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد کھانا،پینا اور نفسانی خواہشات کے پیچھے دوڑتے رہنا نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف بقائے نسل انسانی کے ذرائع ہیں۔مگر ہم نے زندگی کا اول آخر صرف ان چیزوں کو بنا لیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہم بحیثیت مجموعی خسارے میں ہیں۔ان حالات میں سال کے بعد رمضان کا مقدس مہینہ عطیہ خداوندی ہے جو ہمیں حیوانی صفات کے چنگل سے نکال کر معراج انسانیت کی طرف لے چلنے کی عملی مشق کرواتا ہے جبکہ دوسری طرف یہ اسی دستور حیات کی سالگرہ کا مہینہ بھی ہے۔اس لئے کوشش کریں کہ اس مہینے میں روٹھوں ہوئے رشتہ داروں کی بھی منائیں اور اس مہینے کی خوشیاں سب کے ساتھ بانٹیں اور خصوصی عبادات کر کے رحمتیں سمیٹیں۔

(3) ووٹ وصول ہوئے