Sard Mosaam Or Jildi Masail - Skin Care

سرد موسم اور جلدی مسائل - جلد کی حفاظت

بدھ دسمبر

Sard Mosaam Or Jildi Masail
نسرین شاہین
قدرت نے ہمارا جسم ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بدلتے موسم کے مطابق خود بھی بدلتا رہتا ہے۔ہمارا جسم اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ایک حیرت انگیز ایئرکنڈیشنر ہے۔یہ ہر قسم کا موسم ایک مناسب حد تک برداشت کر سکتا ہے۔موسم سرد ہو یا گرم،ہمارے جسم کا اندرونی درجہ حرارت صحت کی حالت میں تقریباً یکساں رہتا ہے۔

گرمی میں پسینا آتا ہے تو جسم کی فالتو حرارت جسم سے خارج ہو جاتی ہے اور جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔
جسم کے درجہ حرارت کے نظام کو ہمارا دماغ کنٹرول کرتا ہے۔گرمیوں میں پسینا آنے سے پانی کے بخارات خارج ہونے کی وجہ سے ہم ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں۔اگر جسم سے پسینے کے ذریعے گرمی کے اخراج کا قدرتی نظام نہ ہوتا تو ہمارا جسم تنور کی طرح گرم ہو جاتا،اعضا کام کرنا بند کر دیتے اور ہماری موت بھی واقع ہو سکتی تھی۔

(جاری ہے)

قدرت نے ہماری حفاظت کا انتہائی جامع اور خودکار نظام بنایا ہے۔
گرمی کے موسم میں خون کی زیادہ مقدار جلد کی سطح کے قریب گردش کرتی ہے۔جلد کی سطح پر بہت باریک باریک رگیں ہیں،لہٰذا جب جلد کے مساموں سے پسینا خارج ہوتا ہے تو ہمیں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔موسم سرما میں پسینا نہیں آتا تو جسم کی حرارت خارج نہیں ہو پاتی اور جسم کا درجہ حرارت یکساں رہتا ہے۔

یہ رب کریم کا بنایا ہوا عجیب و غریب نظام ہے۔کھیل کود،ورزش یا چہل قدمی کرتے ہوئے جسم کو حرارت کا احساس ہوتا ہے،یعنی سردی کا احساس نہیں ہوتا یا پھر کم احساس ہوتا ہے۔
موسم سرما میں جلدی مسائل سر اٹھانے لگتے ہیں۔جلد خشک اور کھردری ہو جانے کے ساتھ اکثر خواتین اس موسم میں جلد پھٹنے کی شکایت بھی کرتی ہیں۔اس کا سبب ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونا ہے۔

مختلف جلدی مسائل کے جسم پر موسم کی مناسبت سے اثرات بھی مختلف پڑتے ہیں، جیسے خارش وغیرہ۔گرمی کے موسم میں ہونے والی خارش اور سردی کے موسم کی خارش کے اثرات اور اسباب مختلف ہوتے ہیں۔ سردی کے موسم میں پھوڑے پھنسیاں بھی نکلتے ہیں،جس کی سب بڑی وجہ جسم کے جلدی مساموں کا بند ہو جانا ہے۔
ان مساموں کے بند ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سردی کی شدت کی وجہ سے اکثر لوگ خصوصاً خواتین نہانے،دھونے میں سستی کرتی ہیں۔

دوسری وجہ سردی میں بند جگہوں پر رہنا بھی ہے،یعنی سردی سے بچاوٴ کے لئے ہم اکثر گھروں اور دفتروں تک ہی محدود ہو جاتے ہیں۔ تیسری وجہ روغنی غذاؤں کا زیادہ کھانا بھی ہے،جب کہ چوتھی وجہ پانی کم سے کم پینا ہے۔سب سے بڑی وجہ مسلسل گرم لباس پہنے رہنا ہے، جس سے مساموں کو مناسب اوکسیجن کی فراہمی کا عمل رک جاتا ہے۔
مساموں کو مطلوبہ اوکسیجن کی مقدار نہ ملنے سے جلد پر خشکی کا غلبہ ظاہر ہونے لگتا ہے۔

مساموں کی بندش کے باعث جلدی خلیات (سیلز) میں فاضل رطوبات کے جمع ہونے کے رد عمل کے طور پر جلدی مسام انھیں خارج کرنے کے لئے پھوڑے،پھنسیوں کے نکلنے کا سہارا لیتے ہیں۔علاوہ ازیں جسم پہ خارش کے ہونے کی دوسری وجوہ بھی ہو سکتی ہیں،مثلاً خون کی خرابی،پھپوندی(فنگس)،ایکزیما (Eczema) ،برص،چنبل،دائمی قبض،ذیابیطس،قوت مدافعت کی کمی یا کسی دوا یا غذا کا ردعمل وغیرہ۔

اگر ایسا کسی بیماری کی وجہ سے ہے تو اس کا علاج کرانا بہت ضروری ہے۔بیماری کا خاتمہ ہوتے ہی خارش خود بہ خود ختم ہو جاتی ہے۔
جلدی خارش اگر کسی غذا یا دوا کے رد عمل کی وجہ سے ہے تو آپ اپنے معالج سے روزمرہ کی کھائی جانے والی غذاؤں اور دواؤں پر نظر ثانی کروا سکتے ہیں۔یوں خارش سے نجات مل سکتی ہے۔جلدی مسام بند ہونے،خشکی بڑھنے،غسل کم کرنے،روزانہ روغنی غذائیں کھانے اور اوکسیجن کی کمی کی وجہ سے پھوڑے پھنسیوں کے نکلنے کی صورت میں دن بھر میں پانی زیادہ سے زیادہ پینا بہت ضروری ہے۔

سردی کے موسم میں ہماری جلد کی سطح اور سانس کی نمی کے ذریعے روزانہ تقریباً چھ سو ملی لیٹر پانی ہمارے جسم سے خارج ہو جاتا ہے،یعنی تقریباً تین گلاس پانی ۔گرمی کے موسم میں یہ مقدار دو ہزار ملی لیٹر بھی ہو سکتی ہے،لہٰذا ہمیں روزانہ آٹھ سے بارہ گلاس پانی پینا چاہیے۔
جن افراد کو خارش اور پھوڑے پھنسیاں نکلنے کا عارضہ لاحق ہو،انھیں نیم گرم پانی میں نیم یا بیری کے پتے اُبال کر یا ڈیٹول کے چند قطرے ملا کر روزانہ غسل کرنا چاہیے۔

اسی طرح خارش اور پھوڑے پھنسیوں والے افراد کو ہیٹر وغیرہ سے بھی مکمل طور پر بچنا چاہیے۔اس کے علاوہ گھر اور دفتر کی چار دیواری میں گرم یا اُونی لباس کے بجائے کاٹن(سوتی)کے نرم،سادہ اور آرام دہ لباس زیب تن کریں،البتہ نرم لباس کے اوپر شال،سویٹر یا کوٹ وغیرہ پہننے میں کوئی قباحت نہیں۔جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔جلدی مسائل سے بچنے کے لئے موسم سرما میں زیتون کے تیل کا مساج بھی مفید ہے۔


علی الصباح تازہ ہوا میں تیز قدموں سے چلنا اور لمبی سانسوں کے ساتھ اوکسیجن جذب کرنا صحت کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے۔صبح کی سیر ضرور کریں،تاکہ جسم کو تازہ اوکسیجن جن کی وافر مقدار میسر آئے۔صبح کی سیر ہمیشہ سر سبز اور ہرے بھرے ماحول میں کرنی چاہیے۔تازہ ہوا جلد کے لئے مفید ہے۔یہ جلد کو تروتازہ رکھنے میں اعانت کرتی ہے۔اس طرح صبح کی سیر مکمل فوائد کے حصول کا ایک اچھا ذریعہ بنتی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق سرد موسم میں جلدی مسائل سے نجات پانے اور جلد کو تروتازہ رکھنے کے لئے زیادہ پانی پینا اور اوکسیجن کا حصول شرط ہے۔یہ جلد کی خشکی دور کرکے نمی کو برقرار رکھنے میں بے حد معاون ہیں۔
سرد موسم میں جلد کی خشکی دور کرنے کے لئے زیتون کے تیل کا مساج کریں۔زیتون کا تیل جلد کی خوبصورتی برقرار رکھنے میں زمانہ قدیم ہی سے اہمیت و افادیت رکھتا ہے۔

چہرے پر شادابی اور جسم پر اس کی مالش سے جسم میں توانائی وطاقت آتی ہے،جب کہ جلد کی خشکی بھی دور ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ جلد میں چمک اور ملائمت بھی آجاتی ہے۔زیتون کے تیل سے جلد کو نکھار ملتا ہے۔اسی طرح اگر روغن بادام سے بھی جسم کی مالش کریں تو خشک جلد تروتازہ اور شاداب رہتی ہے۔سردی کے موسم میں جلد چند مسائل کا شکار ضرور ہوتی ہے،مثلاً جلد خشک اور کھردری ہو جانے کے ساتھ اکثر خواتین جلد کے پھٹنے کی شکایت بھی کرتی ہیں۔اس کا سبب ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونا ہے،لیکن سرد موسم میں جلد پر زیادہ توجہ دیں اور احتیاط کریں۔اس طرح جلد کی خوبصورتی اور صحت برقرار رہ سکتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-12-16

Your Thoughts and Comments

Special Skin Care article for women, read "Sard Mosaam Or Jildi Masail" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.