Zewraat Aap Ka Husn Barhayain

زیورات آپ کا حسن بڑھائیں

جمعہ اپریل

Zewraat Aap Ka Husn Barhayain

نورفاطمہ۔۔۔لاہور کالج
عورت اور زیورات ایک دوسرے کے لئے ہمیشہ ہی سے لازم وملزوم ہیں زیور کے بغیر عورت ادھوری سی لگتی ہے ۔زیورات آنکھوں کے علاوہ تقریباً جسم کے ہر حصے پر پہننے جاتے ہیں اور زیورات مختلف اسٹائل اور ڈیزائنوں میں دستیاب ہوتے ہیں عورت اور زیورات ایک دوسرے کے لئے ہمیشہ ہی سے لازم وملزوم ہیں زیور کے بغیر عورت ادھوری سی لگتی ہے ۔

زیورات آنکھوں کے علاوہ تقریباً جسم کے ہر حصے پر پہننے جاتے ہیں اور زیورات مختلف اسٹائل اور ڈیزائنوں میں دستیاب ہیں۔
سر کے زیورات:
عورتوں کے زیورات کو اگر دیکھا جائے تو ان کی ابتداء سر کے زیورات سے ہوتی ہے،ان میں ٹیکہ،جھومر اور ماتھاپٹی وغیرہ شامل ہیں ،ٹیکہ اگر چہ ماتھے پر لگایا جاتا ہے،لیکن اس کا ایک حصہ سر پر لگایا جاتا ہے ۔

(جاری ہے)


جھومرصرف دلہنیں اور شادی شدہ عورتیں لگاتی ہیں ،لیکن ماتھا پٹی بعض گھروں میں عورتیں عام زندگی میں بھی لگاتی ہیں۔
ناک کے زیورات:
شادی کے وقت دلہن کی ناک میں نکاح کے فوراً بعد ایک نتھ ڈالی جاتی ہے ،اس میں ایک نتھ بالے کی شکل ہوتی ہے ۔جبکہ دوسری نتھ جسے”بیسر“کہا جاتا ہے ،اسے بھی شادی کے وقت دلہن کو پہنا یا جاتا ہے ۔

اس کے علاوہ ایک زیورلونگ بھی ہے جو کہ شادی کے بعد دلہن کی نتھ اتار کر اس کی ناک میں ڈال دیا جاتا ہے ۔شادی شدہ عورتیں یہ لونگ سونے کی استعمال کرتی ہیں ۔جبکہ لڑکیاں کسی بھی مصنوعی دھات کی بنی ہوئی لونگ شوقیہ ناک میں ڈال لیتی ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹی سی بالی بھی ناک میں ڈالتی ہیں ۔بلاق بھی دیہاتی عورتیں ناک کے درمیان میں پہنتی ہیں۔
کان کے زیورات:
کانوں کے زیورات کے لئے لڑکیوں کے کان بچپن میں چھدوادئیے جاتے ہیں اور ان میں چاندی کے تارکی ہلکی ہلکی سی بالیاں ڈال دی جاتی ہیں ۔

یہ ایک طرح سے زیورات پہننے کی ابتداء ہوتی ہے ۔بعض اوقات والدین خود یابچی کے ننھیال والے بچی کے کانوں میں سونے کی بالیاں ڈال دیتے ہیں ۔بعد میں لڑکیاں عموماً اپنی پسند کے زیورات استعمال کرنا شروع کر دیتی ہیں ۔کانوں کے زیورات میں بالیاں ،ٹاپس،جھالے،بجلیاں ،بندے ،اور تراج وغیرہ شامل ہیں ۔
یہ زیورات اگر اب سے کچھ عرصے پہلے تک سونے ،چاندی وغیرہ کے ہی ہوتے تھے لیکن اب یہ زیورات مصنوعی دھاتوں کے اس قدر خوبصورت ہوتے ہیں کہ بعض اوقات انسان اصل ونقل کا فرق کرنا بھول جاتا ہے ،لیکن ہاں ان کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے اب وہ سفید پوش لوگ جویہ زیور سونے کا نہیں بنوا سکتے وہ بڑے آرام سے مصنوعی زیور خرید کر اپنی خواہشات کو پورا کر سکتے ہیں۔


گلے کے زیورات:
گلے کے زیورات میں مختلف انداز کے زیورات وقت اور فیشن کے ساتھ ساتھ بدل رہے ہیں ویسے عام طور سے یہ زیورات سونے کے ہی پہنے جاتے ہیں لیکن عورتیں کپڑوں کے رنگ سے میچ کرکے یا بعض اوقات کپڑے پر بنے ہوئے سلمیٰ ستارے کے کام سے میچ کرکے بھی زیوراستعمال کئے جاتے ہیں ۔
گلے کے زیور میں گلوبند،چندن ہار، سات لڑا ،چمپا کلی ،وغیرہ سونے کے بنائے جاتے ہیں ۔

ان کے علاوہ کچھ مخصوص تہذیبوں کے مخصوص زیور بھی گلے میں پہنے جاتے ہیں ۔مدراسی ہار ایک باریک سی پٹی ہوتی ہے ،جوعموماً پازیب جتنی چوڑی ہوتی ہے یہ ہار اپنی نفاست میں لاجواب ہے اور یہ نہ صرف مدراسی خواتین بلکہ عام خواتین بھی شوقیہ پہنتی ہیں ،چندن ہار ،چمپا کلی،وغیرہ۔
اگر اب اس قدر عام نظر نہیں آتے ہیں قیام پاکستان سے پہلے عورتوں کے زیورات میں یہ لازمی شامل ہوتے تھے ۔

موجودہ دور میں سات لڑے ہار کا بہت زیادہ شوفیشن ہے ۔سونے کے بنے ہوئے سات کی تو خیر بات ہی کیا ہے ،لیکن اب یہ ہار مصنوعی دھاتوں کے بھی بے حد خوبصورت مل جاتے ہیں ۔آج کل لڑکیاں گلے میں چھوٹے چھوٹے لاکٹ اور زنجیر استعمال کرتی ہیں جو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ نفاست کا تاثر بھی دیتی ہے۔
ہاتھوں کے زیورات:
ہاتھوں میں عام طور پر سے چوڑیاں پہنی جاتی ہیں ،یہ چوڑیاں عام طور سے کانچ کی ہوتی ہیں ،لیکن بعض اوقات یہ چوڑیاں مختلف دھاتوں سے بھی بنائی جاتی ہیں جس میں چاندی ،سونے ،تانبے اور لوہے وغیرہ کی بھی ہوتی ہیں۔

مصنوعی دھاتوں کی چوڑیاں بھی اتنی خوبصورت لگتی ہیں ،حتیٰ کہ قیمتی دھات کی چوڑیاں۔ ہاتھوں کے زیور میں کلائی ،نچبہ وغیرہ بھی شامل ہیں ،یہ چیزیں عام طور سے دلہنوں کو چڑھائی جاتی ہیں ۔بعض اوقات دیہاتی زیور بھی شہروں میں فیشن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ وہ چاہے تھر کے زیورات ہوں جو عموماً تانبے کے بنے ہوتے ہیں ۔
شہروں کی لڑکیاں مہنگے داموں خرید کر استعمال کرتی ہیں ۔

ہاتھوں میں چوڑیاں کے علاوہ ہاتھوں کی انگلیوں میں انگوٹھیاں بھی پہنی جاتی ہیں ،یہ انگوٹھیاں سونے ،چاندی اور کچھ عرصے پہلے تک پیروں کے زیورات چاندی کے اور بھاری بھاری ہوا کرتے تھے ،لیکن بدلتے ہوئے فیشن نے اس میں نفاست اور خوبصورتی پیدا کر دی ہے ،اب موجود وقت میں یہ ہر ڈیزائن میں موجود ہیں۔ زرقون کے علاوہ دوسری مصنوعی دھاتوں کی ہوتی ہیں ۔


پیروں کے زیور:
پیروں کے زیور ہمیشہ سے ہی برصغیر کی عورتیں استعمال کرتی رہتی ہیں ،جیسے کہ پیروں میں آج کل بیچنگ پازیب کافیشن ہے ۔میچنگ سے مطلب یہ ہے کہ اگر کپڑوں پر گولڈن کام ہے ،گولڈن پازیب،اگر
سلور کام ہے تو سلور پازیب اور پیروں کی انگلیوں میں بچھیاں ،جوخوبصورت اور الگ الگ ڈیزائن کی ہوتی ہیں ،یہ زیور کچھ عرصہ قبل ہماری دیہات کی عورتیں پہنا کرتی تھیں ،آج کل شہروں میں بھی اس کا عام رواج ہو گیا ہے ۔پیروں کا ایک زیور جوکہ کڑانما ہوتا ہے اور ایک ہی پاؤں میں پہنا جاتا ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-04-26

Your Thoughts and Comments

Special Women Beauty - Khoobsurti article for women, read "Zewraat Aap Ka Husn Barhayain" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.