Perfume Kaise Bante Hain

پرفیوم کیسے بنتے ہیں

جمعرات مارچ

Perfume Kaise Bante Hain
کہتے ہیں کہ فرعون مصر کی ملکہ نے سب سے پہلے عطر بنایا تھا۔ اس نے مصر کے معبدوں پر چڑھائے جانے والے متبرک پھولوں کو چربی میں لپیٹ کر صحرا کی تیز دھوپ میں رکھا۔ اس تیز گرمی میں جب چربی پگھلی تو اس میں پھول بھی تحلیل ہو گئے ۔اس چکنے مائع کو ملکہ نے استعمال کیا تو ہر طرف مہک پھیل گئی اور فرعون نے اپنی ساری ملکاوں کے مقابلہ میں اس ملکہ کو ترجیح دینی شروع کر دی ۔

جب اسے اس قدر حوصلہ افزاء نتائج ملے تو اس نے مزید دوسری طرح کے عطر بھی بنائے اور نہ صرف خود استعمال کیے بلکہ فرعون اور اپنے دوسرے رشتہ داروں کو بھی تحائف دیے۔ملکہ کی چہیتی بیٹی کی شادی پر اسے جو جہیز میں تحائف دیے گئے ان میں صندل کے درخت سے کشید کردہ عطر بھی شامل تھا۔ آج کی دنیا میں جو قیمتی خوشبویں بہت معروف ومقبول ہیں ان میں چنبیلی ،عنصر اور صندل خاص اجزاء کے طور پر شامل کیے جاتے ہیں ۔

(جاری ہے)

چنبیلی کے پھولوں کا آبائی وطن مصر اور جزائر کو مور ہیں ۔آج بھی ان پھولوں کی زیادہ تر کاشت انہی علاقوں میں کی جاتی ہے ۔پرفیوم کی تیاری میں صرف چنبیلی ہی نہیں بلکہ درجنوں طرح کے دوسرے پھولوں اور جانوروں کی چربی کے علاوہ بعض اوقات جنگلی بلی کی گردن کے غدود(کیمیائی تطہیر کے بعد)بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
جانوروں کے اجزاء کے کشید کردہ مائع کو خوشبو کے محلول میں شامل کرنے کا مقصد خوشبو کو دیر تک بر قرار رکھنا ہوتاہے ۔

پر فیوم میں اتنے اجزاء ہوتے ہیں اور اتنی اقسام کے پھول ہوتے ہیں کہ کسی ایک ملک میں بہترین پر فیوم بنانے کے اجزاء پیدا نہیں ہوتے اس لئے بیسیوں اقسام کے پھولوں کی پتیوں کے علاوہ کئی دوسرے اجزاء درآمد کرنا پڑتے ہیں ۔ان میں سے بعض اجزاء اتنے قیمتی ہوتے ہیں اور ان کا حصول اس قدر مشکل بلکہ جان لیوا ہوتاہے کہ جو بھی انہیں حاصل کرنے پرفیوم انڈسٹری کو سپلائی کر سکے وہ راتوں رات کروڑ پتی بن سکتاہے۔


ہر سمت خوشبو بکھیرنے والے پرفیوم اور عطر بنانے کی تاریخ فراعین مصر سے چلی آرہی ہے۔آج کے جدید دور میں بھی قیمتی پرفیوم کے فارمولے سالہا سال کے پیچیدہ تجربات کے بعد بنائے جاتے ہیں ۔ان فارمولوں کی حفاظت آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے سر بستہ رازوں کی طرح کی جاتی ہے تاکہ کسی دوسری کمپنی کو ان کی ہوا تک نہ لگ سکے ۔فرانس کو آج کی دنیا میں پر فیوم انڈسٹری کا بادشاہ مانا جاتاہے ۔

مگر صرف فرانس ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک کی پرفیوم انڈسٹری میں یہ چلن عام ہے کہ خوشبو بنانے اور ان کی کوالٹی کنٹرول کے لئے جن لوگوں کو ملازم رکھا جائے ،ان کی ناک کا باقاعدہ بیمہ کروایا جاتاہے۔
یہ لوگ بے شک بہت تعلیم یافتہ نہ بھی ہوں مگر ان کے سونگھنے کی جس اتنی تیز ہوتی ہے کہ یہ کسی بھی طرح کی خوشبو سونگھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس خوشبو میں کون کون سے اجزاء شامل ہیں ۔

مگر جہاں ان کے سونگھنے کی حس بہت زیادہ ہوتی ہے وہاں یہ لوگ بہت جلد سینے کے امراض خصوصاً بے ترتیب سانس،حساسیت(Sensitiveity)کا شکار ہو جاتے ہیں ۔اپنی کمپنی میں ان افراد کو وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتاہے اور ان کے آرام اور سکون کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔پرفیوم انڈسٹری میں اس وقت تک کوئی پرفیوم مارکیٹ نہیں کیا جا سکتا جب تک ماہرین اس کی قبولیت کی سند نہ جاری کردیں۔


پرفیوم میں دوسرا قیمتی مادہ مشک ہے جو ایک خاص قسم کے ہرن کی ناف سے حاصل ہوتاہے ۔یہ خوشبو دار خشک شدہ رطوبت ہے جو نر آہوئے قسم کے ہرن سے حاصل کی جاتی ہے ۔مشک ناف کے قریب ایک جھلی دار تھیلی میں ہوتاہے ۔اس تھیلی کو ناف کی نسبت سے نافہ کہتے ہیں۔ مشک محض نر ہرن میں پایا جاتاہے مادہ میں نہیں ہوتا۔جب یہ نافہ پختہ ہو جاتاہے تو کئی میل تک کی ہوا معطر کر دیتا ہے۔ نافہ کے اندر دانے سیاہ سرخی مائل بو بہت تیز اور اس کا مزہ تلخ ہوتاہے ۔سب سے قیمتی مشک ختن کا مشک ہوتاہے ۔ختن دراصل چین کا ایک علاقہ ہے ،جہاں کے ہرن مشہور ہیں جن کے نافوں سے یہ اعلیٰ قسم کا مشک نکلتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-03-19

Your Thoughts and Comments

Special Women Beauty - Khoobsurti article for women, read "Perfume Kaise Bante Hain" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.