بند کریں
خواتین مضامینبچے کی نگہداشتچوٹ یا ضرب لگنے کی صورت میں

مزید بچے کی نگہداشت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چوٹ یا ضرب لگنے کی صورت میں
جب اس حصے کو چھوا بھی جائے یا حرکے دینے کی کوشش کی جائے تو درد ناقابل برداشت ہوجاتا ہے
چوٹ ضرب یا تشدد
شدید درد: جب اس حصے کو چھوا بھی جائے یا حرکے دینے کی کوشش کی جائے تو درد ناقابل برداشت ہوجاتا ہے۔
ورم: مقام مجروح سوج گیا ہوتا ہے ایسی حالت میں ہڈی کی ٹوٹی ہوئی حالت کامعلوم کرنا ممکن ہوجاتا ہے سوائے ایکس رے کی تصویر کے اگر شک ہو تو ہمیشہ ہی سمجھنا چاہیے کہ ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
بدوضعی: ہڈی کا تسلسل قائم نہیں رہتا اور اس میں غیر طبعی حرکات پیدا کی جاسکتی ہیں۔
آواز: ٹوٹے ہوئے سروں کے آپس میں رگڑنے سے چٹخنے کی آواز سنائی دیتی ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ٹوٹی ہوئی ہڈی کے دونوں سرے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے ہوں اگر علیحدہ ہونے پر کوئی ایک سرا گوشت میں دھنس گیا ہو تو یہ آواز پیدا نہ ہوگی۔
کسر کے مجروح کی فوری امداد کے مقاصد:
۱۔ہڈی کے ٹوٹ جانے سے پیدا شدہ زخم کو فوراً ڈھانپ دیا جائے تاکہ جراثیم سے تعدی کا خطرہ جاتا رہے اور اگر پیدا شدا زخم سے خون بہہ رہا ہو تو اسے بند کرنے کی کوشش کریں۔
۲۔مزید نقصان سے بچانے کے لیے ضروری ہوگا کہ جس مقام پر ہڈی ٹوٹ گئی ہے وہاں کسی قسم کی حرکت نہ ہونے پائے۔
۳۔مجروح کو ہسپتال پہنچا دیا جائے یا کسی ماہر جراحت کے حوالے کردیا جائے۔
چند ہدایات:
۱۔بازو یا ٹانگ کو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کریں اس کو جس حالت پر پائیں اسی حالت پر اسے بے حرکت کرنے کی کوشش کریں۔
اگر بازو حرکت نہ کرسکے تو اسے بالعموم جسم کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے اگر ٹانگ مجروح ہوگئی ہو تو اسے دوسری ٹانگ کے ساتھ باندھ دیں البتہ جب دونوں ٹانگیں مجروح ہوگئی ہوں تو کھپچیاں باندھنی پڑتی ہیں بازوؤں یا ٹانگوں کو جب بے حرکت کریں تو اس کے ساتھ ٹوٹے ہوئے مقام سے اوپر اور اس کے نیچے کا جوڑ بھی باندھ دیں تاکہ یہ دونوں جوڑ بھی حرکت نہ کرسکیں۔
۲۔بازو یا ٹانگ کو باندھتے وقت اس پر کافی روئی یا کپڑا وغیرہ رکھیں تاکہ سب طبعی اور غیر طبعی نشیب پر ہو جائیں۔
۳۔اگر مجروح ہوش میں ہو تب بھی اس کو مزید کسی تکلیف کے بغیر مناسب سہارا دے کر ہسپتال پہنچا دیا جائے جہاں پر صحیح علاج ہوسکے گا مجروح کی معمولی تکالیف کو رفع کرنے میں وقت ضائع نہ کریں۔
۴۔جب ٹوٹی ہوئی ہڈی والے عضو کو باندھ کر بے حرکت کیا جارہا ہو تو ہمیشہ معمولی گرہ ہی لگانی چاہیے یا ایسی گرہ لگائیں جو ازار بند باندھتے وقت لگائی جاتی ہے تاکہ آسانی سے کھولی بھی جا سکے البتہ اسے بڑی مضبوطی سے باندھنا چاہیے تاکہ یہ خود بخود نہ کھل جائے ورنہ راستے میں بندھن کے ڈھیلے ہوجانے سے باندھنے کامقصد فوت ہوجائے گا نیز جو گرہ بھی لگائی جائے اسے اس مقام سے دور ہونا چاہیے جہاں سے ہڈی ٹوٹ گئی ہے پٹی کو اتنا بھی نہ کسیں کہ دوران خون رک جائے۔
دوران خون بند ہونے کی علامات:
۱۔ہاتھ یا پاؤں کی انگلیوں کا سفید یا نیلا ہوجانا یا طبعی رنگ کا پھیلا پڑجانا۔
۲۔مجروح مقام سے نیچے عضو کا سن ہوجانا۔
۳۔کلائی یا ٹخنوں کے قریب نبض محسوس نہ ہونا۔
دوران خون کے متعلق اگر شک ہو تو کس کر باندھی ہوئی تمام پٹیوں اور بندھنوں کو ڈھیلا کردیں،اگر یہ معلوم نہ ہو کہ ہڈی ٹوٹ گئی ہے یا نہیں تو بھی اس شخص کی امداد اس طرح کریں جیسے ہڈی ٹوٹ گئی ہو۔
بازو کی بالائی ہڈیوں کا ٹوٹ جانا!
اس کی مندرجہ ذیل دو صورتیں ہوسکتی ہیں:
۱۔پنسلی یا کندھے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا:
اس پر تکونی پٹی کی گل پٹی باندھیں مجروح کو کرسی پر بٹھا کر ہسپتال لے جائیں یہی وضع اس کے لیے کم سے کم تکلیف دہ ہوتی ہے۔
۲۔کندھے سے کہنی تک کی ہڈی کا ٹوٹ جانا!
فوری امداد: بڑی نرمی کے ساتھ کہنی کو بند کریں اور مجروح طرف کے ہاتھ کی انگلیوں کے سروں کو دوسری طرف کندھے کی نوک پر لے جائیں اوراس حالت پر قائم رکھنے کے لیے گل پٹی باندھیں جب اس ہڈی کا نچلا حصہ یا کہنی کے پاس سے ہڈی ٹوٹ گئی ہو تو اس حالت میں کہنی کو بند کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ بازو کو جسم کے ساتھ باندھ دیں اور بازو کو بالکل سیدھا یا قدرے جھکا ہوا رکھیں اور جب باندھیں تو بازو اور جسم کے درمیان رفائد یا روئی کی کافی مقدار رکھیں اور بازو کے اوپر سے ایک چوڑی پٹی یا دو پٹیاں کمر کے اردگرد لپیٹ کر بازو کو وہاں قائم کردیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے