Blush On Ghulaab Ki Manind Khiltay Chehray Ka Raaz

بلش آن گلاب کی مانند کھلتے چہرے کا راز

Blush On Ghulaab Ki Manind Khiltay Chehray Ka Raaz
میک اپ میں ہر چیز کااپنا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔مثال کے طور پر بیس بالکل درست لگی ہوئی اور چہرے کے ہر حصے پر یکساں بلینڈہونی چاہئے۔ اسی طرح آئی میک اپ بھی بہت مہارت اور احتیاط کامتفاضی ہوتا ہے اس کے بعد بلشر کی باری آتی ہے۔ بلشر کو درست انداز میں لگانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے اس کے بعد لپ اسٹک کی باری آتی ہے اگر ان سب عوامل میں سے کسی ایک میں بھی ذرا سی بھی اونچ نیچ ہوجائے تو چہرے کے ساتھ ساتھ آپ کی پوری شخصیت کاتاثر مسخ ہو جاتا ہے۔

میک اپ کرنا ہی ایک فن نہیں ہے بلکہ آپ کی ساخت، رنگت عمر اور شخصیت وتقریب کے لحاظ سے میک اپ سے متعلق درست اشیاء کاانتخاب بھی ایک اہم امر ہے یہاں ہم بات کررہے ہیں بلشر کی بلشر کریم اور پاؤڈر کی شکل میں دستیاب ہے۔

(جاری ہے)

کریم اور پاؤڈر میں سے انتخاب آپ اپنی سہولت کے مطابق ہوسکتی ہیں۔ گرمیوں میں پاؤڈر بلشراور سردیوں میں کریم بلشرکا استعمال بہت سہل ہوتا ہے۔

اپنے چہرے پر بلشرکودرست طریقے سے لگانے کے لئے بار بار پریکٹس کریں اور اس کے لئے بہت تھوڑی مقدار سے آغاز کردیں۔ بلشر لگاتے ہوئے آپ پور انداز میں مسکرائیں۔ اب رخسار کی ہڈی کاجو حصہ سب سے زیادہ ابھررہاہو اور سب اوپر ہووہاں سے بلشر لگانا شروع کریں۔
کریم بلشر استعمال کبھی بھی براہ راست اپنی جلد پر نہ کریں بلکہ اس کو پہلے اپنی انگلیوں کے پوروں پر لگائیں پھر گالوں پر اپلائی کریں۔

پاؤڈر بلشر کو برش میں لگائیں اور اضافی پاؤڈر کواپنے چہرے پر لگانے سے قبل ذراسا جھڑک کرجھاڑ دیں۔ اس کے بعد بلشر برش کو گالوں پر پھیرتے ہوئے نہایت نفاست سے بلشر اپلائی کریں دھیان رہے بہت زیادہ مقدار میں بلشر لگانے سے آپ اپنی عمر سے 10سال بڑی بھی لگ سکتی ہیں چنانچہ گالوں کو قدرتی انداز عطا کرنے کے لیے کم مقدار میں بلشر لگائیں۔ آج کل فیشن میں شمری ماربل کلر بلش آن بہت ان ہیں۔ آپ ان کااستعمال کرکے بھی اپنی خوبصورتی میں اضافہ کرسکتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2016-06-30

Your Thoughts and Comments

Special Face Care & Skin Care article for women, read "Blush On Ghulaab Ki Manind Khiltay Chehray Ka Raaz" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.