بند کریں
خواتین مضامینمضامینراکیل کارسن(1907ء تا1964ء)

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
راکیل کارسن(1907ء تا1964ء)
عام طور پر تسلیم کیاجاتا ہے کہ جدید ماحولیاتی تحریک کاآغاز راکیل کارسن کی Silent Springکی اشاعت کے ساتھ ہوا۔ یہ کرہٴ ارض کی ہوا، اور مٹی پر کیمیائی کیڑے مارادویات کے نقصان دہ اثرات کا متاثر کن مطالعہ تھی۔ ماہربحری حیاتیات کارسن نے” The Sea Around“ کی اشاعت کے بعد مقبولیت حاصل کی۔
عام طور پر تسلیم کیاجاتا ہے کہ جدید ماحولیاتی تحریک کاآغاز راکیل کارسن کی Silent Springکی اشاعت کے ساتھ ہوا۔ یہ کرہٴ ارض کی ہوا، اور مٹی پر کیمیائی کیڑے مارادویات کے نقصان دہ اثرات کا متاثر کن مطالعہ تھی۔ ماہربحری حیاتیات کارسن نے” The Sea Around“ کی اشاعت کے بعد مقبولیت حاصل کی۔ Silent Spring میں وہ ایک اخلاقی قوت اور تشویش کے ساتھ جدید زندگی کے ایک مرکزی مرض کی تشخیص کرتی ہے۔
راکیل لوائزے کارسن دوبہنوں اور ایک بھائی پر مشتمل گھر میں سب سے چھوٹی تھی۔ اُس نے Alleghenyدریا کے کنارے 65ایکڑپر محیط گھنے جنگل میں پرورش پائی جو اس کے باپ نے خریدا اوروہاں رہائش اختیارکی تھی۔ کارسن کو ابتدأ سے ہی فطرت میں دلچسپی تھی اور اس نے بعد میں خود کو ایک تنہا بچی“ کے طور پربیان کیا جو زیادہ تروقت جنگل میں اوردریا کے کنارے ٹہلتے ہوئے گزارتی اور اس دوران پرندوں، حشرات اور پھولوں کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کرتی۔ کارسن ایک پرشوق قاری اور پر جوش طالب علم بھی تھی، البتہ بیماری نے اُسے کافی عرصہ تک سکول نہ جانے دیا۔ 18برس کی عمر میں وہ مصنفہ بننے کا ارادہ لے کر پنسلوانیا کالج فاروویمن (پٹسبرگ) میں داخل ہوئی تاہم دوسرے سال میں اُس نے ایک اُستاد میری سکاٹ سکنکر کا دیا ہوا بائیالوجی کاکورس لیا، جس نے اُس میں ایک ایسا شوق بیدار کیا جو وہ پہلے صرف ادب اور رتصنیف وتالیف کے لیے محسوس کیاکرتی تھی۔ اُس کا رحجان سائنس کی جانب ہوگیا۔
1929ء میں امتیازی نمبروں کے ساتھ گریجوایشن کرنے کے بعد کارسن نے یونائیٹڈ سٹیسٹس میرین بائیالوجیکل لیبارٹری (ووڈزہول، میسا چوسٹس) میں سمرسٹڈی فیلوشپ حاصل کی․․․․ یہ سمندری حیات کے ساتھ اُس کااولین تعارف تھا۔ سکنکر کی مدد سے اُس نے جانس ہاپکنزیونیورسٹی بالٹی مور سے سکالر شپ حاصل کیا۔ گریجوایٹ سکول میں پڑھنے کے دوران وہ ہاپکنز میں بطور لیبارٹری اسسٹنٹ اور یونیورسٹی اور میری لینڈ میں زووالوجی کی ٹیچنگ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی رہی۔ 1932ء میں اُس نے زووالوجی میں ماسٹرڈگری حاصل کرلی۔
1935ء اور 1936ء میں کارسن گھرانے کودو صدمات کاسامنا کرنا پڑا: راکیل کے باپ اور بہن کی موت۔ متوفی بہن کے دوبچوں کوپالنے کی ذمہ داری کارسن اور اُس کی ماں کے کاندھوں پر آن پڑی۔ خاندان کی کفالت کرنے کے لیے کارسن نے یونائیٹڈ سٹیٹس بیوروآف فشریز (واشنگٹن ڈی سی) میں ملازمت کرلی اور بحری حیات پر مختصر دوراینے کے ریڈیوپروگرامز لکھے۔ سال کے اختتام پر اُس نے زیادہ سے زیادہ نمبروں کے ساتھ سول سروس کاامتحان پاس کیا اوراُسے محکمے میں بحری حیاتیات دان کے طورپر کل وقتی ملازمت پیش کی گئی۔ بحری حیات کے موضوع پر بیورو کے لیے ایک اسائنمنٹ ” اٹلانٹک منتھلی“ کوبھجوائی گئی جہاں یہ Underseaکے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس پہلے مضمون کی اشاعت کے بعد سب کچھ خود بخود ہوتا چلاگیا۔ اُس نے اپنے مضمون کو وسعت دے کرایک کتاب ” Under the sea- Wind“ تیارکی جونومبر 1941ء میں شائع ہوئی۔ لیکن پرل ہاربرپرجاپانی فضائی حملے اور جنگ میں امریکہ کی شمولیت کی وجہ سے اسے کافی حد تک نظر انداز کردیا گیا۔ جنگ کے دوران کارسن نے انفارمیشن ڈویژن کی ایڈیٹران چیف کی حیثیت سے ماہی گیری اور سمندری حیات کی تنظیم نوکے سے مضامین کاسلسلہ جاری رکھا۔ 1951ء میں اُس نے Sea Around Usشائع کی جو81ہفتوں تک بیسٹ سیکرز کی فہرست میں شامل رہی، متعدد انعامات جیتے اور انجام کارتیس زبانوں میں ترجمہ ہوئی اسی کتاب سے متعلقہ ایک اور کام ” The Edge of the Sea“ 1955ء میں منظرعام پرآیا۔ ان دونوں میں سمندر اور اُس کے ساحوں کی فزکس، کیمسٹری اور بائیالوجی کامفصل بیان ملتاہے۔ کارسن نے اپنے سائنسی مشاہداے کوخوب صورت شاعرانہ زبان میں پیش کیا۔
1958ء میں راکیل کارسن کو اپنی ایک دوست اولگا ہکنز کاخط ملا جس میں اُس نے اپنے ذاتی پرندہ گھر کی تباہی کاذکر کیاتھا۔ اولگانے میسا چوسٹس کی ریاست کی جانب سے مچھر مارہم کے تحت ڈی ڈی ٹی کا چھڑکاؤ کروایا تھا۔ کیمیائی زہرکے باعث پیش آنے والے خطرات سے پوری طرح آگاہ کارسن نے محسوس کیا کہ اب آواز اُٹھانے کا وقت آگیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ موضوع کافی اختلاف رائے پیدا کرے گا کیونکہ حکومت فصلوں کی پیداوار اور بڑھانے کے لیے صنعت کیمیکلز پر بہت زیادہ انحصار کررہی تھی اور انن کیمیکلز کے مضر ضمنی اثرات کوبالکل نظر انداز کردیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ محکمہ زراعت نے بھی جڑی بوٹیاں اور کیڑے مکوڑے تلف کرنے والی ادویات استعمال کرنے کی حمایت کی تھی۔ امریکہ اور یورپ میں کئی سال تک باریک بینی سے تحقیق کرنے کے بعد کارسن نے 1962ء میں Silent Spring لکھی۔ اس کتاب میں کارسن نے بڑے زبردست انداز میں ثابت کیا کہ انسانوں سمیت تمام مخلوقات کو ڈی ڈی ٹی اور دیگر زیادہ زہریلے کیمیکلز کی وجہ سے خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ اُس نے کیڑے مکوڑوں سے نمٹنے کے لیے حیاتیاتی کنٹرولز کے استعمال پر زور دیا جن کی بنیاد جانداروں کی زندگی کے تانے بانے کی تفہیم پرہو۔ کارسن کی پیش گوئی کے عین مطابق Silent Springپر زرعی کیمیکل انڈسٹری نے شید تنقید کی اور کتاب کو جھٹلانے کے لیے وسیع پیمانے پر مہم شروع کردی گئی۔ مگر مخالفین کو کامیابی نہ ہوئی۔ صدر جان ایف کینیڈی نے بھی کتاب کااثر قبول کیا اور فیڈرل Pesticidesپالیسی پر نظر ثانی کاحکم دیے دیا۔ 1963ء میں صد کی سائنسی مشاورتی کمیٹی نے کیڑے مارادویات کے ضمنی اثرات پر تحقیق کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی نے کارسن کے خیالات کی تصدیق کی اور ڈی ڈی ٹی کے استعمال پرپابندی کاقانون منظور ہوگیا۔
ایک اہم جنگ میں فتح حاصل کرلینے کے بعد کارسن نے اس مفروضے کے خلاف ایک زیادہ وسیع جنگ شروع کی کہ ترقی کی خاطر ماحول کی قربانی دی جاسکتی ہے۔ ماحولیاتی مسائل سے آگاہی 1962ء میں کارسن نے ہی پیدا کی۔ آج یہ ایک بہت بڑا ایشوبن چکا ہے۔ ماحولیات پر بحث شروع کرنے کا سہرا کارسن کے سرجاتا ہے۔ ایک جریدے کے ایڈیٹرنے لکھا: اُس کے چند ہزار الفاظ نے دنیا کارخ ایک نئی سمت میں موڑدیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے