بند کریں
خواتین مضامینمضامینروزا پارکس(1913ء تا․․․)

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
روزا پارکس(1913ء تا․․․)
اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ روزا پارکس کو” سول حقوق کی خاتون اول“ اور سول حقوق تحریک کی ماں“ کہاجاتاہے۔
اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ روزا پارکس کو” سول حقوق کی خاتون اول“ اور سول حقوق تحریک کی ماں“ کہاجاتاہے۔ دسمبر کی شام کواُس کاپر عزم انداز میں مدافعت کرنا وہ چنگاری تھی جس نے 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں احتجاجی مظاہروں کی آگ بھڑکائی۔ اُس کے ایکشن کے نتیجہ میں شہریوں کے خلاف تعصب پر مبنی قوانین ختم ہوئے، ماٹن لوتھر کنگ جونیئر قومی رہنمابن کراُبھر ااور نسلی مساوات کے لیے ایک طویل جدوجہد نے دوبارہ زور پکڑلیا۔
روزا پارکس Tuskegee، البامامیں پیدا ہوئی۔ اُس کانام روزا مکاؤلی رکھا گیا تھا۔ روزا کاباپ بڑھئی اور ماں ایک کمرے پر مشتمل دیہی سکول میں استانی تھی۔ جب پارکس دو سال کی تھی تووالدین علیحدہ ہوگئے اور باپ شمال کی طرف چلا گیا۔ روزا اور اُس کاچھوٹا بھائی ماں کے ہمراہ نانا نانی کے پاس پائن لیول، الباما منتقل ہوگئے۔ نانا کی وفات کے بعد روزا اور اُس کے گھروالے منٹگمری میں ایک آنٹی کے گھر رہنے لگے۔ روزا نے منٹگمری انڈسٹریل سکول میں داخلہ لیاجہاں اُسے کھانا پکانے، کپڑے سینے، ٹوکریاں بنانے اور کشیدہ کاری جیسے فنون کی تربیب دی گئی۔ جونیئر ہائی سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ الباما سٹیٹ ہائی سکول میں داخل ہوئی لیکن اپنی بیمارماں اور بوڑھی نانی کی دیکھ بھال کرنے کی وجہ سے بار باراُس کی پڑھائی کاسلسلہ منقطع ہوا۔
1932ء میں روزا نے ریمنڈپارکس نامی حجام اور سول حقوق کے کارکن سے شادی کرلی۔ اُس نے انشورنس ایجنٹ کے طور پر اور لوگوں کے کپڑوں کومرمت کرنے کاکام کیا اور 1934ء میں ہائی سول ڈپلوما حاصل کرلیا۔ معاشی بحران کے دور میں افریقی امریکیوں کے لیے ملازمت کے مواقع بہت کم تھے اور مسلسل نسلی بدسلوکی کاسامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ پارکس اپنی خود نوشتہ سوانح عمری میں لکھتی ہے کہ ” گورے آپ کوگڑبڑپیداکرنے کاالزام دیتے حالانکہ آپ بالکل ایک نارمل انسان کی طرح عمل کررہے ہوتے۔ اس قسم کے امتیازی سلوک کاسامنا ہونے پر ہرمرتبہ پڑتا تھا۔ روزا پارکس نے Naacpمیں شمولیت اختیار کی، انجام کار 1943ء سے 1956ء تک منٹگمری چیپٹرکی سیکریٹری بنی۔ اُس نے Naacpیوتھ کونسل بھی شروع کی اور منٹگمری ووٹرزلیگ کی شروع کی ہوئی ووٹررجسٹریشن مہم میں بھی سرگرم ہوگئی۔
روزا پارکس منٹگمری کے ایک ڈیپارٹمنٹ سٹور پرڈیوٹی کے بعد گھر واپس آرہی تھی کہ بس میں اپنی سیٹ چھوڑنے سے انکار کردیا۔ ڈرائیور نے پولیس کوبلایا۔ انہوں نے پارکس کومنٹگمری کے ٹرانسپورٹیشن قوانین کی خلاف ورزی کے جرم میں قید کرکے جیل بھجوادیا۔ وہ ایک سوڈالر کی ضمانت پر رہاہوئی اور مقدمے کی سماعت 5دسمبر بروز سوموار طے پائی۔ چھٹی کے دن سیاہ فام برادری کے سات ہزار ارکان پارکس کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے جمع ہوئے ۔ اس اجتماع کے نتیجے میں ” منٹگمری امپروومنٹ ایسوسی ایشن“ کاقیام عمل میں آیا اور 26سالہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اس کاصدر منتخب ہوا۔ کنگ نے یک روزہ بس بائیکاٹ کی کال دی جسے بعد میں بڑھادیا گیا کیونکہ پارکس کومجرم قرار دے کر 10ڈالر جرمانہ اور 4 ڈالر عدالتی فیس ادا کرنے کی سزاسنائی گئی تھی۔ اُس نے یہ رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور منٹگمری سرکٹ کورٹ میں اپیل کردی۔ ان واقعات کے نتیجہ میں روزا پارکس اور اس کے شوہر دونوں ہی کواپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے اور انہیں ڈرایا دھمکایابھی گیا۔ آخر کار 1956ء میں یونائیڈسٹیٹس ڈسٹرکٹ کورٹ نے فیصلہ دیاکہ بسوں میں نسلی امتیاز غیر آئینی تھا۔ سپریم کورٹ نے اس رولنگ کو قائم رکھااور منٹگمری کی بسوں میں یہ امتیاز ختم کرنے کاحکم دیا۔ افریقی امریکیوں نے 381دن تک احتجاج کیا اس دوران اُن میں سے کوئی بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سوارنہ ہوا۔ آخر کاربسوں میں سیٹوں کی تخصیص ختم ہوگئی۔ منٹگمری کے پرامن بائیکاٹ نے سول حقوق کی تحریک کومہمیزدی اور سارے جنوبی امریکہ میں غیر متشدد مہمات کے لئے مثالی نمونہ بن گئی۔ مارٹن لوتھرکنگ جونیئر نے دیگر مقامات پر بھی دھرنوں اور بائیکاٹس کی قیادت کی۔ وہ منٹگمری والے واقعہ کے بعد قومی سطح پر مشہور ہوگیا تھا۔
روزا پارکس اوراُس کاشوہر منٹگمری میں کام نہ ملنے پر 1957ء میں ڈیٹرائٹ چلے گئے۔ وہاں پارکس نے کپڑے سینے کاکام کیا اور تحریک میں بھی سرگرمی کے ساتھ حصہ لیتی رہی۔ 1965ء میں وہ John Conyersکی سٹاف اسسٹنٹ بن گئی اور 1988ء میں ریٹائر ہونے تک اُس کے لیے کام کرتی رہی۔ پارکس کومختلف حوالوں سے احترام ملا۔ Naacpنے اُسے 1979ء میں Spingarn میڈل دیا۔ 1980ء میں وہ مارٹب لوتھرکنگ جونیئر” نان وائلنٹ پیس پرائز“ حاصل کرنے والی 9ویں فرد اوع پہلی عورت بنی۔ اُسی برس Ebonyمیگزین نے ایسی زندہ سیافام خاتون قرار دیاجس نے سول حقوق کی تحریک کوآگے بڑھانے میں سب سے زیادہ اثر ڈالا تھا۔ اس بات سے چند لوگ ہی اختلاف کریں گے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے