Kissan Khawateen

کسان خواتین

ہفتہ جولائی

Kissan Khawateen
شانزے وحید
زندگی کے دیگر شعبوں کی مانند زراعت کی پیدا وار میں بھی ہماری خواتین بڑھ چڑھ کے اپنی شرکت کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔کھیتی باری میں کام کرنے والی خواتین عموماً دو طریقوں سے معاونت کرتی ہیں۔زمینداروں کے زیر ملکیت کھیتوں پر کام کرکے اور اپنے خاندانی کھیتوں پر کام کرکے ۔پاکستانی معاشرے میں زیادہ تر خواتین زراعت کے شعبے میں صرف اپنے خاندانوں کی مدد کے لئے کام کرتی ہیں۔

خاندان کی آمدنی کو فروغ دینے کے لئے دیہی خواتین کو شمولیت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔
زمینداروں کے کھیتوں پرکام کرنے کا معاوضہ انہیں عموماً زرعی پیداوار کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر جنوبی سندھ کی زراعی محنتی خواتین کو آدھے ایکڑ رقبے کی فصل کی کٹائی کرنے پر 40کلو گرام گندم دی جاتی ہے،یہ اُجرت کم ہے۔

(جاری ہے)

آدھی گندم کو اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے اور باقی دکاندار کو بیچ کر یا تو ضرورت کی اشیاء خریدلی جاتی ہیں یا پھر نقدرقم حاصل کرلی جاتی ہے ۔

لین دین کے اس عمل میں خواتین کو کچھ نقصان ضرور اٹھانا پڑتاہے۔ہماری محنت کش خواتین کھیتی باڑی میں مردوں کے ساتھ ساتھ کام کرتی ہیں۔بلکہ خواتین مردوں سے کہیں زیادہ گھنٹے کام میں خرچ کرتی ہیں مگر ان کی اس محنت کو سراہا نہیں جاتاہے۔
کھیتوں میں کام کرتے ،مویشی پالنے اور بچوں کی پرورش کرنے کے ساتھ ساتھ امور خانہ داری بھی چلانے والی ان خواتین کو اکثر نہ تو جائیدار میں کوئی حصہ ملتا ہے ،نہ ہی کوئی زمین ان کی ملکیت ہوتی ہے،تعلیم میں بھی وہ بہت پیچھے رہ جاتی ہیں اور طبعی سہولیات سے تو ان کو ایک بہت بڑی اکثریت محروم ہی رہتی ہے۔

کھیتی باڑی کے کام میں زیادہ ترحصہ جسمانی محنت کا ہی ہوتا ہے ۔جس میں وقت بھی لگتا ہے اورجس کے لیے تو انائی بھی درکار ہوتی ہے۔ہماری یہ محنتی مائیں،بہنیں ،بیٹیاں غربت کے شکنجوں میں بُری طرح جکڑی ہوئی ہیں ۔انہیں صحت کے بھی طرح طرح کے مسائل درپیش ہیں مگر ان کے پاس اتنے پیسے کہاں کہ وہ اپنا علاج کرواسکیں۔ان کے لیے تو اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنا اور تن ڈھانپنا ہی دوبھر ہے ۔

ان میں سے کئی کے لیے زچگی کے دوران نگہداشت بھی نہیں کی جاتی ۔جبکہ بہت سی عورتیں بچے کی پیدائش کے مرحلے میں ہی لقمہ اجل بن جاتی ہیں ۔
پاکستان میں خواندگی کا مجموعی تناسب چالیس فیصد ہے ۔لیکن بلوچستان اور وہاں کے قبائلی علاقوں میں یہ شرح مزید کم ہوکر پانچ اور دس فیصد کے درمیان رہ جاتی ہے ۔تقریباً یہی شرح صوبے خیبر پختونخواکے قبائلی علاقوں میں بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

دیہی علاقوں کی خواتین میں انتہائی کم شرح خواندگی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں تعلیمی ادارے کم ہیں اور وہ اکثر کافی فاصلے پر ہوتے ہیں ۔موجودہ دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے نہایت ترقی کر لی ہے۔لیکن ہماری کسان خواتین ابھی تک کھیتی باڑی کے جدید طریقوں سے نا آشنا ہیں۔
ہمارے مرد کسانوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ابھی تک روایتی طور طریقوں سے ہی کھیتی باڑی کررہے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ پیداوار نہیں ہوتی ہے۔

چنانچہ اس وجہ سے انہیں مسلسل نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔مثلاً خوانخواستہ اگرکھیت پرکسی نقصان پہنچانے والے کیڑے زیادہ ہو جائیں تو ایسی صورت میں متاثرہ حصے کو جلا دیا جاتا ہے ۔تاکہ باقی حصہ محفوظ کر لیا جائے۔اس وجہ سے پیداوار محدود ہوکررہ جاتی ہے۔اگر دیہاتی خواتین اور مرد تعلیم حاصل کرنا شروع کردیں تو وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے جدید طریقوں سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ ہونے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور اس طرح نہ صرف زیادہ سے زیادہ انفرادی پیداوار میں بلکہ ملک کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔


اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر چہ مرد حضرات ہی خاندان کے سر براہ ہوتے ہیں لیکن اپنی فیملی کی فلاح وبہود کا زیادہ اور شدید احساس خاندان کی خواتین یا خاتون خانہ میں ہی پایا جاتا ہے ۔لہٰذا یہ بات ثابت ہے کہ زراعت کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین جتنی زیادہ قوی اور بااختیار ہوں گی ان کا خاندان اتنا ہی خوش وکرم اور خوشحال ہو گا۔اس کے لیے لازمی ہے کہ حکومت اپنی زرعی پالیسیاں تشکیل دیتے ہوئے ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھے۔اس کے علاوہ دیگر شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کے علاوہ زراعت کے شعبے میں خدمات انجام دینے والی خواتین کی خصوصی تربیت کا بھی اہتمام ضروری ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-27

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Kissan Khawateen" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.