Mard Aur Aurat Ka Dimagh Kya Mukhtalif Hai - Special Articles For Women

مر د اور عورت کا دماغ : کیا مختلف ہے ؟ - خواتین کیلئے مضامین

منگل 31 جولائی 2018

Mard Aur Aurat Ka Dimagh  Kya Mukhtalif Hai
محمد اظہر
اگر مردوعورت بیک وقت ایک پر ہجوم ڈرائنگ روم میں داخل ہوں اور پانچ منٹ بعد دونوں سے سوال کیا جائے کہ انہوں نے وہاں کیا دیکھا ؟تو کوئی بھی خاتون باآسانی یہ بتا دے گی کہ کمرے میں موجود کس عورت نے کس قسم کا لباس زیب تن کیا ہوا ہے ،فلاں کی قمیض کا کیا رنگ ہے ،پرنٹ کیسا ہے ؟؟؟
بہت سی خواتین مختصر وقت میں یہ بھی جان لیں گی کہ کس خاتون نے کیسے زیورات پہن رکھے ہیں ،کس کے کان خالی ہیں اور کس کی کلائیوں میں کس رنگ کی چوڑیاں ہیں ؟ اس کے برعکس ایک مرد صرف میز پرموجود کھانے کی اشیاء اور کمرے میں موجود لوگوں کی تعداد پر قیاس کے علاوہ شاید ہی کوئی جواب دے سکیں ۔

روزمرہ زندگی بالخصوص گھر یلو معاملات کے تنا ظر میں مرد اور عورت کا رویہ بھی خاصا مختلف ہوتا ہے ۔

(جاری ہے)

مثال کے طور پر ایک ماں کو شیر خوار بچے کے رونے بلکنے پر یہ اندازہ لگانے میں قطعاََ وقت نہیں لگتا کہ آیا بچے کو بھوک لگی ہے ،بچہ تکلیف میں مبتلا ہے یا کوئی دوسرا مسئلہ ہے ؟اِس کے بر عکس باپ کو بچے کا رونا فقط رونا ہی لگتا ہے ۔ ان مثالوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ذہن میں مندرج ذیل سوالات اُبھرتے ہیں ۔

کیا مردوں اور عورتوں کے سو چنے سمجھنے کی صلاحیت میں فرق ہے ؟ کیا مرد اور عورت کے دماغ میں کو ئی جینیاتی یا فطری فرق موجو د ہے یا د ماغ جنس سے بالاتر ہو کر ایک ہی طرح کام کرتا ہے ؟کیا اِن رویوں کا فرق معاشرتی اثرات کی بدولت ہے ،یا مرد اور عورت قدرتی طور پر یکسر مختلف ہیں ؟یہ اور اس طرح کے کئی سوالات ہمیشہ سے ہی انسانی ذہن میں اُبھرتے رہے ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے کسی حد تک ان
سوالات کا جواب دے دیا ہے ۔

کچھ عرصہ قبل بی بی سی نے انہی سوالوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر ایک تحقیق کی ۔تحقیق میں شامل ریسر چرز کاماننا ہے کہ انسانی جسم کی طرح انسانی ذہن کے بر تاؤ کا زیادہ تر دارومدار بھی ہار مونز پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ کاموں میں مرد بہتر ہوتے ہیں تو کچھ میں خواتین ۔۔۔ تاہم یہ کوئی لگا بند ھااُصول نہیں کیونکہ ایسی باتیں خواتین کوکئی شعبوں میں جانے سے روکتی ہیں ، مثال کے طور پر سائنس کے میدان میں ۔

دنیا بھر میں فزکس بطور مضمون پڑھنے والی خواتین کی تعداد انتہائی کم ہے اور انجینئرنگ کے شعبے میں صرف سات فیصد خواتین ہیں ۔اسی تحقیق میں مردوں کے دماغ کے اگلے اور پچھلے حصوں میں مضبوط تعلق پایا گیا شاید اسی کی بدولت مردوں میں بر وقت رد عمل کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور یہ اچھے شکاری ثابت ہوتے ہیں ۔تحقیق میں عو ر توں کے دما غ کے دائیں اور بائیں حصوں میں زیادہ رابطہ پایاگیا یعنی وہ بیک وقت ایک سے زیادہ کام اور ان کا موں کے کر نے میں، جن میں جذبات کا استعمال ہو، بہت اچھی ہو تی ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ بعض اوقات انسانی دماغوں کے درمیان فرق سماجی د باوٴ کی وجہ سے بھی ہو تا ہے۔
خواتین زیادہ جذباتی کیوں ہوتی ہیں ؟
سو ئٹز رلینڈ کے سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق ”عورتیں مردوں سے زیادہ جذباتی ہوتی ہیں اور وہ جذباتی مناظر کو زیادہ دیر تک یادرکھتی ہیں “۔یو نیو ر سٹی آف بیسل کی جانب سے کی گئی تحقیق میں 3398مردوں اور عورتوں کے جذبات ، یاداشت اور دماغی کارکردگی پر تجر بات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ خواتین نہ صرف مردوں کے مقابلے میں ہر موقعے پر جذباتی ہوجاتی ہیں اور بالخصوص منفی جذباتی مناظر زیادہ عر صے تک یادرکھتی ہیں ۔

تجر بات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عام مناظر کو یاد کرنے میں مرد اور عورتوں کی صلاحیت برابر تھی لیکن جب بات کسی جذباتی منظر کو یاد کرنے کی ہوتو خواتین میں یہ صلاحیت زیادہ تھی۔مذکورہ تجربے سے اس مفروضے کو تقویت ملتی ہے کہ خواتین مروں سے
زیادہ جذباتی ہوتی ہیں اور اس کا سبب آکسی ٹوسن نامی ہارمون کو قرار دیا جاتا ہے کیونکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں مادہ کے جسم سے اس ہارمون کا زیادہ اخراج ہو تا ہے جبکہ مردوں میں آکسی ٹونس کا اخراج انتہائی غیر معمولی وا قع پر ہی ہوتا ہے ۔

بہر حال یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جنس کی بنیاد پر مرد اور عورت کے سو چنے سمجھنے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے ۔
جسمانی ساخت اور حیا تیا تی موازنہ
مردوں اور عورتوں کی جسمانی ساخت ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہے مثلاََ مردوں کے پٹھوں کی کمیت اور مقدار نہ صرف ہورے جسم کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ ہے بلکہ عورتوں کی نسبت بھی زیادہ ہوتی ہے ۔

اِسی طرح مردانہ ہڈیاں ،بافتیں اور ہڈیوں کے لگامنٹ گھنے اور مضبوط ہو تے ہیں ۔ ایک مرد کادل وزن میں اور پھیپھڑا حجم میں بڑا ہوتا ہے بلکہ خون میں سرخ خلیوں کی تعداد اور اُن میں ہیموگلوبن کی مقدار بھی بہ نسبت خواتین ،زیادہ ہوتی ہے ۔اِس بر عکس ایک خاتون کے خون میں سفید خلیوں کی تعداد مرد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے ۔خواتین میں اینٹی باڈیز پیدا کرنے کی شرح بھی مردوں کی نسبت بہتر قرار دی جاتی ہے اور اوسطاََ یہ مردوں کی نسبت طویل عمر پاتی ہیں اور ان میں قوت مدافعت بھی زیادہ پائی جاتی ہے اور مردوں کی نسبت طویل عمر پاتی ہیں اور ان میں قو ت مدافعت بھی زیادہ پائی جاتی ہے اور مردوں کے مقابلے میں اِن میں مختلف قسم کے انفیکشنز کے خلاف لڑنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے ۔

خواتین میں کلر بلائنڈ ینس اور ہیمو فیلیا میں مبتلا ہونے کا امکان بھی نسبتاََ کم ہوتا ہے کیو نکہ اِن کے کرو مو سوم مردوں سے خاصے مختلف ہوتے ہیں ۔
عورت کا دماغ ،حجم میں چھوٹا ہوتا ہے
بلحاظ کارکردگی ،انسانی دماغ کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ہر حصے کا استعمال مختلف کاموں ،صلاحیتوں اور رویوں میں مدد گار ثا بت ہوتا ہے ،نیز یہ مختلف حصے آپس میں الیکٹر ک سر کٹ کی مانند
منسلک ہوتے ہیں ۔

کسی ایک حصے کی دوسرے کے ساتھ کنکشن کی تعداد میں کمی یا زیادتی بھی مختلف صلاحیتوں اور رویوں میں تفر یق کو جنم دیتی ہے ۔مردانہ دماغ کسی بھی سر گرمی کے لئے سر مئی مادے کا اور زنانہ دماغ سفید مادے کا استعمال زیادہ کرتا ہے ۔مزید برآں ،عورتوں میں دماغی حصوں کو جوڑنے والے کنکشن کی تعداد نہ صرف زیادہ ہوتی ہے بلکہ اِن کو نو عیت میں بھی فرق ہوتا ہے ۔

اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرد کا جھکاؤ منطق ،حقائق اور ڈیٹا کی طرف جبکہ خواتین کا جذبات ،احساسات اور تعلق کی جانب ہوتا ہے ۔دوسری طرف مرد یکسو ہوتے ہیں جبکہ خواتین بیک وقت مختلف کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور بہتر نتائج دیتی ہیں ۔مطلب یہ کہ سائنس کے مطابق بیک وقت بو لنا اور سننا اُن کی قدرتی صلاحیت ہے جہاں تک عام مردوں کا پہنچ پانا مشکل ہے ۔

نیتجتاََعورت ایک طرف دیکھتے ہوئے زیادہ چیزوں کا مشاہدہ کر سکتی ہے جبکہ مرد مخصوص شے کو دیکھنے کا عادی ہوتا ہے ۔اس نکتے سے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ خواتین ایک ہی نظر میں کپڑے کا رنگ،میٹر یل ،زیورات کی اقسام وہئیت ،جوتے کا برانڈ اور موزے کی میچنگ تک کا اندازہ کیسے لگا لیتی ہیں ؟ ایک مرد کا دماغ حر کات وسکنا ت اور خاتون کا دماغ رنگوں میں تفریق کے بارے میں حساس ہوتا ہے ،اِسی لئے مرد حضرات مختلف رنگوں کی پہچان اور ان میں فرق کرنے کے حوالے سے اکثر مارکھا جاتے ہیں جبکہ خواتین کو کل میچنگ اور کنٹر اسٹ میں طاق سمجھا جاتا ہے ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک خاتون بہ آسانی آواز کی پانچ مختلف قسم کی ٹو نزمیں فرق کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ مرد صرف تین مختلف طرح کی آوازوں میں تمیز کر سکتے ہیں ۔جس طرح خاتون کا دماغ ہمدردانہ جبکہ مرد کا انتظامی ہو تا ہے اسی طرح خواتین کی زبان میں لذت اور سو نگھنے کی حس بھی مردوں کے مقابلے میں لا جواب ہو تی ہے ۔ اگر چہ مر دانہ دماغ کا وزن زیادہ ہوتا ہے لیکن تاحال ذہانت کی کمی یازیادتی سے ابھی تک اِس کا تعلق ثابت نہیں ہو سکا ۔

سائنس بہت پہلے یہ ثابت کر چکی ہے کہ نر اور مادہ دماغ مختلف نیورو کیمیکلز کو مختلف مقدار میں استعمال کرتے ہیں چنا نچہ مرد زیادہ جار حانہ اور قوتِ محر کہ کے
تا بع ہوتے ہیں جبکہ خواتین نسبتاََ صلح جُو تصور کی جاتی ہیں اور ماردھاڑ سے اجتناب بر تتی ہیں ۔ہالینڈ کے مرہرین کا کہنا ہے کہ مردوں کے دماغ کا حجم بڑا ہونے کے باوجود خواتین ذہنی یادداشت کی جانچ کے امتحانات میں زیادہ بہتر کار کردگی دکھاتی ہیں ۔

ایک تحقیق کے مطابق عورتوں کی نسبت مردوں کا دماغ تقر یبا14 فیصد بڑا ہوتا ہے ۔اس سے قبل 19ویں صدی میں چارلس ڈارون نے بھی کہا تھا کہ مردوں کا دماغ خواتین کے دماغ سے بڑاہوتا ہے،ڈارون کے مطابق عوت کا دماغ بچوں اور مردوں کے درمیان کی سطح رکھتا ہے ۔کیلیفور نیا یو نیورسٹی میں ہونے والی تحقیق سے بھی ثابت ہوچکا کہ خواتین کا دماغ مردوں کے دماغ سے چھوٹا ہوتا ہے تا ہم وہ دماغ کے خلیوں کے درمیان بہتر رابطے کی وجہ سے زیادہ تیز کار کر دگی دکھا سکتی ہیں ۔

ایک اور تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ خواتین کا دماغ مردوں کے دماغ کے مقابلے میں کہیں زیادہ سر گرم ہوتا ہے ۔بہر حال ہالینڈ میں ہونے والی تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مردوں کے مقا بلے میں خواتین 3.75آئی کیوپو ائنٹس کی حد تک کم ذہین ہوتی ہیں اور ان میں شکل وحجم کے تصرف اورپر کھ کی اہلیت بھی بہت بری ہوتی ہے ۔اس تحقیق کے بر عکس ماہرین کا ماننا ہے کہ خواتین کا دماغ زیادہ فعال اور منظم طریقے سے کام کرتا ہے یا معلو مات کو زیادہ بہتر طریقے سے عمل میں لانے کی فطری اہلیت رکھتا ہے ،یادداشت کے معاملے میں بھی خواتین مردوں سے تھوڑی آگے تصور کی جاتی ہیں.
تاریخ اشاعت: 2018-07-31

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Mard Aur Aurat Ka Dimagh Kya Mukhtalif Hai" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.